مہنگائی کے اس دور میں بچت کیسے کی جائے؟


کرونا وائرس کے بعد پوری دنیا کی معیشت کو ایک جھٹکا لگا ہے اور پوری دنیا میں ہی مہنگائی میں تاریخی اضافہ ہوگیا ہے۔ تاہم پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی آسمان کو چھونے لگی ہے اور ہر شے کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔

ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے اپنی آمدنی کے ذرائع بڑھائے جائیں تاکہ اخراجات بھی پورے ہوسکیں، اور بچت بھی کی جاسکے۔

آج دنیا بھر میں کفایت شعاری کا عالمی دن یعنی ورلڈ سیونگز ڈے منایا جارہا ہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز سنہ 1924 میں ورلڈ سوسائٹی آف سیونگ بینکس کی جانب سے کیا گیا تاکہ لوگوں میں کفایت شعاری اور پیسے جمع کرنے کا شعور اجاگر کیا جاسکے۔

آج اس دن کے موقع پر آپ کو بچت کرنے کے لیے کچھ ٹپس بتائی جا رہی ہیں جنہیں اپنا کر اپنی کمائی کو محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

آمدن کا کتنے فیصد بچانا ضروری ہے؟

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شخص کو اپنی آمدن کا 50 فیصد حصہ ضروریات پر خرچ کرنا چاہیئے، 30 فیصد حصہ مشغلوں اور تفریحات پر، جبکہ 20 فیصد حصے کو لازمی محفوظ کرنا چاہیئے۔

سرمایہ کاری ۔ پیسہ محفوظ کرنے کا بہترین طریقہ

پیسہ بچانے کا سب سے آسان طریقہ سرمایہ کاری کرنا ہے، اس کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے جمع ہونے کا انتظار مت کریں بلکہ ایسی سرمایہ کاری ڈھونڈتے رہیں جہاں کم پیسہ لگایا جاسکتا ہو۔

چھوٹے پیمانے پر شروع کیے جانے والے کاروبار اس کے لیے بہترین ہیں جبکہ خالص سونا خرید کر محفوظ کرلینے سے بھی ایک بڑی رقم محفوظ ہوجاتی ہے۔

ایک ہی جگہ سرمایہ کاری سے گریز

اپنی تمام جمع پونجی کو ایک ہی جگہ محفوظ رکھنے، یا ایک ہی جگہ پر سرمایہ کاری کرنے سے گریز کریں۔

اگر آپ نے کسی ایک ہی کاروبار میں بہت ساری سرمایہ کاری ہے تو نقصان کی صورت میں آپ اپنی تمام جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

معمولی اخراجات بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں

روزمرہ اخراجات پر نظر رکھیں۔ کرائے، بل اور دیگر مقررہ رقوم کی ادائیگی کے بعد چھوٹے چھوٹے اخراجات کے لیے الگ رقم مختص کریں، جیسے کہ گاڑی کے پیٹرول کے لیے۔ مہینہ بھر کے پیٹرول کی رقم الگ رکھ دیں اور پیٹرول اس میں سے ڈلواتے رہیں۔

اس طرح اگر یہ رقم مہینے سے پہلے ختم ہوگئی تو آپ کو ٹریک کرنے کا موقع ملے گا کہ رواں ماہ اضافی پیٹرول کیوں ڈلوانا پڑا۔

معیاری اشیا خریدیں

شاپنگ کرتے ہوئے معیار کا خاص خیال رکھیں۔ ہر ماہ سستی چیزیں خریدنے کے بجائے ایک بار مہنگی چیز خریدیں جو زیادہ عرصے چلے، اس طرح سے آپ کو بار بار وہ چیز خریدنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

یہ عادت ہر ماہ مارکیٹ کے ان چکروں سے بھی بچا سکتی ہے جو صرف ایک چیز خریدنے کے لیے لگتے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ مارکیٹ میں جا کر ہم دو چار اضافی اشیا بھی خرید لیتے ہیں جس سے ہمارا بجٹ غیر متوازن ہوسکتا ہے۔

ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہیں

ہر ماہ کچھ رقم کسی جگہ محفوظ کر دینے کی عادت اس وقت آپ کے کام آئے گی جب اچانک آپ کسی ہنگامی صورتحال سے دو چار ہوں، آپ کی ملازمت چلی جائے یا کاروبار میں گھاٹا ہوجائے۔

جمع شدہ رقم کو ایک علیحدہ اکاؤنٹ میں محفوظ رکھیں اور اس اکاؤنٹ کو بالکل بھول جائیں۔

خود پر سرمایہ کاری کریں

خود پر خرچ کی جانے والی ایسی رقم جو آپ کے کیریئر کے لیے فائدہ مند ہو، اپنے اوپر کی جانے والی سرمایہ کاری کہلاتی ہے۔ جیسے کہ اپنے شعبے کے لحاظ سے مارکیٹ میں نئے آنے والے کورسز سیکھنا، شارٹ ٹرم ڈگری کورسز میں داخلہ لینا، یا پھر کوئی ایسا سفر کرنا جس سے آپ کو سیکھنے کے مواقع مل رہے ہوں۔

یہ سرمایہ کاری آپ کو منافع کی صورت میں اس وقت ملے گی جب آپ کی نئی سیکھی ہوئی اسکلز یا کورسز کی بدولت آپ کی آمدن میں اضافہ ہوگا۔

آمدنی میں اضافہ کریں

بعض لوگ جب معاشی بحران کا شکار ہوتے ہیں تو وہ اپنے اخراجات کو کم کر کے غربت میں زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ یہ ایک غلط نقطہ نظر ہے۔ اس کے برعکس ان ذرائع پر غور کریں جہاں سے آپ جائز طریقے سے اپنی آمدنی میں اضافہ کرسکیں۔

اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کریں، محنت کریں، اپنی استعداد سے بڑھ کر کام کریں، کام سے ایمانداری اور خلوص کا مظاہرہ کریں تو یقیناً آپ بھی معاشی طور پر خوشحال ہوجائیں گے۔

آمدنی میں اضافے کی صورت میں

اگر آپ کی تنخواہ یا آمدنی میں اضافہ ہوا ہے تو اپنی سیونگ کی مقدار بھی بڑھا دیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی جائز خواہشات کی تکمیل یا تفریحات نہ کریں، بلکہ دونوں میں توازن رکھیں۔

تفریحات بھی ضروری ہیں

یہ سوچنا کہ لمبے عرصے تک کام کیا جائے اور اس دوران کوئی سیر و تفریح نہ کی جائے، تاکہ پیسے بچ سکیں، نہایت ہی احمقانہ خیال ہے۔

مہینے میں ایک دو بار دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ گھومنا پھرنا، ہوٹلنگ کرنا، موویز دیکھنا اور سال میں ایک بار شہر سے باہر کا دورہ کرنا دماغ کو ہلکا پھلکا کردیتا ہے جس سے آپ نئے سرے سے تازہ دم ہو کر اپنا کام کرتے ہیں اور اس دوران کئی نئے آئیڈیاز پر کام کرتے ہیں۔

اس کے برعکس طویل عرصے تک صرف کام کرتے رہنا آپ کے دماغ کو جمود کا شکار کر دے گا اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ آپ نہ تو کام کرسکیں گے اور نہ پیسہ کما سکیں گے۔

یاد رکھیں، پیسہ کمانے اور بچانے کی دھن میں اپنے آپ کو اور خاص طور پر اپنی صحت کو نظر انداز مت کریں، ایسا نہ ہو کہ آپ بہت سارے پیسے کما لیں لیکن اس دھن میں اپنے آپ کو کہیں پیچھے چھوڑ دیں یا بیمار ہوجائیں، ہر شے میں توازن ہی خوش باش زندگی کا ذریعہ ہے۔

About admin

Check Also

مقابلے کی دوڑ، پی آئی اے کا نئی تکنیک آزمانے کا فیصلہ

کراچی: ملکی ایئر لائنز انڈسٹری میں مقابلے کی دوڑ کے پیش نظر پی آئی اے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *