کوکنگ آئل کی قیمت کو مستحکم رکھنے کیلئے بھارت کا اہم اقدام


نئی دہلی : بھارت میں خوردنی تیل کی قیمت پر کنٹرول اور اسے مستحکم رکھنے کیلئے اہم فیصلہ کیا گیا ہے جس کا مقصد کوکنگ آئل کی گھریلو سپلائی کو برقرار رکھنا ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں خوردنی تیل کی درآمد پر رعایتی کسٹم ڈیوٹی میں مزید 6 ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے۔

بالواسطہ ٹیکس اور کسٹم کے مرکزی بورڈ (سی بی آئی سی) نےاپنے جاری ایک نوٹیفکیشن نمبر46/2022- کسٹم مورخہ 31 اگست 2022 کے مطابق مخصوص خوردنی تیل پر موجودہ رعایتی درآمدی ڈیوٹی کو 31 مارچ 2023تک بڑھا دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد گھریلو سپلائی میں اضافہ اور قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق خوردنی تیل کی درآمد پر رعایتی کسٹم ڈیوٹی میں مزید 6 ماہ کی توسیع کردی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ نئی آخری تاریخ اب مارچ 2023 ہوگی۔

عالمی قیمتوں میں کمی کے باعث خوردنی تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان رہا ہے، گرتی ہوئی عالمی شرحوں اور کم درآمدی محصولات کے ساتھ بھارت میں خوردنی تیل کی خوردہ قیمتیں کافی حد تک گرگئی ہیں۔

خام پام آئل، آر بی ڈی پامولین، آر بی ڈی پام آئل، خام سویا بین آئل، ریفائنڈ سویا بین آئل، خام سورج مکھی کے تیل اور ریفائنڈ سورج مکھی کے تیل پر موجودہ ڈیوٹی کے ڈھانچے میں 31 مارچ 2023 تک تبدیلی نہیں ہوگی۔

پام آئل، سویا بین آئل اور سورج مکھی کے تیل کی خام اقسام پر درآمدی ڈیوٹی فی الحال صفر ہے تاہم 5 فیصد زرعی سیس اور 10 فیصد سوشل ویلفیئر سیس کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تینوں خوردنی تیلوں کی خام اقسام پر مؤثر ڈیوٹی 5.5فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔

پامولین اور ریفائنڈ پام آئل کی ریفائنڈ اقسام پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی 12.5 فیصد ہے جبکہ سماجی بہبود سیس 10 فیصد ہے۔ لہذا، موثر ڈیوٹی 13.75 فیصد ہے۔ ریفائنڈ سویابین اور سورج مکھی کے تیل کے لیے بنیادی کسٹم ڈیوٹی 17.5 فیصد ہے اور 10 فیصد سماجی بہبود کے سیس کو مدنظر رکھتے ہوئے، موثر ڈیوٹی 19.25 فیصد بنتی ہے۔


About admin

Check Also

شہباز حکومت کے 7 ماہ میں تمام معاشی اشاریوں میں شدید بگاڑ

اسلام آباد: ملک میں نئی حکومت آنے کے بعد سے گزشتہ 7 ماہ میں تمام …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *