اسمارٹ فون کیمرے کی مدد سے آبی آلودگی کی شناخت

اس ترقی یا فتہ دور میں ماہرین حیران کن چیزیں ایجاد کرنے میں سر گرداں ہیں۔ اسن ضمن میں سنگار پور یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی کمپنی نے تیکنیک وضع کی ہے اسمارٹ فون کیمرے کی مدد اندازہ لگایا جاسکتا اور تالابوں سے خرد نامئے کی حرکات کا جائزہ لیا جاتا ہے.

ماہرین کے مطابق یہ نظام منٹوں میں کام کرتا ہے میں پانی میں موجود یک خلوی (سنگل سیل) جاندار پیرامیشیا کی تیز یا حرکت کو نوٹ کیا جاتا یہ جاندار پوری دنیا کے پانیوں میں عام موجود ہوتا ہے. ماہرین نے سب سے پہلے صاف پانی میں پیرامیشیئم کی رفتار نوٹ کی۔ اس کے بعد مختلف آلودہ پانیوں میں اسے تیرایا۔

معلوم ہوا کہ مختلف آلودگیوں کی موجودگی میں پیرامیشیئم کی رفتار بدلتی رہتی ہے۔ اسی بنا پرایک پیمانہ مقررکیا گیا اوراسمارٹ فون کیمرے میں لاکر اس قابل بنایا گیا کہ وہ یک کی رفتار معلوم کرسکے.جیسے ہی بھاری دھاتیں اور اینٹی بایوٹکس ڈالی کی حرکت بھی بدل گئی. تجرباتی طور پر اسمارٹ فون کیمرے پر ایک خردبینی (مائیکرو اسکوپک) لینس لگایا گیا ، جس سے پیرامیشیئم د۔ لگے دییم نکھئی دیی پھر ان کی رفتار کو ایک الگورتھم سے ناپا گیا۔

پیرامیشیئم جتنی سست رفتار سے تیرتا ہے وہ پانی اتنا ہی آلودہ ہوتا ہے۔ یعنی بھاری دھاتوں والے پانی میں اس کی رفتار نصف رہ گئی۔ سائنسداں ہاویئرجی فرنینڈِز کاکہنا ہے کہ یہ ایک سیدھا اور آسان طریقہ ہے پانی کے قابلِ نوش یا نق ابااوش یا نق ابالِ ام ن بولِ ا نتت ال ہع بتےتال ہبو ا نت ع نتت پیرامیشیئم پوری دنیا کے پانیوں میں پائے جاتے ہیں اور ان کی رفتار کو پانی کی آلودگی ناپنے ایک پیمانہ باتے ۔ا س



About admin

Check Also

شمسی توانائی کے میدان میں حیران کن ترقی

اگر ہم غور کریں تو شمسی توانائی کے کمالات بے شمار ہیں جن سے ہم …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *