کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1 ارب 2 کروڑ ڈالرز سے متجاوز


کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ رواں سال مارچ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1 ارب 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2022 میں درآمدات 6 ارب 24 کروڑ ڈالر رہیں، مارچ 2022 کی برآمدات three ارب 7 کروڑ ڈالر رہیں۔

مارچ کا تجارتی خسارہ three ارب 17 کروڑ ڈالر رہا، مارچ میں تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ three ارب 99 کروڑ ڈالر رہا، ورکرز ترسیلات 2 ارب 81 کروڑ ڈالر رہیں۔

رواں مالی سال 9 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13 ارب 16 کروڑ ڈالر رہا۔ ابتدائی 9 ماہ کی درآمدات 53 ارب 79 کروڑ ڈالر رہیں۔

جولائی سے مارچ کے دوران برآمدات 23 ارب 69 کروڑ ڈالر رہیں۔ رواں مالی سال کے 9 ماہ میں ملک کا تجارتی خسارہ 30 ارب ڈالر رہا۔

9 مہینوں میں تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ 37 ارب ڈالر رہا۔ رواں مالی سال 9 ماہ میں ورکرز ترسیلات 22 ارب 95 کروڑ ڈالر رہیں۔

گزشتہ ماہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر بتایا تھا کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ فروری میں سکڑ کر صرف 0.5 بلین ڈالر رہ گیا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر بروقت قابو پانے کے ثمر سامنے آ رہے ہیں۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جنوری کی نسبت خسارہ 2 بلین ڈالر کم اور رواں مالی سال کا سب سے کم ماہانہ خسارہ رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ برآمدات اب تک کی بلند ترین سطح کے قریب ہے جب کہ درآمدات اپنے عروج سے 21 فیصد کم ہیں اور بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ میں ترقی ہو رہی ہے۔



About admin

Check Also

چائے کم پیئیں، ملک بھر کی یونیورسٹیز کو ستو اور لسی کو پروموٹ کرنے کی ہدایت

ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے وفاقی وزیر احسن اقبال کے چائے کم پینے کے مشورے کو …

Leave a Reply

Your email address will not be published.