وزیر اعلیٰ جام کمال ڈٹ گئے

وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی جانب سے جانے والی تحریک عدم اعتماد کے بلوچستان میں سیاسی بحران ہے, ایک جام کمال خان کسی بھی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ڈٹ ہیں ان جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض ارکان اپنے پر سختی سے صرف قائم ہیں رفتہ کے دوران صوبائی وزرا میر ظہور بلیدی عبدالرحمن کھیتران اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے میر اسد, دو مشیروں حاجی محمد خان لہڑی, اکبر, چار پارلیمانی سیکرٹریز بشری مہ جبین شیران لالہ رشید بلوچ بلوچستان کو اپنے پیش کیے I

گورنر بلوچستان نے تین صوبائی وزراء بلیدی کھیتران اسد اللہ بلوچ کے استعفے تو منظور جبکہ اور پارلیمانی سیکرٹریز استعفے جنہیں منظور اختیار ان کے بھجوا دئیے ہیں جن تاحال کوئی ایکشن نہیں لیا تاہم اس بلوچستان نیشنل جمعیت علما اسلام اور پشتونخوامیپ پرمشتمل متحدہ نے بلوچستان سے مطالبہ ہے کہ بلوچستان اجلاس فوری طور خان کو اعتماد کا لینے کیا جائے۔

اپوزیشن رہنماوں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں موقف کیا کہ چونکہ یہ کہہ چکے ہیں کہ انہیں 26 اتحادی ارکان کی حمایت حاصل ہے جبکہ 65 رکنی بلوچستان اسمبلی وزیراعلی کے پاس نصف ارکان یعنی اکثریت ہونی جو اس وقت جام کمال خان کے پاس نہیں لہذا انہیں اعتماد کا ووٹ لینے کا پابند کیا جائے۔

ایسا ہی مطالبہ بلوچستان عوامی پارٹی ناراض گورنر کیا ہے, ایک جانب بلوچستان حکومت حوالے سیاسی بحران جاری تو دوسری جانب کمال خان کی قیادت چھوڑنے کے بعد کی اس وقت وزیراعلی جام کمال خان سے ناراض نظر آتی ہے.

بلوچستان عوامی پارٹی کے عہدئے داروں مدت پوری اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب پارٹی کو انٹرا پارٹی کرانے کی ہدایت ہے تاہم انٹرا مہلت لی جاچکی ہے دنوں خان کے پارٹی کی صدارت سےمستعفی کے مرکزی سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر جان محمد کی میں ہونے والے میں جلد پارٹی کرانے کا عندیہ ناراض پارلیمانی ارکان جام خان کے پارلیمانی لیڈر کے عہدئے سے ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں اس تمام صورتحال میں وزیراعلی جام کمال خان اپنے بیانات اور باڈی لینگوئج سے خاصے پر نظر آتے ہیں.

جبکہ ان کے ساتھیوں سمیت قریبی بحران پر قابو پانے کے حوالے پراعتماد نظر آتے یہاں یہ امر بھی ہے کہ بلوچستان صوبائی حکومت میں شامل جماعتیں ماسوائے بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے باقی. جماعتیں اب وزیراعلی جام کمال خان کے ساتھ نظر دنوںکوئٹہ کے ایک وفد سے ملاقات میں پر اعتماد نظر اس دوران نہیں ہوں گے, ان واضح موقف تھا کہ چند لوگوں کی خواہش پر تبدیلی سے اپوزیشن اور حکومت دونوں کو نقصان پڑے گا جس کا بلوچستان متحمل نہیں ہوسکتا۔

اتحادی ان کے ساتھ ہیں تمام استعمال کو گے, سیاست میں کوئی بات حرف نہیں اور نہ ہی میں بات چیت بند کیا جاتا معاملات مشاورت اور گفت شنید کرنا چاہتے ہیں, ہمارے تین دور ایس اور ماضی کی حکومتوں کی پی ایس پی موازنہ کیا جائے واضح ہوجائے گا نے اپوزیشن کو دور میں اپوزشین کو فنڈز, اس دوران انہوں نے اپنی جماعت کے ناراض ارکان کو کھل پیش کش کی کہ ناراض دوست مستعفی ہونے کے بعد آسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے جو وعدے کئے تھے پورے کیے.

یہاں یہ امر بھی قابل زکر کہ کا انتخابات سے قبل باضابطہ طور پر اس کے عمل میں لایا تھا کہ اب حوالے سے تمام پارٹی کے قیام کے پر کے اس حوالے سے تحفظات تھے فیصلے اسلام, لاہور سمیت کہیں اور ہوتے ہیں ہی نعرئے کے تحت ہونے والی جماعت ہونے والے رہنماوں کی کا تعلق پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تھا. موجودہ اسپیکر اسمبلی عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے اپنی ہی جماعت کے وزیراعلی نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف عدم کی تحریک لانے اور ثنا اللہ خان زہری کیے جانے سے سے مستعفی کی صورت میں کامیابی حاصل کرچکے تھے.

تاہم اس بار وزیراعلیٰ جام کمال خان ڈٹ گئے ہیں اپنے عہدئے سے مستعفی ہونے کے ہر کے امکان و جس ا



About admin

Check Also

مہنگائی نے بے بس عوام کا جینا محال کردیا

مہنگائی کی شرح میں 12 اعشاریہ 66 فیصد اضافے کو منی بجٹ قرار دے کر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *