چین میں کورونا وائرس : تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی


بیجنگ : چین میں کورونا کیسز میں اضافے اور کساد بازاری کے خدشات کے سبب تیل کی طلب میں کمی کے امکانات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گرگئیں۔

تفصیلات کے مطابق چین میں کورونا کیسز میں ہونے والے مسلسل اضافے کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں نافذ کیے جانے والے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں تیل کی طلب میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔

تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کی وجہ چین میں کورونا کی وبا میں پھیلاؤ کے باعث دیکھی گئی جس سے خدشہ ظاہر پیدا ہوا ہے کہ دنیا میں توانائی کے ایک بڑے صارف کی پیٹرولیم مصنوعات کی طلب مزید کم ہوسکتی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے خام تیل درآمد کرنے والا ملک چین کورونا وبا کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے جس نے ایندھن کی طلب میں کمی کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

مذکورہ صورتحال کے پیش نظر بدھ کے روز تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، برینٹ کروڈ فیوچر 60 سینٹ یا 0.6 فیصد کمی کے ساتھ 0501 جی ایم ٹی تک 93.26 ڈالر فی بیرل پر آگیا جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ فیوچر 69 سینٹ یا 0.eight فیصد گر کر 86.23 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔

چین میں کوویڈ19 کے بڑھتے ہوئے کیسز اور لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں نرمی کے بعد پیدا ہونے والی امیدوں کے باوجود تیل کی طلب میں اضافے کے بجائے اس کا تاثر کم ہورہا ہے۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی آئی ای اے نے 2023 میں تیل کی طلب میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے جو اس سال 2.1 ملین بی پی ڈی سے کم ہو کر1.6 ملین بی پی ڈی ہوجائے گی۔

چین میں حکام کورونا وبا کی نئی لہر سے نبرد آزما ہیں جہاں ملک کے سب سے بڑے شہر شنگھائی میں لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے جس سے توانائی کی طلب میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے، اس کی معاشی صورتحال کا عالمی منڈی میں تیل اور صنعتی مواد کی کھپت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔


About admin

Check Also

ٹی ڈی اے کے سابق سربراہ ایس ایم منیر انتقال کرگئے

کراچی: شہر قائد کی معروف کاروباری شخصیت ایس ایم منیر مختصر علالت کے بعد خالق …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *