مصری حکام کا نہرسوئز سے گزرنے والے جہازوں سے متعلق اہم فیصلہ


مصرکی معیشت کا سب سے اہم ترین ذریعہ سمجھی جانے والی نہر سوئز اب ملک کیلئے مزید آمدنی کا باعث بنے گی، مصری حکام نے اس حوالے سے اہم فیصلہ کرلیا۔

اس حوالے سے غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مصر نے نہر سوئز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے راہداری فیس بڑھانے کی تیاری شروع کردی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امکانی طور پر سال 2023 کے لیے یہ فیس 15 فیصد بڑھائی جارہی ہے، نئی راہداری فیس کا اطلاق یکم جنوری 2023سے کیا جائے گا۔

یہ بات نہر سوئز کے امور دیکھنے والی اتھارٹی کے چئیرمین اسامہ رببیع نے گزشتہ روز میڈیا نمائندوں کو بتائی تاہم ان کا کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں اور سیاحوں کو لے کر آنے والے بحری جہازوں کی فیس میں دس فیصد اضافہ ہوگا۔

واضح رہے کہ نہر سوئز مصر کے لیے آمدنی کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ یہ نہر مصر کی ایک سمندری گذرگاہ ہے جو بحیرہ روم کو بحیرہ قلزم سے ملاتی ہے۔ اس کے بحیرہ روم کے کنارے پر پورٹ سعید اور بحیرہ قلزم کے کنارے پر سوئز شہر موجود ہے۔ یہ نہر 163 کلومیٹر (101 میل) طویل اور کم از کم 300 میٹر چوڑی ہے۔


About admin

Check Also

تمام اسمارٹ فونز کے لیے ایک ہی چارجر، یورپی یونین کا بڑا فیصلہ

یورپی یونین نے اسمارٹ فون کے صارفین کی بڑی مشکل حل کردی، اب تمام موبائل …

Leave a Reply

Your email address will not be published.