ایک یادگار سبق آموز فلم ” دوسری ماں ”

60 ءکی دھائی میں کہانیوں کے نئے رجحانات اور موضوعات پر مبنی کئی جن میں انسانی رشتوں کو خاص طور پر مرکزی ۔نردار بامرکزی کنردار ب یہ یادگار فلمیں اپنے موضوع ، موسیقی اور شان دار ٹریمنٹ کے ساتھ عوام میں پسند کی گئیں ، ایسی کی ایک طویل فہفہس ان میں 1968 ء میں بننے والی ایک کام یاب گھریلو فلم ” دوسری ماں ” کا شمار بھی ہوتا ہے۔ منگل 2 جنوری عیدالفطر کے روز کراچی کے مرکزی سینما جوبلی میں نمائش پذیر ہوئی ، جہاں اس نے eight ہفتے مکمل کیے۔ مجموعی طور پر اس فلم کا بزنس 33 ہفتے رہا۔ باکس آفس پر اس فلم باآسانی سلور جوبلی منائی۔

کراچی کے سوسائٹی سینما کا افتتاح اس فلم سے ہوا تھا۔ حیدرآباد میں اس کا مرکزی سینما ” نشاط ” تھا۔ اس فلم کے پروڈیوسر کراچی کے مشہور بلڈرز ایس اے وائی کنسٹرکشن تین پارٹنر سردار الطاف ائور یاسیاف امور یاسیا کیم م مور ۔اسن کی سرد ع سرد م م م م مد کیمد جم برد مد م برد مد م م برد معروف ہدایت اقبال اختر کی بہ طور ہدایت کار پہلی فلم تھی۔ اقبال اختر بنیادی طور پر فلم ایڈیٹر تھے ، کراچی کے والے اقبال بہاری زبان بوولتے تھے۔ان بجااس فلکھم کی اوکان م لم کی مکوال م م تور مل

فلم کی کاسٹ میں شمیم ​​آرا, کمال, روزینہ, لہری, نرالا, حنیف, ماسٹر شوکی (بے بی نعیمہ گرج) بے بی شاہینہ, سنتوش, مہتاب بانو, ایرانی, آزاد, سکندر, خورشید کنول, آغا سرور, قربان جیلانی , چھم چھم, آفتاب, شرافت, بے بی ہما, مسرت جبین, راشد, رنگیلا کراچی والا, مقصود انصاری, رفیق نانی والا, گورنر, جہانگیر مارواڑی, ابو استاد وغیرہ شامل تھے.

فلم کی مختصر کہانی کا خلاصہ کچھ اس طرح سے ہے۔ ( ایک دن کوئٹہ میں شدید زلزلہ آنے کی وجہ سے یہ دونوں خاندان بچھڑ جاتے ہیں۔ شیخ صاحب اپنے بھائی اور بیگم زینت (سنتوش ریل) کے ہمراہ کراچی آکر آباد ہوجاتے ہیں۔ رضیہ کو انہوں نے بہت تلاش کیا ، مگر وہ اور اس کے بھائی کا پتہ نہ چلا۔ اس دوران ارشد جوان ہوگیا اور اس کی شادی ایک اور رضیہ نامی خاتون (مہتاب بانو) سے ہوجاتی یہےوا مجاتی ی نون وات ہے ون اب تور ب ون جاب تور ارشد رضیہ کی موت کا صدمہ بھلانے کے لیے شراب نوشی اور کلب جانے کا عادی ہوجاتا ہے۔

ایک یادگار سبق آموز فلم '' دوسری ماں ''

ماسٹر شوکی کی دیکھ بھال زیادہ تر اس کے بڑے بھائی اور بہاوج کرتے ہیں۔ ایک روز شوکی اپنے باس سے وعدہ کرلیتا ہے کہ وہ شراب پئے گا ، تو اپنے بیٹے کا خون پئے گا۔ ارشد شوکی سے شراب نہ پینے کا وعدہ کرتا ہے۔ ارشد کے دو ملازم جمن (لہری) مٹھو (نرالا) گھر کی ملازمہ کریمن (روزینہ) سے عشق لڑاتے ہیں۔ جمن کی ایک بیٹی (بے بی شاہینہ) بن ماں کی ہے ، جسے جمن نے اپنے ماموں سکندر اور مومانی خورشید کن ول کے پاس ر یہ دونوں میاں بیوی بچی پر بے حد ظلم کرتے ہیں۔ جمن ایک روز دونوں کو اپنی بچی کو مارتے دیکھ کر بچی کو لےکر اپنے مالک ارشد کے گھر آتا ہے۔

کریمن اس بچی کو اپنی بیٹی بنالیتی ہے اور پھر وہ جمن کی بیوی بن جاتی ہے۔ مٹھو بے چارہ ہاتھ ملتے رہے جاتا ہے۔ شوکی کے ذہن میں ایک جمن یہ بات ڈالتا ہے کہ وہ اپنے باپ کو دوسری شادی کرنے کا کہے۔ اس طرح اسے دوسری ماں مل جائے گی۔ شوکی اپنے باپ سے دوسری شادی کرنے کی ضد کرتا ہے, کہتا ہے, اچھا اگر تمہیں دوسری ماں تو جاکر خود اپنے دوسری تلاش کرو, میں اسے تمہاری پسند کر اپنا لوں یہ سن کر شوکی دوسری ماں کی تلاش میں شہر کی سڑکوں اور بازاروں میں گھومتا اور گاتا پھرتا ہے۔

” سنئے تو محترمہ آپ کو زحمت ہوگی ” شوکی کا ایک کار سے ایکسیڈنٹ ہوجاتا ہے۔ اسپتال میں اسے لیڈی ڈاکٹر رضیہ (شمیم آرا) ملتی ہے ، جو اس کی دیکھ بھال ایک ماں کی طرح کرتی ہے۔ اسی اسپتال کا ایک شیطان ڈاکٹر سلطان (حنیف) جو رضیہ کو پسند کرتا کہتا ہے کہ تم تو اس کی یکھدیکھ بھا ل وکیس یکھ کوت طو سے کر شوکی ، ڈاکٹر رضیہ کو اپنی سال گرہ میں آنے کی دعوت دیتا ہے۔ شوکی اپنے باپ ارشد کو کہتا ہے کہ مجھے دوسری ماں مل گئی۔ وہ ڈاکٹر رضیہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شیخ صاحب اور ان کی بیگم جب رضیہ کے گھر جاتے ہیں ، تو میر صاحب جو زلزلے اپاہج ہوگئے تھے ، ان کو دیکھ کور بے حد تخور بے حد توے شیخ صاحب کو یہ جان کر بے حد خوشی ہوتی ہے کہ رضیہ اور اس کا بھائی ہے ، لیکن شیخ صاحب ابھی اس بات کو راز رکھتے ہیںو راز رکھتے ہیںک ارشد کو نہیں بناتے۔ ماسٹر شوکی کی سال گرہ کے موقع پر شیخ صاحب ، رضیہ کو بھی مدعو کرتے ہیں۔ رضیہ اور بچے ملکر گاتے ہیں۔

ایک یادگار سبق آموز فلم '' دوسری ماں ''

” سالگرہ پر تجھ کو دُعا دوں اور کیا میرے لعل جئے ہزاروں سال تو منے جئے ہزاروں سال ”۔ سال گرہ کے موقع پر ڈاکٹر سلطان کی آمد سے بے تکلفی ارشد کو بری ہے اور وہ یہ سمجھتا کہ ضیہ ، ڈڈاد ے رضیہ ارشد کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ شوکی اس معمے کو حل کرنے میں کام یاب ہوجاتا ہے ، ارشد بھی تمام حقیقت سے واقف ہے کہ رضیہ سے ا۔س کا بھا م نکا ہاوگین میں نکا ہاوگین میں نکا اس طرح شوکی کو دوسری ماں مل جاتی ہے ، جو اسے سگی ماں کی طرح پیار دیتی ہے۔

جہاں تک فلم میں اداکاروں کی کارکردگی کا ذکر آتا ہے تو چائلڈ ماسٹر شوکی نے اس فلم میں اپونی ۔اوںا و در وںا دنے توس ماسٹر شوکی جو آج اسٹیج اور ٹی وی کی معروف اداکارہ نعیمہ گرج کے نام سے اسٹیج کی میں اپنی شہرت رکھتی ہیں۔ اس فلم کو اگر نعیمہ گرج کی فلم کہیں تو جا نہ ہوگا, کیوں کہ کہانی کردار ہے, کہانی ایک کے بچے پر بیس نعیمہ گرج کی اداکاری نے کو خوب ادا فلم کا عنوانی کردار اپنے دور کی سپر اسٹار شمیم ​​نے اداکیا, انہیں گھریلو ، رومانی اور سنجیدہ کرداروں ملکہ حاصل تھا۔اداکار کمال نے ماسٹر شوکی (نعیمہ گرج) اا اوال ن ر ت رد کےا د سن کے تکرد اس فلم میں انہوں نے اپنی شوخ اداکاری کے بہ جائے اپنی سنجیدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

لہری اور نِرالا نے کمال کے ملازمین کے کرداروں مزاحیہ اداکاری کا رنگ خوب جمایا ، امیںم ااا میںم حکےاان کم م رکابان کم رد ررمیان پم برد رردود ان م ص درمیان پم بد ردون پم رد اداکار حنیف نے بہ طور ولن ڈاکٹر سلطان کا روایتی ادا کیا, ایک موقع پر ماسٹر شوکی کلفٹن فلمائے ہوئے ایک منظر حنیف کے بارے میں کہتا ” ریل آزاد, کمال, آغا سرور, قربان جیلانی, اپنے اپنے کرداروں میں بے حد کام یاب رہے ۔ یہ فلم اسٹار سنگیتا اور کویتا کی والدہ مہتاب بانو نے کمال کی بیوی کے مختصر کردار کو نبھایا۔

ہدایت کار اقبال اختر نے تمام اداکاروں سے بہت عمدہ کام کروایا۔ بچے اداکاروں سے کام لینا کتنا مشکل ہوتا ہے, انہوں اس مشکل کو اپنی ذہانت سے آسان اور ماسٹر شوکی, بے بے بی ہما اور میں شامل تمام بچوں سے بہت ہی عمدہ کام فلم کے موسیقار لال محمد اقبال نے بہت عمدہ دھنیں ترتیب دیں, جن پر مسرور انور کے نے ان دھنوں کو عوامی مقبولیت دلانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اپنے موضوع ، نغمات اور بہترین کہانی کی وجہ سے اس فلم کو عوام نے بے حد پسند کیا۔ خواتین نے اس فلم میں شمیم ​​آرا اور ماسٹر شوکی کی کردار نگاری کو بہت زیادہ پسند کیا۔



About admin

Check Also

کرکٹر اور فن کار

شہرت ایک خطرناک چیز کا نام ہے، اگر کسی انسان کے سَر پر شہرت کا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *