چین کو کی جانیوالی برآمدات کا حجم چار بلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے


اسلام آباد : ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) نے کہا ہے کہ رواں سال کے دوران پاکستان کی چین کو کی جانے والی برآمدات کا حجم four بلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

ٹی ڈی اے پی کے مطابق پاکستان کی 2021 میں چین کو برآمدات 3.589 ارب ڈالر رہیں، تاہم پاکستانی برآمد کنندگان کو چینی حکام کی طرف سے درآمدات کے لئے مقرر کردہ قواعد و ضوابط پر عمل کرنا چاہئے۔

تفصیلات کے مطابق ٹی ڈی اے پی نے چائنہ سرٹیفیکیشن اینڈ انسپیکشن گروپ شنگھائی اور ٹوفلون گروپ شنگھائی کے اشتراک سے گذشتہ روز ایک ویبینار کا انعقاد کیا۔

ویبینار میں دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان غذائی مصنوعات خصوصاً چاول، سمندری غذا، خشک میوہ جات، چلغوزے، پھل، گلابی نمک اور پراسیسڈ فوڈ کی برآمد کا ایک بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔

چین کے قومی ادارہ برائے شماریات (این بی ایس سی)کے مطابق چین کی اشیا کی برآمدات کا حجم 3.36 ٹریلین ڈالر ہے جبکہ چین کی اشیا کی درآمدات کا حجم 2.69 ٹریلین ڈالر ہے۔

پاکستان کی چین کو برآمدات وقت کے ساتھ ساتھ 2016 میں برآمدات کا حجم 1.91 بلین ڈالر، 2017 میں 1.83بلین ڈالر، 2018 میں 2.18 بلین ڈالر، 2019 میں 1.81 بلین ڈالر، 2020 میں 2.12 بلین ڈالر اور 2021میں 3.589 بلین ڈالر تھا۔

سی سی آئی جی کے ماہرین کا کہنا تھا کہ اس سال پاکستان کی برآمدات کا حجم four بلین ڈالر تک بڑھ سکتا ہے اور کھانے کی مصنوعات میں جگہ دستیاب ہے۔ چائنا جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے اعدادوشمار کے مطابق 2021میں پاکستان کی چین کو خوراک کی برآمدات کی مالیت 840 ملین ڈالر تھی۔

ان میں سے 609 ملین ڈالر سبزیوں کی مصنوعات، 179 ملین ڈالر جانوروں کی مصنوعات جبکہ تیار شدہ کھانے پینے کی اشیا کی مالیت 52 ملین ڈالر تھی۔

اسی طرح 2021 میں پاکستان سے چین کو چلغوزے اور خشک خوراک کی برآمد کی مالیت 65 ملین ڈالر تھی۔ 2021 میں پاکستان سے چین میں پروسیسڈ سمندری خوراک کی برآمدات 8.four ملین ڈالر تھیں جبکہ اسی سال کے دوران برآمد کیے گئے آم کی مالیت 127 ملین ڈالر تھی۔

چین کی چاول کی درآمدات 2.2 بلین ڈالر، سمندری غذا 13.Eight بلین ڈالر، چلغوزے اور خشک میوہ جات 2.2 بلین ڈالر جبکہ تل کے بیج کی درآمدات 1.7 بلین ڈالر ہیں۔

پاکستانی برآمد کنندگان ان مصنوعات کی درآمدات میں بڑا حصہ حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم انہیں چینی کنزیومر مارکیٹ کی عمومی خصوصیات کو جاننے کی ضرورت ہے۔

مثال کے طور پر فی کس آمدنی اور صارفین کے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے چین صحت اور فٹنس کے بارے میں شعور رکھنے والے صارفین کے ساتھ ایک اعلی آمدنی والا ملک بننے کے قریب ہے۔


About admin

Check Also

تمام اسمارٹ فونز کے لیے ایک ہی چارجر، یورپی یونین کا بڑا فیصلہ

یورپی یونین نے اسمارٹ فون کے صارفین کی بڑی مشکل حل کردی، اب تمام موبائل …

Leave a Reply

Your email address will not be published.