بندرگاہ پر جہازوں کی کلیئرنس نہ ہونے سے سرمایہ کار پریشان


پورٹ قاسم پر کروڑوں روپے مالیت کے سویابین اور کنولہ کے جہازوں کی کلیئرنس نہ ہونے سے سرمایہ کار پریشان ہیں اور انہوں متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پورٹ قاسم پر کروڑوں روپے مالیت کے سویا بین اور کنولہ میل کے چار جہاز کلیئرنس کے منتظر ہیں اور کلیئرنس نہ ملنے پر سرمایہ کار پریشان ہیں جس کے بعد انہوں نے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا ہے۔

اس حوالے سے آل پاکستان سولونٹ ایکسٹریکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے منسٹری آف فوڈ سیکیورٹی کو خط لکھا ہے جس میں حکومت سے سویابین، کوکنگ آئل سیڈز کی درآمد میں حائل کسٹمز رکاوٹیں دور کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

ایسوسی ایشن کی جانب سے وزارت خوراک کو بھیجے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پورٹ قاسم پر آئے کنولہ اور سویا بین کے جہازوں کو کلیئرنس نہیں دی جا رہی جس کی وجہ سے سرمایہ کار پریشان ہیں۔ پورٹ پر کروڑوں روپے مالیت کے سویا بین اور کنولہ میل کے چار جہاز کلیئرنس کے لیے کھڑے ہیں۔

خط میں وزارت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ کسٹم انٹیلی جنس نے نان جینی ٹیکل سیڈز کی درآمد کو جواز بنا کر کلیئرنس روک دی ہے۔ کلیئرنس نہ ہونے سے فیڈ ملز اور خوردنی تیل کمپنیوں کو خام مال کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب کنولہ اور سویا بین کی کلیئرنس نہ ہونے سے پورٹ پر موجود درآمدی سیڈز کی خرابی کا بھی خدشہ ہے۔

مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پورٹ قاسم آؤٹر چینل میں ساڑھے four کروڑ ڈالر کے درآمدی کنسائنمنٹ پانی میں کھڑی ہیں۔ بیج درآمد پر پالیسی کو واضح نہیں کیا گیا تو 6 کروڑ میٹرک ٹن بیج کی درآمد متاثر ہوسکتی ہے۔ دو جہازوں کی کلئیرنس متاثر ہونے سے چکن فیڈ اور خوردنی تیل کی قیمت دگنی ہوگئی ہے۔ سویا بین کا استعمال جانوروں کی فیڈ میں ہوتا ہے چکن کی قیمت 50 روپے کلو تک بڑھ گئی ہے۔

خط میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کنولہ کی سپلائی متاثر ہوئی تو خوردنی تیل کی قیمت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ایسوسی ایشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بیجوں کی کرشنگ پر پابندی نہیں۔ کسٹم نے غلط معلومات پر کنسائمنٹ روکے۔ اس حوالے سے حکومت پالیسی واضح کرے اور سویا بین وکنولہ کی کرشنگ پر نوٹیفکیشن جاری کرے۔

About admin

Check Also

ٹی ڈی اے کے سابق سربراہ ایس ایم منیر انتقال کرگئے

کراچی: شہر قائد کی معروف کاروباری شخصیت ایس ایم منیر مختصر علالت کے بعد خالق …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *