بیرو کریسی میں تبادلوں کا سلسلہ کب تک چلتا رہے گا؟

سیاست ایک ایسا کھیل ہے جس کو سمجھنا آسان اسی وجہ سے ہمارے ملک کی کردار جنم لیتے وہ بچپن سے رہے ہوتے کو سچائی کبھی چہرہ نہیں ملتا کبھی درپن نہیں ملتا ملک کی مقبول سیاسی جماعتوں میں سے پاکستان مسلم لیگ ن بھی ہے, اس وجہ شہرت میاں نواز شریف اور شہباز شریف شخصیت ہے۔

تاہم میاں نواز شریف علیل ہونے کی وجہ سے وقت لندن میں ہیں اور میں شہباز شریف ان آگے بڑھارہے ہیں, دوسری میاں نواز شریف صاحبزادی مریم نواز نے ہے.تاہم وقت کے ساتھ وہ بھی زیرک ہوتی جارہی ہیں لیکن پارٹی کا بوجھ ان پرمکمل طور پر میں اس وجہ ہے کیونکہ ان زیرک سیاست گزرچکا بیانیہ تبدیل ہوچکا ہے یا پھر اس میں ٹھہراو آ چکا ہے۔

فوجی قیادت سے دشمنی ختم ہوچکی اور اب دارالحکومت پر چڑھائی کرنے کی باتیں بھی نہیں کی جارہی ہیں۔ اب معمول کی سیاست شروع ہوچکی ہے اور آئندہ انتخابات کو ہدف بنالیا گیا ہے۔ اس کے لئے باقاعدہ تنظیم سازی بھی کی جارہی ہے اور حمزہ شہباز اس وقت جنوبی پنجاب کے دورے پر ہیں ا اورسیاسی اصوڑ پچھورسیاسی اراڑ پچھورسیاسی اراڑ پچھاڑم م م م

وہ پارٹی کومضبوط کرنے کے لئے جنوبی پنجاب کے محاذ پر ڈٹے اس وجہ سے پارٹی کارکنان کا بھی ہوہم ہے او تن وکیا کی او سر ت سسر پارٹی کی حکمت عملی کا حتمی لندن لیگ بانی میاں نواز شریف ہی کرتے ہیں ذکر یہ ہے کہ سیاسی صورتحال اور پوزیشن کو دیکھتے شہباز میں سے کسی آگے لئے فیصلہ کرنا آسان نہیں ہے جوئے مترادف وجہ سے میاں نواز شریف پر دباؤ اضافہ گیا ہے کہ پارٹی کے لیے رخ کو متعین انتخابات سے قبل پارٹی لائحہ سکے۔مسلم لیگ ن کے بڑوں اور پالیسی سھھ کی

شہباز شریف جس انداز کی سیاست کرنا چاہتے ہیں ، مریم نواز اسے غلط سمجھتی ہیں۔ فیصلہ کن قوت نواز شریف کے ہاتھ میں ہے ، مگر وہ باہر بیٹھے ہونے کی وجہ سے معاملات میں اتنے موثر پابت نہیں ہےو پ یہ ” جنگ ” وراثتی جنگ ہے جو سیاسی جماعتوں کو کہیں کا نہیں چھوڑتی۔ پیپلزپارٹی میں بھی یہی مسئلہ ہے کہ اگر پیپلزپارٹی بے نظیر بھٹو کے بعد آصف نہ آتے یا ساتھ زباہےدستی بھٹو تااجھدستی بھٹو تااجھل جمو تااپیپل او مر یموکیا دال الرٹی سخر انہوں نے جماعت کو ایک نیا تحرک تو دیا لیکن ان میں سیاسی بلوغت کی کمی پائی جاتی ہے۔

یہ نواز شریف اور ان کی بیٹی کی بہت فہمی تھی کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے اختیار کرکے موجودہ خلاف کوئی بڑی کرسکیں گے.جماعت میں باآسانی اگلے انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے حکومت میں واپس آسکتے ہیں.

تاہم جماعت میں اندرونی رسہ کشی باوجود جماعت کے کوئی ہیں.نواز شریف اور ان کی بیٹی کے حصول کے ضروری لیکن شہباز کی مفاہمانہ حکمت معاون ہوگی.یہ بات واضح ہے سیاسی جماعتیں ذہنی طور پر عام انتخابات کے لیے تیار ہیں.

پی ٹی آئی حکومت کی پورے ملک اور خصوصی پنجاب میں ناقص کارکردگی کی وجہ ن اپنی کامیابی سے پراعتماد ہے.پنجاب اگر بیوروکریسی ہیں, تاہم چہرے بدلنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ عوامی خدمت کے دعوے صرف دعوے ہی ہیں اورمسائل جوں کے توں. اس حوالے سے یہ بات قابل زکر ہے کہ گورننس کو بہتر کرنے کے لیے پورا زور کریسی کے تبادلوں پر لگایا جا رہا ہےا ہا رہا جس سے بیورو کریسی میں ہیجان کی کیفیت ہے اور ہر کوئی تبادلے کے دباو میں ہے۔ آخر پنجاب میں کب تک تبادلے تبادلے کھیلا جائے۔

اصل میں بیڈ گورننس کے زمہ داروں کی باز پرس کیوں نہیں کی جاتی۔ سیاسی صورتحال کے ساتھ ساتھ اگر تعلیمی کارکردگی کی بات جائے تو عرض یہ ہے جناب کہ اس وقت میٹرک (نہم و دہم) انٹرمیڈیٹ (پارٹ ون اور ٹو) کے نتائج التوا کاشکار ہیں اور صرف اختیاری کی بنیاد پر پرموشن پالیسی نے پورے نظام کو دائو پر لگا دیا گیا ہے۔جو پالیسی حکومت نے اپنائی ہے اس سے قانون اور ترمیم ضروری ہے یہ عالم ہیں اوگر لدا مستقب

جیسے ہی نتائج کا اعلان ہو گا تو اس سے عجیب وغریب پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ تاہم اس میں کسی حد تک قصور شعبہ تعلیم میں پوسٹوں کابھی ہے, اگربروقت میرٹ پر فیصلہ کرلیا جاتا ازم کو نہ دیکھا جاتا کے کاندھوں پر بھی ذمہ داری لیکن اب صورتحال مختلف ہے.



About admin

Check Also

مہنگائی نے بے بس عوام کا جینا محال کردیا

مہنگائی کی شرح میں 12 اعشاریہ 66 فیصد اضافے کو منی بجٹ قرار دے کر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *