پاکستان کے کاروباری طبقوں نے "سپر ٹیکس” مسترد کردیا


پاکستان کے تمام کاروباری طبقوں نے شہباز حکومت کی جانب سے عائد کیے جانے والے نئے سپر ٹیکس کو یک زبان ہوکر مسترد کردیا ہے۔

شہباز حکومت کی جانب سے رواں ماہ 10 جون کو وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے بعد پٹرول، ڈیزل، بجلی، گیس اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں متعدد بار اضافہ کرکے غیر اعلانیہ منی بجٹ سے عوام کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے جب کہ جمعے کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے 10 فیصد مزید ٹیکس "سپر ٹیکس” کے نام پر عائد کردیا ہے جس کو کراچی تا خیبر ملک کے تمام اصناف کے تاجر طبقوں نے یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے حکومت سے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

کراچی سائٹ ایریا کے صنعتکاروں نے صنعتوں پر عائد کیے جانے والے سپر ٹیکس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ صنعتوں کو تباہ کردے گا۔

صدر سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی عبدالرشید نے مہنگی بجلی، گیس کی عدم فراہمی کے باعث صنعتوں کی پیداوار پہلے ہی بری طرح متاثر ہے، صنعتوں پر ٹیکسوں کا بوجھ کم نہ کیا گیا تو فیکٹریوں کو تالے لگ جائیں گے اور اگر پیداواری سرگرمیاں معطل ہوئیں تو برآمدی آرڈرز کی تکمیل خطرے میں پڑجائے گی۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نارتھ نے بھی اس فیصلے کی بھرپور مذمت اور مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق حکومت میں کنسٹرکشن زیادہ ہورہی تھی اور ایکسپورٹ بھی بڑھ رہی تھی مگر موجودہ حکومت کے اقدامات سے غریب پر بوجھ پڑے گا۔

اپٹما نارتھ کے چیئرمین حامد زمان نے کہا کہ ٹیکس شرح بڑھانے سے نہیں لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے سے مسائل حل ہونگے، جب ٹیکس اتنا زیادہ ہوجائے گا تو لوگ ٹیکس نیٹ میں کیوں آئیں گے، ٹیکسز بڑھنے سے انڈسٹریز بند ہونگی اور بیروزگاری بڑھے گی تو غریب پر اثر پڑے گا۔

تعمیراتی شعبے کی نمائندہ تنظیم آباد نے کہا ہے کہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور سپر ٹیکس جارحانہ اقدام ہے جس کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔

صدر کسان اتحاد خالد کھوکھر نے کہا ہے کہ کاشتکار پر ٹیکس لگیں گے تو وہ پیداوار کم کردے گا، کاسٹ آف پراڈکشن پہلے ہی بڑھ چکی ہے، کاشتکار ڈیزل کے اس ریٹ پر ٹیوب ویل نہیں چلا سکتا، اب تو وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگا ہے، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو خط لکھا ہے کہ وضاحت دی جائے۔

آباد کے سابق چیئرمین حنیف گوہر نے کہا کہ کنسٹرکشن انڈسٹری پہلے ہی پریشان تھی آج مزید کردیا گیا، عام آدمی پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہے سپر ٹیکس سے جینا دوبھر ہوجائیگا، ایسے ٹیکس لگیں گے تو غریب آدمی کیسے گھر بنا سکتا ہے، مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر ہی مزدوروں پر آئے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی اتنی زیادہ ہے کہ بلڈرز کیلئے کام کرنا مشکل ہوگیا ہے، انکم جنریٹ نہیں کرسکیں گے کہ تنخواہیں کیسے ادا کریں گے، جب کنسٹرکشن کا کام ہی نہیں ہوگا تو مزدوروں کو روزگار کہاں سے ملے گا اور بیروزگاری بڑھنے سے امن وامان کی صورتحال خراب ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا بڑی صنعتوں پر سپر ٹیکس لگانے کا اعلان

فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس فیصل آباد کے صدر عاطف منیر نے کہا کہ سپر ٹیکس کے نام پر حکومت نے بزنس کمیونٹی اور انڈسٹری پر ہتھوڑا مارا ہے، اس فیصلے میں حکومت نے کسی ایسوسی ایشن یا چیمبر کو آن بورڈ نہیں لیا، مفتاح اسماعیل اور انکی ٹیم بری طرح ناکام رہی، ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت ہفتے ہفتے کی پالیسی لے کر چل رہی ہے، حکومت ایسے فیصلے نہ کرے۔

تمام اصناف کے تاجر طبقوں نے سپر ٹیکس کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس عوام دشمن فیصلے کو فوری واپس لیا جائے اور ایسے اقدامات کرنے سے گریز کیا جائے جس سے بدحالی کا شکار معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

About admin

Check Also

اسٹیٹ بینک کا درآمد کنندگان کیلئے کیش مارجن کی شرط میں نرمی کا اعلان

کراچی : اسٹیٹ بینک نے درآمد کنندگان کیلئے 100 فیصد کیش جمع کرانے کی شرط …

Leave a Reply

Your email address will not be published.