نیب آرڈیننس بدترین کالا قانون ہے: نون لیگ

مسلم لیگ نون نے نیب آرڈیننس کو بدترین کالا قانون قرار دے دیا ہے۔

سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ کے عباسی نون خواجہ آصف اور احسن کانفرنس میں الزام کیا ہے حکومت لیے. چھپانے کے ہے ، احتساب کے لیے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کہا ہے کہ فیصلوں پر کوئی پوچھ گچھ ہو سکتی, جو چینی جو گندم کی چوری اس پر کچھ پوچھ سکتے, جو دوائیوں سوال نہیں کر, اس میں دوسری عجیب بات یہ ہے کہ اگر آپ نے ٹیکس چوری کی ہے تو نیب سوال نہیں کر سکتا۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ہوا 700 افراد کے نام پنڈورا لیکس میں آئے ان سے نیب سوال نہیں کر سکتا, جو چور حکومت میں یا حکومت نے جو بھی چوری کی ہے ان سے نیب سوال نہیں سکتا, حکومتی چوروں سے وہ سوال کریں گے جو چور کابینہ میں بیٹھے ہیں ، یہ سارا معاملہ بدنیتی پر مبنی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر قانون بنانا ہوتا تو کی ضرورت نہیں ہے, یہ مارشل لاء دور نہیں ہے, پارلیمنٹ موجود ہے, کی کرپشن کے چرچے نیب کو نظر نہیں آتے, اس آرڈیننس میں ان لوگوں کو این آر او دیا گیا ہے جو آج حکومت میں ہیں۔

, دوسری جو کوشش کی وہ زیادہ خطرناک حکومت نے عدلیہ کی کی ہے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ صدر صاحب نے دیا ہے کہ میں نے جاری کر دیا ہے, ججز تعیناتی, ٹرانسفر اور پوسٹنگ کا اختیار حکومت کے پاس چلا گیا ہے.

انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس میں صدر کا لکھا گیا ہے, جبکہ ان کام صرف سائن کرنا صاحب اس لئے خوش کہ اس آرڈیننس جتنا ذکر صدر کا ہو, یہ عدلیہ من پسند فیصلے لینے کی کوشش ہے, اس سے آپ 68 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو جج لگا سکیں گے اور انہیں ہائی کے جج کے برابر تنخواہ دے سکیں گے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کا مطلب کہ آپ لوگوں کو جج لگانا ہے اور اپنی کے فیصلے لینے موجودہ چیئرمین نیب کی حکومت کے لیے خدمات بے کی کوئی کرپشن نظر نہیں ایک نوٹس کسی وزیر, کابینہ ممبر یا پی ٹی آئی کے رکن کو گیا, بلین ٹری سونامی کا آج تک کچھ پتہ نہیں کہ اس کا کیا حشر ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کی جانب سے وزیر کو کوئی نوٹس نہیں گیا بلکہ کیسز ہی گئے ، ملک کے وزیرِ نے و، ی وزیرِ نے کہہون ا ن توہے ضی

نون لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ اس آرڈیننس میں ابہام رکھا گیا چیئرمین نیب بن ہی نہ سکے ، نیب آرڈین ؟ن جا رڈینے کیس جا کرنت کیس جا کرنت کیس جا کرنت کیس جا کرنت کیس جا کرنت کیس جا کرنت کیس جا کرنت کیس پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس جاری تھے ، وہاں بل لاتے ، نیب ترمیمی کالا قانہیںوون ہے ، د

انہوں نے کہا کہ یہ آرڈیننس حکومت کی کرپشن چھپانے لیے ہے, ایسے چیئرمین نیب کی مدت میں کےلیے ہے جو صرف خان کی نوکری یہ شق ختم کر دی گئی ہے کہ چیئرمین four سال کی مدت ختم کر کے جائے گا, کرپٹ وزیر اعظم کے رہنے تک یہی چیئرمین نیب رہے گا۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ جب تک چیئرمین نیب رہیں گے حکومت کرپشن کو تحفظ ملتا کو این آر او رہے گا, مالم اور بلین ٹری کرپشن آرڈیننس میں مضحکہ شقیں ہیں, یہ عدلیہ پر حملہ اور پارلیمانی نظام میں مداخلت ہے.



About admin

Check Also

عمران خان نے جہاں ہاتھ ڈالا وہاں تبدیلی نہیں تباہی آئی، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *