لعابِ دہن: تشخیصی نامیاتی مائع

ڈاکٹر سید فراز معین

اسسٹنٹ پروفیسر ، پروٹیومکس سینٹر ، جامعہ کراچی

انسان کے اندر بہت سی خصوصیات کے ساتھ ساتھ جوایک تجس کی ہے وہ اس کو بے چین رکھتی ہے وجہ ہے کہ ہم وقت ساتھ ہر شعبہ زندگی میں تیز ترقی اور رہے اگر دیکھا جائے تو طبی شعبے میں انسان نے اپنے آپ کو ہمیشہ سے مشغول رکھا ہے ، یہ شعبہ اس کی زندگی سے جڑا ہے۔ کسی بھی بیماری کی تشخیص اور دوا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ مصائب زدہ جسم سے کچھ نمونے حاصل کیے جائیں۔ ان نمونوں کو عام طور سے تشخیصی تجربہ گاہ میں جانچ پڑتال سے ہے اور پھر مریض کا علاج شروع کیا جاتا ہے۔ خون ایک ایسا نمونہ ہے جو ہر بیماری کی تشخیص میں استعمال کیا جاتا ہے۔

خون کے علاوہ دیگر مخصوصی جسمانی سیال بھی کسی خرابی یا جسمانی بد نظمی کو تشخیص کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان دیگر جسمانی سیال میں سے واحد لعاب دہن ایک ایسا نامیاتی سیال ہے جو کہ بہت تک خون یں مئےت تک خون یں میں مئےوجاود مختفد مختفد متفد یہی وجہ ہے کہ دنیا میں منہ میں موجود لعاب کو خون کے متبادل کے طور پر پر کھا جارہا ہے۔ لعاب کے اوپر ہونے والی تحقیق اس طرف اشارہ کرتی نظر آتی ہے جسم میں ہونے والی تبیدیلیاں بایائدہ طلود لود بام ابد طن بد لد ن بااد طن بد لد ن بام ہلود طن بد لد ن بام ہابد ن بد لد

لعابِ دہن: تشخیصی نامیاتی مائع

منہ میں موجود لاب دراصل لحمیات (پروٹین) پانی ، مختلف برق پاروں (ایون) وغیرہ کا مرکب ہوتا ہے۔ انسانی کھوپڑی میں منہ کے اطراف بنانے ہوتے ہیں کہ خون کی شریانوں سے اکثر اندر لے سکتے ہیں پھر لعاب جب منہ کی چھوٹی آگے تو جارہا اجزاء خون فراہم کرنے والی نالیوں میں سے نکل کر لعاب میں شامل ہوجاتے ہیں. اس طرح مختلف بیماریوں کے بائیو ما رکر منہ کے لعاب میں پہنچ جاتے ہیں اور پتہ لگائے جاسکتے ہیں۔ اس خیال کو مدِنظر رکھتے ہوئے جامعہ کراچی کے شعبہ پروٹیومکس سینٹر میں تحقیق جاری ہے۔

پروٹیومکس چونکہ پروٹین یا لحمیہ سے تعلق رکھنے والا شعبہ ۔اس لیے منہ کے لعاب پر جو منصوم پکگیاو مہیوم کاود کز اوم اری ہیں اومیں بھیاری ہیں ن ور ب مثال کے طور پر دانتوں میں کیڑا لگنا ایک عام بیماری ہے۔ اب اس بیماری میں کیا منہ میں موجود لعاب کے اجزاء خاص طور پر پروٹین تبدیل ہوجاتے ہیں یا نہیں؟ یہ پتہ لگانے کے لیے دو گروہ اس مطالعہ میں شامل کیے گئے۔ ایک گروپ صحت مند اور صاف دانتوں والے افراد کا تھا جب کہ دوسرا گروہ کے دانتوں میں کیڑا موجود تھا۔ ا ن دونوں گروپ کے افراد کے لعاب کا موازنہ کیا گیا۔

اس سلسلے میں مختلف فنی پہلو استعمال کیے گئے جو کہ پروٹیومکس سینٹر میں موجود ہیں اور روز کام مےیں اہیںتعم ل ہوت منہ میں کیڑا لگنا دراصل بیکٹیریریاں کاکام ہوتا ہے جو کہ دانت کی اوپری سطح کو خخاب ہیں اور دانت کالا ہوت عوشر یہ انفیکشن آہستہ آہستہ دانت کے اندر داخل ہوسکتا ہے اور پورے دانت کو خراب کرسکتا ہے۔ اس تقابلی مطالعہ کے دوران یہ مشاہدہ کیا گیا کہ لعاب کے پروٹین میں کچھ نہ کچھ تبدیلی موجود ہے۔ مثال کے طور پر ایک خاص قسم کی اینٹی باڈی جس کو ” آئی جی اے ” کہتے ہیں۔ ان افراد کے لعاب میں زیادہ مقدار میں موجود تھیں جن کے دانت کیڑا لگا ہوا تھا جب کہ صحت مند افراد کےا ابہمیں ر عاب تیں

لعابِ دہن: تشخیصی نامیاتی مائع

اسی طرح پروٹین یا لحمیہ کو توڑ دینے والے خامرہ یا انزائم بھی دونوں گروپ میں مختلف تھے۔ جن افراد کے دانت میں کیڑا لگا ہوا تھا ان کے لعاب میں خامرے زیادہ مقدار میں تھے جب کہ صحت منی داھا ت منید ادانت ولے تفر اس طرح سے یہ بات اس تحقیقی مطالعہ میں سامنے آئی کہ لعاب منہ کے اندر موجود کسی بھی تبدیلی کو عکاحید کرنے تکی مل اسی طرح ایک اور تحقیقی مطالعہ میں ہم نے یہ مشاہدہ کرنے کوشش کی کہ کیا دل کے لعاب میں دل کی بتانے والا بائیو مارکر موجود ہو تا ہے یا اس مطالعہ میں ساٹھ کے قریب دل کے مریضوں کا لعاب لیا گیا اور ایلائزہ (ELISA) کٹ کو استعمال کرتے ہوئے اس خاص مارکر کو دیکھنے کی کوشش کی گئی۔

یہ مارکر ” ٹروپونن آئی ” کہلاتا ہے۔ عام طور پر جب دل کا پڑتا اور میں دل کے خلیے ٹوٹ پھوٹ تو اس کے میں ٹروپونن ہو جاتا ہے .خون میں مار کر کی بڑھتی ہوئی مقدار دل کے عارضہ کی تشخیص کرتی ہے, چناں ایسے مریضوں کے لعاب میں بھی اس مارکر کا موجود ہو نا قیاس کیا جا

ہمارے مطالعے کے دوران اس بات مشاہدہ کہ کیاواقعی لعاب میں موجود تھا جب میں اور خون میں مارکر کی مقدار میں مارکر کی جب کہ لعاب میں اس کی کم کے رکھی جاسکتی ہے, کیوںکہ دل اور واسطہ ہے جب لعاب کے اور غدود میں داخل ہو لعاب کا حصہ بننے میں وقت درکار ہو تا ہے۔ یقینا ًٹروپونن کی بڑی مقدار خون میں ہی رہے گی اور تھوڑی سی غدود کے ذریعے لعاب میں داخل ہو سکے گی۔

اہم بات یہ ہے کہ لعاب میں دل کے عارضے کے نتیجے میں تبدیلی مشاہدہ کی گئی۔ اس مشاہدے کو اگر سامنے رکھا تو غلط لعاب میں جسم میں موجود مختلف والی تبدیلی کی کرنے کی سطح پر ہونے والی ایسی تحقیقات کی طرح ہے .جہاں منہ کے سرطان سے لے کر گردوں جگر اور دیگر جسمانی اعضاء کی لعاب کے اندر ہونے تبدیلی سے منسلک ہونے کے شواہد بیان کیے گئے یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ منہ میں موجود لعاب 24 گھنٹوں کے دوران اپنے جز ااء کو رت ت ل و رتبد ل

لہذا صبح, دوپہر, شام اور رات میں لعاب کے اجزاء اپنے کی حیثیت میں مختلف ہوتے ہیں .اس لیے لعاب کے لیے نمونہ جات صبح کے وقت لیےجاتے جہاں لعاب کے اندر موجود اجزاء اپنی اوسط مقدار میں ہوتے ہیں .یہ کہنا شاید مشکل نہیں ہے لعاب ایک ایسا نا مائع ہے ، جس نہ صرف کے مل سکتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اس نامیاتی مائع کو تشخیصی عمل میں مزید مفید بنانے میں مدد گار ثابت ہوگی۔

اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو آج کل کی اس وباء کے دور میں منہ کے کو کووڈ وائرس کی تشخیص کے لیے استعمال کی گیا ا ا یہ وائرس چوں کہ فلو کا وائرس ہے اور اوپری سانس کی پر اثر کرتا ہے, اس لیے اس کا میں موجود ہونا اور یہاں سے تشخیص ہونا چوںکہ یہ ایک بہت تیزی سے پھیلنے اور لگنے والی بیماری ہے.

اس لیے اس کی تشخیص کی ایسی جس اپنے منہ سے نمونہ لے کر کے کسی بھی تجربہ گاہ بیماری میں مبتلا ہے یا, جس رفتار سے آج لعاب اوپر مختلف سے تحقیق ہورہی تو یہ لگتا ہے کہ والے دنوں میں جہاں خون نمونہ لینے میں کا سامنا ہوگا وہاں شاید سے لیا جاسکے یہ مریض کے لیے ایک آسان اور بلا تکلیف عمل ہوگا جو اس کی جلد تشخیص او۔ا صحت کے تویے مع اور صحت کے تویے مع



About admin

Check Also

سرطان پیدا کرنے والے وائرس

ڈاکٹر نصرت جبیں ایسوسی ایٹ پروفیسر ،ڈیپارٹمنٹ آف مائیکرو بایولوجی ،یونیورسٹی آف کراچی  وائرس کرّۂ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *