ہرات کی four سالہ زرمینہ کے سامنے اس کا باپ مارا گیا

کابل کی خیمہ بستی کی four سال کی زرمینہ کے باپ کو اس کی آنکھوں کے سامنے موت کے گھاٹ اُتارا گیا ، گئیایمے سی زرن میع

کابل کی خیمہ بستی میں موجود بچی زرمینہ صرف دو مہینے پہلے ہنستی مسکراتی اور کھیلتی کودتی تھی۔ لیکن اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے باپ کو مار دیا گیا ، کے بعد صدمے سے بچی ذہنی اور جسمانی طور پر بھی ہمعذور بھی ہمعذور

بچی کی والدہ مریم کا کہنا ہے کہ اس کی بچی اپنے باپ بہت لاڈلی تھی ، ہنستی کھیلتی اور اپنے پاؤں پر چلتی تھی۔ جس دن اس کی آنکھوں کے سامنے یہ واقعہ ہوا ، اُس دن سے مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ نہ چل پھر سکتی ہے ، نہ کچھ بولتی ہے ، ہم اس کے لیے ڈاکٹر سے دوائی کیسے لیں ، پاس پیسے ہی نہیں ہیں۔

اس بربادی کا سبب ہرات میں ہونے والی حالیہ لڑائی بنی ، جس کی تفصیل زرمینہ کی دادی نے جیو نیوز کو بتئی ہے ہے و بتئی ہے

زرمینہ کی دادی صاحب جان کا کہنا ہے کہ ‘سویرے چار لوگ گھر میں داخل ہوئے میرے کمرے میں گئے اس سوتے ہوئے ماری, میرے بچوں بیٹے اور ایک بیٹی ہوگئے, ظالموں نے مجھ پر بھی تشدد کیا جس سے میرے دانت ٹوٹ گئے اور میں بے ہوش ہوکر پر گر گئی۔ ”

صاحب جان کا بتانا ہے کہ نا بچوں کو دفنا سکی اور نا ہی ضروری سامان بس زنہہ بچنے ھالوں ۔ااساتھ یالوں کااساتھ یل ور ت،

زرمینہ اور اس کی دادی صاحب جان کے گھر میں کوئی مرد زندہ نہیں بچا ، اور باقی اہلخانہ کا بو اوس کے ضعیف کندر

صاحب جان کا کہنا ہے کہ “میں وکیل اور کرنسی کے کاروبار بچوں کی ماں ہوکر بھی بھیک مانگتی پھر رہی مجھ پر قیامت ٹوٹ میرے چار بچوں لوگوں کو پالنے واحد سہارا ہوں, مگر میں کیا کروں.”

یہ خیمہ صرف زرمینہ ، اس کی ماں اور دادی کے دکھوں کا امین نہیں ہے بلکہ یہاں کے آنسو رُلانے والی اور کہکہن اں ب

اپنے ہی ملک میں دربدر ہونے والے ان لوگوں کی کہانیاں تو مختلف ہیں لیکن دکھ ایک جیسے ہیں۔

ایک خاتون بے نظیر کے شوہر اور بیٹے طالبان میں تھے اور طالبان مخالف قوتوں کے گئے ، جبکہ ے اا ن تھے بیٹور ا ا تھےوے

انخلا کے امریکی اعلان کے ساتھ ہی افغانستان میں جو لڑائی شروع ہوئی ، سے متاثرہ سیکڑوں خا۔دان کیے شہ نو ل یہ لوگ ہرات ، قندوز ، تخار اور بدخشاں سمیت افغانستان کے کئی صوبوں سے یہاں آئے ہیں۔

ایسے ہی ایک اور شخص شفیق اللّٰہ کا کہنا ہے ڈھائی مہینے پہلے ہم یہاں نہیں ملتا اب سردی ہوگئی روٹی بھی ہے ہے اب سرد ہےو، ک

قندوز کے شہری محمد ہاشم کو لڑائی کے دوران اس کے سر میں گولی لگی جو ایکسرے نظر بھی آرہی ہے لیکر ا اپن پ

ہاشم کا کہنا ہے کہ “میرے جسم میں دو گولیاں پیوست ہیں۔ میرے پاس رقم کا انتظام نہیں۔ کے کے آپ ریشن ریشن ن ہیں

ہاشم کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ہمارے 11 بچے ہیں گھر ہی پالنے ہوتے ہیں, گھر کا کفیل ہوچکا ہے, میں گھروں میں کاج کرتی تھی بھی اب نہیں ملتا, بچوں لیے بہت پریشان ہوں کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کریں. “

کابل کے پارک میں موجود لوگوں کے لئے کابل میں کوئی روزگار ہے ، نہ خوراک ہے اور نہ موسم ج و ب

افغانستان میں موسم سرما انتہائی سخت ہوتا ہے جو شروع ہوچکا ہے ، یہ حال خیمے اگےن پناہ گزینوں کو بچاا ہیںن کو بچاف ن س راو ب

شہر نو پارک سمیت کابل میں مختلف مقامات پر موجود پناہ عالمی امدادی اداروں ااور حکیومت سے ا موی سے کیا وت سے کیا پ موت ے الود موی ے موی موی موی موی

جنگ کیوں بری ہے اور امن کیوں ضروری۔ اس خیمہ بستی میں رہنے والوں سے زیادہ شاید کوئی نہیں جانتا۔ یہاں ہر خیمے میں جنگ کے شکار لوگوں کی کئی دردناک کہانیاں ہیں ، دنیا کوجھنجھوڑ رہی ہیں ، کیا دنیا ان کی آواز سنے گی آواز سنے گی واز سنے گی واز سنے گی



About admin

Check Also

سوڈانی سیاسی جماعتوں کا فوجی انقلاب کو تسلیم نہ کرنے اور احتجاج کا اعلان

سوڈان کی مختلف جماعتوں نے عبوری کونسل کی جانب سے تختہ الٹنے کےخلاف احتجاج کا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *