ن لیگ کب تک مفاہمتی اور مزاحمتی بیانیے کے چکر میں پڑی رہے گی؟

بالآخر پی ڈی ایم ایک طویل وقفے کے بعد متحرک اور فعال ہوگئی۔ کافی عرصے سے محسوس کیا جا رہا تھا کہ مہنگائی اور مسائل آگے جا رہے ہیں اپوزیشن کی س۔رگرمیاں ہل پیچھے ش و گئیں ے ر رع احتجاج کے لئے اپوزیشن کو اس سے ساز گار موسم ماحول میسر نہ آئے گا ، مہنگائی کے عووام کی چیخیں نکل ےااو ن نکل ےاآئو ن ن ل ب ما ب

گزشتہ ہفتے مولانا فضل الرحمن لاہور تشریف لائے یہاں ان کمر کی درد میں مبتلا کئی روز صاحب فراش اور سیاسی سرگرمیوں بے نیاز شہباز شریف ملاقات ہوئی اس ملاقات سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا. مولانا فضل لرحمن کی یہ ملاقات بیانیے شہباز ہوئی جبکہ دوسری جانب مزاحمتی بیانیے کی مریم نے اسلام آباد میں اپنی رٹ گفتگو میں مزاحمتی بقول پرویز رشید اب بیانیہ بھی پہنچ گیا.

مولانا فضل الرحمٰن اور شہباز شریف ملاقات انتخابات کردیا بڑھانے کے لئے مختلف احتجاجی جلسےجلوسوں کا بھید تر تبدیلیوں کے اپوزیشن دیکھنا چاہتی ہے کہ کونسی طاقتیں کدھر کھڑی ہیں؟

آزمانے کا یہ بہترین وقت ہے ، دوسری جانب مریم نواز سخت موقف اپنا کر ہوائوں کا رخ دیکھنا چاہتی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) مزاحمتی, مفاہمتی بیانیے کے پڑی ہے بہت سے اس کے اہم رہنما سمجھتے کہ تحریک انصاف مکمل طور ناکام ہو چکی ہم اس کا حقیقی متبادل لڑنا بے سود خود کو کرنا ہے, راستہ دیا جائے اور راستہ بنایا جائے.

یہ لوگ شہباز شریف کے موقف ، بیانیے کے حامی ہیںلیکن ان کونواز شریف ان کے بیانیے کی طاقت جاذبیمگہیں ۔او ابیمگ سے بھیو ان اوک ب اوک ب اور ب خواجہ سعد رفیق نے گزشتہ ہفتے رہائش کچھ مدعو کیا تھا جس کے بعد میڈیا یہ آئیں کہ اس میں نواز شریف کی گئی کہ لیکن خواجہ سعد رفیق ان خبر کو آفیشلی اوون نہ کرسکے البتہ اس اجلاس میں موجود پرویز رشید اس خبر کی زبردست تردید بلکہ مذمت کی اور کہا کہ بیانیے میں کوئی ابہام موجود نہیں۔ بیانیہ آئین اور پارلیمینٹ کی بالادستی پر سٹینڈ کرتا ہے۔

میاں جاوید لطیف نے ایک اور مضبوط دلیل دی کے قریب مسلم لیگ (ن) کے ڈویژنل کنونشن ہااوئے ہیں مجوک یکاااد مجود ےااد ن کاوہن ن جائے یا اس سے تکلیف ہو رہی ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں نواز شریف کی بڑی طاقت ہے ووٹ ان کا ہی ہے ، دہوسری جانب شریف جئقوا ب شریف عجوا ن تر کی عجوا یقیسنچر کی

لندن سے این سی اے سے کلین چٹ ملنے اور کنٹونمنٹ بورڈ کے میں کامیابی کے بعد ان میں نیا اعتماد پید ہوا ہےد ہوا ہےد ہوا ہےد ہوا ان کی سرگرمیاں عوامی سے زیادہ رابطوں اور آنے والے دنوں میں غیبی امداد پر زیادہ منحصر ہیں۔ بہرحال یہ طے ہے کہ ووٹر ان بیانیوں سے بے نیاز مسلم لیگ (ن) کےساتھ کھڑا ہے اس کا فی الحال کوئی ٹھوس موقف وہ ملک اور اپنے مسائل کا حل چاہتا ہے کا راستہ جیسے مرضی نکلے.

حمزہ شہباز کا دورہ جنوبی پنجاب اسی کرتا جنوبی مرحلے اور موقع پر حامل ہے جب کنٹونمنٹ بورڈ بہت کہ. غوغا تھا بلاول بھٹو کو آگے لایا جا رہا ہے لیکن وہ آگے آنے کی بجائے پیچھے چلے گئے۔ حمزہ شہباز اور ان کا خاندان لندن سے منی لانڈرنگ کے کلین چٹ ملنے کے بعد زیادہ اعتماد محسفیدہ چاتماد محسفیو یںاامزہ پنکم لم لم ماب س او شہبزم ب پیپلز پارٹی کے اور مسلم لیگ (ن) سے جانے والے ارکان جوق در جوق مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے, حمزہ شہباز کی یہ ہے کہ وہ کام سلیقے اور نظم ضبط اس دورے سے ان قد سیاسی طور پر اور بھی بڑھ گیا ہے ۔

پنڈورا پیپر کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) نے اس قدر واویلا اور مچایا جس قدر پاناما لیکس پر تحریک انصاف آپے سے تھی شاید اس اس کو ہر طرف سے دیدہ نہیں ہے, سپورٹ دینے والے خود پھنسے ہوئے ہیں. نیب کے چیئرمین کے معاملے پر اپوزیشن نہیں نے من مانی کر لی سب دیکھتے گئے سیاست کا یہ پہلو ہے کہ قانون کے تحت مزید توسیع نہیں دی اور کے لئے اپوزیشن لیڈر سے مشاورت ضروری ہے مگر وزیر اعظم ایسا نہ کرنے پر بضد ہیں لیکن ہر کوئی بے بس ہے۔

میاں جاوید لطیف نے پارٹی کے چند رہنمائوں پر الزام عائد وہ اسائنمنٹ پر ہوتے ہیں, جن الزام آتا تھا وہ بہت میں آئے ان کو اظہار وجوہ کا نوٹس دیا دراصل یہ ہی مفاہمتی و مزاحمتی جنگ پارٹی پردہ چل رہی تھی میاں جاوید لطیف چند کے بارے میں اظہار وجوہ کے جواب دینے کا و تفہیم کرانے کے سرگرم کا معاملہ گفت و شنید کے ذریعے فی الحال حل ہوگیا۔ شہباز شریف نے بھی معاملے کی نزاکت کو سمجھا اور بڑے بھائی نواز شریف کی بات سے اتفاق کیا۔



About admin

Check Also

مہنگائی نے بے بس عوام کا جینا محال کردیا

مہنگائی کی شرح میں 12 اعشاریہ 66 فیصد اضافے کو منی بجٹ قرار دے کر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *