کوکنگ آئل مہنگا ہونے پر سویابین آئل کے استعمال میں اضافہ


ممبئی : پام آئل کے سب سے بڑے برآمد کنندہ ملک انڈونیشیا میں پام آئل کی ترسیل پر پابندی کے بعد سویابین آئل کی خریداری میں ریکارڈ اضافہ سامنے آیا ہے۔

اس صورتحال کے بعد پام، سویا اور سورج مکھی آئل کے سب سے بڑے درآمد کنندہ بھارت میں رواں مالی سال پام آئل کی درآمدات میں نمایاں طور کمی سامنے آئی ہے۔

اس حوالے سے ایک تجارتی ادارے نے بتایا ہے کہ رواں مالی سال 2021/22 میں بھارت کی پام آئل کی درآمدات پچھلے ایک سال پہلے کے مقابلے میں4.eight فیصد کم ہوئی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈونیشیا کی جانب سے پام آئل کی ترسیل پر پابندی کے بعد سویا آئل کی بیرون ملک خریداری 45.three فیصد بڑھ کر ریکارڈ بلندی تک پہنچ گئی ہے۔

ممبئی میں واقع سالوینٹ ایکسٹریکٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 31 اکتوبر کو ملک کی پام آئل کی درآمدات ایک سال پہلے8.three ملین ٹن سے کم ہو کر7.9 ملین ٹن رہ گئیں۔

ایس ای اے کے مطابق پام آئل برآمد کرنے والے سرفہرست ملک انڈونیشیا نے رواں سال 2022 کی پہلی ششماہی میں مقامی قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے ملکی برآمدات پر مختلف پابندیاں عائد کی تھیں۔

مذکورہ پابندیوں نے پام آئل کو سویا آئل اور سورج مکھی کے تیل کی طرح مہنگا کردیا، جس سے بھارتی ریفائنریز پام آئل کی خریداری کم کرنے پر مجبور ہوئیں۔

مزید پڑھیں : پام آئل کی قیمت میں مزید اضافے کا امکان

واضح رہے کہ بھارت میں کوکنگ آئل خوراک کا بنیادی حصہ ہے، دنیا میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ کوکنگ آئل اور پہلے نمبر پر سب سے زیادہ ویجیٹیبل آئل بھارت درآمد کرتا ہے، اس کی ضرورت کا تقریباً 56 فیصد کوکنگ آئل سات سے زیادہ ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔

بھارت میں عام طور پر پام، سویا بین یا سن فلاور آئل میں کھانا بنتا ہے، پام آئل کی 90 فیصد ضروریات انڈونیشیا اور ملائیشیا سے پوری کی جاتی ہیں جبکہ اس کا تقریباً نصف فیصد صرف انڈونیشیا سے درآمد کیا جاتا ہے۔


About admin

Check Also

ٹی ڈی اے کے سابق سربراہ ایس ایم منیر انتقال کرگئے

کراچی: شہر قائد کی معروف کاروباری شخصیت ایس ایم منیر مختصر علالت کے بعد خالق …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *