روس کا دوست ممالک کی کرنسی خریدنے پر غور


روس اپنے قومی خزانے کو بھرنے کیلیے چین، بھارت اور ترکیہ جیسے دوست ممالک سے ان کی کرنسی خریدنے پر غور کر رہا ہے۔

روس کے مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ پابندیوں کی وجہ سے وہ ڈالر یا یورو خرید نہیں سکا ہے۔ اس لیے وہ اپنے نیشنل ویلتھ فنڈ کیلیے چین، بھارت اور ترکیہ جیسے دوست ممالک سے ان کی کرنسی خریدنے پر غور کر رہا ہے۔

اے آروائی نیوز براہِ راست دیکھیں reside.arynews.television پر

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مرکزی بینک نے کہا کہ وہ روبل کی آزادنہ ترسیل اور ایکسچینج ریٹ کی پالیسی پر قائم ہے اور 2023.25 کی مانیٹری پالیسی کے تحت مغربی پابندیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے قومی خزانے کو دوبارہ بھرنے کے کیلیے مختلف آپشنز پر بات چیت جاری ہے۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ روسی خزانے کو دوست ممالک کی کرنسی چینی یوآن، بھارتی روپے اور ترک لیرا سے دوبارہ بھرنے کیلیے بجٹ کے آپریشنل طریقہ کار کو نافذ کرنے کرنے کے امکان پر کام کر رہی ہے۔

بینک کے مطابق بجٹ کے اصول کے تحت روس نے اس سے قبل نیشنل ویلتھ فنڈ کیلیے ڈالر اور یورو خریدے تھے لیکن اس نے روبل کی قدر میں بڑھتے ہوئے اتار چڑھاؤ کے باعث رواں سال کے اوائل میں فنڈ کیلیے روزانہ کی بنیاد پر فاریکس کی خریداری روک دی تھی۔

واضح رہے کہ روس کے مرکزی بینک کے ذخائز کا انتظام وزارت خزانہ کرتی ہے جس میں چینی یوآن بھی شامل ہے اور یہ فروری تک تقریباً 640 بلین ڈالر تھے جن میں سے تقریباً نصف مغربی پابندیوں کے تحت منجمد کردیے گئے تھے۔

مرکزی بینک کا یہ بھی کہنا ہے کہ روسی معیشت دو سال کے سکڑاؤ کے بعد 2024 میں ترقی کی طرف واپس آئے گی اور اس وقت تک افراط زر four فیصد ہدف تک سست ہو جائے گا، جس سے مرکزی بینک 2025 میں کلیدی شرح کو 5-6 فیصد کی حد تک لے آئے گا۔

About admin

Check Also

تمام اسمارٹ فونز کے لیے ایک ہی چارجر، یورپی یونین کا بڑا فیصلہ

یورپی یونین نے اسمارٹ فون کے صارفین کی بڑی مشکل حل کردی، اب تمام موبائل …

Leave a Reply

Your email address will not be published.