اِملا اور ہجے کی غلطیاں

خلیل احمد

انسان میں کچھ صلاحیتیں قدرت کی طرف سے ودیعت ہوتی اور کچھ وہ خود پریکٹس کرکے ڈیویلپ لیتا ہے, جیسے معروف بھارتی ریاضی دان سے باتیں کرتے تھے اور ریاضی کا سیکنڈوں حل کر لیتی I انھیں ہیومین کمپیوٹر کہا جاتا تھا اور ان کانام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں اس حوالے سے درج ہے۔ اسی طرح امریکی شہری جان نیش سے بھی ہندسے باتیں کرتے تھے۔ پاکستانی معروف مصنف اے حمید صاحب نے جنگلوں اور درختوں کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے اور ان کے کہا ان ک ترھے ت

شاید آپ اسے میری مبالغہ آرائی یا کی بڑ کر ہنس دیں مگر یہ سچ مجھے اردو زبان سے محبت ہے اس قدر باریک کہ ساخت میں اشکال ہو گئی ہیں اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ مجھ سے اردو الفاظ باتیں کرتے ہیں.

ذرا سا بھی کوئی حرف آگے سے پیچھے ہو کی جگہ ذ یا ذ کے کہ اور کے بدل جائیں یا بدل جائے چیخ کر شکایت کرتے ہیں اور اکثر شکایت ان مالکان تک پہنچا دیتا ہوں مگر درشت رویے کے حامل ہیں تو کو صبر کی چاپ اور سے لپیٹ جاتا ہوں مگر مجھے ضمیر کی بے اور کچوکے لگاتا رہتا ہے کہ تم حق میں آواز اٹھائی مگر ہوں ،ویہب کہیںکہا وں ،وجب لکہا ن ب و ب ل،وگ ج ب تہی د اور کیا ضروری ہے کہ ہر حرف کو اس کی جگہ پر ٹانکا جائے اور اسے سے الفاظ کی ما۔لا میں جائے؟ اوکھ کہا

حروف کی جگہ بدل جائے تو تو مجھے یوں ہے جیسے بزرگوں کو بچوں چھوٹے چھوٹے کپڑے پہنا یا بچوں کو بزرگوں عورتوں کو مردوں اور مردوں کو عورتوں ہوں, لاچار ہوں بے بس ہوں اور کچھ نہ کر سکتے ہوں اور میں انھیں دیکھوں تو خاموش اور احتجاجی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہتے ہوں کہ ” کیا تم ہماری مدد گے ہم اپنے اصلی کپڑے (ہجے) واپس پہن سکیں”اوم ہمیں کو ن کوت ا میں کو سن کرت د ?

بعض اوقات ہوتا یہ ہے کہ بہت پیاری سی تحریر ہے مگر ہجوں کی غلطیاں ہوتی ہیں ” ‘ذ’ ‘او’ ‘ز’ ‘کی ا و’ ” ‘کی ا و کہ بہو رت ع میں کچھ دوست کہتے ہیں کہ تھی اور تم نے غور نہیں ممکن ہی نہیں میں تحریر غور غلطی میری ہوتی کہ غلطی کی نشاندہی کروں اور دوسری بات یہ کئی دوستوں کی عادت اتنی پختہ ہوتی ہے کہ وہ وہی غلطی کرتے ہیں مناسب نہیں سمجھتا ایک ہی بار بار اعادہ

مثلاً کچھ دوست ” نون غنہ ” کا درست استعمال نہیں کرتے ، کئی دوستوں کو ” کہ ” اور ” کے ” کا ” ‘ا’ ‘کہ’ ‘کا’ ‘،’ مع وز ‘وز مل وم نہیں مشق لکھاری بھی تخصیص روا نہیں رکھ پاتے, پھر میں کیا کہوں.مثلا مذہب, تہذیب, ذات, ذرا, ذومعنی, ذریعہ, ذائقہ, ذی شعور, ذہن, ذخیرہ, ذمہ دار, ذوق, وغیرہ سب میں ” ذ ” آتی ہے مگر کئی لکھاری ان الفاظ کو ” ز ” سے لکھتے ہیں ان کو یہ محسوس نہیں ہوتا, کیوں نہیں ہوتا ان کا مطالعہ ہے مگر وہ اسے ٹائپنگ مسٹیک کہہ کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں حالانکہ یہ غلطی ان کی اپنی ہوتی ہے. اسے ہم لاپروائی یا بے دھیانی کہہ سکتے ہیں۔

” اعلی, ادنی, مستثنی ” وغیرہ پر کھڑی زبر نہ ڈالیں تو غلطی ہے اسے آپ اعلا, ادنا, مستثنا لکھ دیں, اور مثلا, ضمنا, آنا فورا, قصدا وغیرہ پر تنوین ہے یعنی دو زبر. جب آپ دو زبر نہیں لگاتے تو یہ بھی غلطی ہے کیونکہ آپ کو ، کی پیڈ ٹھیک ٹھیک طرح سے استعمال کرنا نہیں آتا۔ ان غلطیوں کو سدھارنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آئیں بائیں کرنے کے بجائے کھلے دل سے کریں اضوا کی پیڈ کمرکے اعور مرکے اس کا د رست ست ت

جب تک آپ کی تحریر میں املا و ہجوں ہوں گی تب تک تحریر حسن, زبان و بیان سلاست اور چاشنی و پیدا نہیں ہو اور قاری اسے پڑھ گا.کچھ تحریریں طویل ہیں مگر شاذ ہی ان میں کوئی غلطی نظر آتی ہے ان کے مصنف اتناخوبصورت اور مربوط لکھتے کہ قاری تحریر کے میں پڑھتا چلا جاتا ہے اور مکمل تحریر کر ہی رکتا



About admin

Check Also

پریم چند کے افسانے

منشی پریم چند دیہاتی زندگی سے محبت کرنے والے انسان تھے،خاص طور پر ان میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *