معاشی پریشانیوں کا شکار پاکستان قرض کے پہاڑ تلے دب گیا


کراچی : پاکستان کے قرض اور واجبات 62 کھرب پچاس ارب روپے تک پہنچ گئے، گزشتہ سال قرض اور واجبات کی رقم اکیاون اعشاریہ ایک کھرب تھی۔

تفصیلات کے مطابق معاشی پریشانیوں کا شکار پاکستان کے قرض اور واجبات میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک نے پاکستان کے قرضوں سے مطالق اعدادوشمار جاری کر دیئے ، جس میں بتایا گیا کہ رواں سال ستمبر تک پاکستانی قرضوں اور واجبات میں بارہ کھرب روپے کا اضافہ ہوا جو 23.7 فیصد ہے۔

مرکزی بینک کا کہنا تھا کہ ملکی قرض اور واجبات باسٹھ کھرب پچاس ارب روپے تک پہنچ گئے، گزشتہ سال قرض اور واجبات کی رقم اکیاون اعشاریہ ایک کھرب تھی۔

اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال اس رقم میں نواعشاریہ سات فیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ رواں سال اس میں تئیس اعشاریہ سات فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ پچھلے تین ماہ کے دوران پاکستان نے تین کھرب چھپن ارب روپے کی ادائیگیاں کی ہیں اور بیرونی قرض انتیس کھرب ستر ارب روپے سے بڑھ کر چھبیس کھرب پچاس ارب روپے ہو گیا۔

مرکزی بینک کے مطابق تین ماہ میں حکومتی قرض تیرہ کھرب بیاسی ارب سے بڑھ کر تقریبا اٹھارہ کھرب روپے پر پہنچ گیا، آئی ایم ایف کا قرض جو جولائی ستمبر دوہزار بائیس میں ایک کھرب بیس ارب روپے پر تھا وہ بڑھ کر رواں سال تین ماہ میں ایک کھرب تہتر ارب روپے پر چلا گیا ہے.

اس حوالے سے ماہر معاشیات مزمل اسلم نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کو قرض اتارنے کیلئے قرض لینا پڑتا ہے، پی ٹی آئی حکومت نے قرض لیا لیکن آمدنی ،ایکسپورٹ بڑھائی۔

مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دورمیں قرض کی ادائیگی بھی ہورہی تھی اورآمدنی بھی بڑھ رہی تھی ، موجودہ حکومت نے جوقرض 6ماہ میں لیا یہ یومیہ 35ارب روپے بنتاہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ دیکھنا یہ چاہیے کہ ملک کی معاشی صورتحال پر اعدادوشمار کیا بتا رہےہیں ، ڈیفالٹ رسک کےاعدادوشمار بتا رہے ہیں کہ پاکستان بری طرح پھنس گیا ہے۔

About admin

Check Also

ٹی ڈی اے کے سابق سربراہ ایس ایم منیر انتقال کرگئے

کراچی: شہر قائد کی معروف کاروباری شخصیت ایس ایم منیر مختصر علالت کے بعد خالق …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *