تعطیلات میں بچوں کے اسکرین ٹائم کو کیسے کم کریں؟

عالمی وبائی مرض کووڈ -19 کے باعث گزشتہ ایک سال سے زائد عرصہ کے دوران جہاں زندگی دیگر شعبہ جات متاثر ہوئے ہیں, وہاں بچوں حصول تعلیم کی کوششوں کو بھی ناقابل تلافی مزید برآں, اب بچوں کے اکثر اسکول گرمیوں کی چھٹیوں پر جاچکے ہیں.

گھر پر پورا دن بچوں کے لیے مثبت اور تعمیری سرگرمیاں ترتیب دینا اور بچوں کو ان مشغول کھنا وا لجول ڑکھوا لو لیول بول لو ن ن ت ل ل لجو لدین ب تمام سرگرمیوں میں بچوں کا اسکرین ٹائم بڑھ جاتا ہے۔

اسکرین ٹائم سے متعلق رولڈ ڈاہل نے 1964 ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ” چارلی اینڈ دی یںاکلا فیکٹھل: ” م

‘خدارا ، خدارا ، ہم ہاتھ جوڑتے ہیں

جاؤ اپنے ٹی وی پھینک آؤ

اور ان کی جگہ آپ اسی دیوار پر

خوبصورت کتابوں کی الماری نصب کرلو ‘

چاہے بڑے ہوں یا بچے, یہ بات ہمیں اچھی طرح ہے کہ جب آپ اسکرین استعمال ہیں تو آپ کو بہت جلد ایسی عادت کہ اس سے رہنا مشکل تر ہوتا چلاجاتا بچوں کے معاملے میں یہ عادت اس لیے اور بھی زیادہ ہے کہ اس کے باعث بچوں ذہنوں میں ایسی تبدیلیاں آتی جن کے بارے میں ہم آہستہ آہستہ جان رہے ایسا بھی نہیں ہے کہ اس کے اثر ا گ چھےاچھے چھے

تاہم ، اس بات کا ادراک ہونا بھی اہم ہے کہ کو کس طرح مفید انداز میں استعم لا کیا ہے اور کس اا م ن ک

عالمی شہرت یافتہ مفکر افلاطون نے اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ شاعری اور ڈرامہ نوجوان ذہنوں پر اثےر انداز ہوسک اسی نوعیت کی پریشانی ان والدین کو بھی ہوئی جن کے گھروں میں شروعات میں ٹیلی ویژن ایک لازمی حیثیت حاصل کی تھی۔ والدین اس دور میں بھی بچوں کو ٹیلی ویژن کا عادی ہونے اور سے آنکھوں کے متاثر ہونے کے حواےر سے خبر ت کر

ایک طرف جہاں کتب بینی سے بچوں کی علمی قابلیتوں میں اضافہ ہے ، وہاں ہمیں یہ باتت بھی رںنا ہے جوا یںما ہے وپ م مختلف مطالعوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بچے جن کی عمر دو سال سے کم ہے ، وہ میں تین گھنٹے اسکرینز کے سامنے گزات یہ دورانیہ پچھلے 20 سال میں دُگنا ہوا ہے۔

اسکرین ٹائم بڑھنے سے بچوں کی جسمانی سرگرمیاں کم ہوجاتی ہیں, جسمانی ورزش کمی آتی ہے, وزن بڑھتا ہے اور خاندان کے ساتھ کھانا کھانے کے کم مواقع میسر آتے اس کے باعث بچوں کو بڑی عمر میں نیند کی کمی جیسے مسائل بھی درپیش آتے ہیں. تحقیق کے مطابق وہ بچے جن کے کمرے میں ٹی وی موجود ہے ، وہ روزانہ اپنی مطلوبہ نیند سے اوسطاً31 ٹی۔ م سوتے ہیںم۔نٹ کم سوتے ہیں

اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچوں کو ٹیلی ویژن بالکل نہیں دیکھنا چاہیے۔ تاہم ، بچوں کو ٹیلی ویژن سے اس وقت متعارف کرانا چاہیے جب عمر کم از کم دو سال ہوجائے صر اکےائے صم صر چند معزومتر ند معزومتر ٹی وی شو ” سیسیم اسٹریٹ ” اس کی ایک مثال ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹی وی پر چلنے والے معلوماتی مواد کی مدد سے تین سے پانچ برس بکوں کے ریموکم ، اواند س بتور ع اواند سے تور ع اواند سے تور ع

ٹیمپل یونیورسٹی, فلاڈیلفیا میں نوزائیدہ بچوں کی زبان کی کیتھی پاسیک کا کہنا ہے کہ پروگرامز ہیں اور ٹی وی کے کیا گیا ہے نہیں ہوسکتے بلکہ اس کے باعث غریب کی بھی مدد کی جا سکتی ہے. تاہم ، اگر آپ رات کا خبرنامہ دیکھ رہے ہیں یا کوئی دیکھ رہے ہیں جو ہمارے ٹیلی ویژنز پر رہے ہہوتے ہیں ۔بایہ بچچب ہ ل ل

یہ باتیں میڈیا کی دیگر شکلوں کے حوالے سے بھی کہی جاسکتی ہے۔ جب آپ اسکرین پر اور اسکرین آپ پر اثر انداز رہی ہو, جیسے ویڈیو کالز کے دوران دور سے کہانیاں سنانا یا شوز دیکھنا جن اپنے بچوں کر, انھیں ہم انٹرایکٹو میڈیا کا نام دے سکتے ہیں.

تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ٹیلی ویژن کے استعمال کا تعلق تخلیقی سوچ میں کمی سے بھی ہے۔ اسی تناظر میں ایک حالیہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اسکرین گزارا گیا وقت اسکول جانے والے بہےوں کی الاغی موںم کی دماغی من توت ت حی

دماغی منظر کشی سے مراد یہ ہے کہ ہم دنیا میں لوگوں ، جگہوں اور واقعات کے بارے میں کیسے سوچتے ہیں۔ یہ دنیا بھر میں انسانوں کی ایک عادت ہے ، جس کے ذریعے موقع پر غیر موجودگی کے وہ دنیا میں ہم۔نے ہیں ے ے ا

زیادہ اور غیر موزوں اسکرین ٹائم سے تخلیقی سوچ میں کمی کی وجہ یہ ہے کہ اسکرین ہمارا کام کر دیتی ہے۔ اسکرینز ہماری آنکھوں کے سامنے اور کانوں تک معلومات لے آتی ہیں لیکن دیگر حوزاس پر اثر او،ای کیاحو حموق ۔موق ۔موق ۔موق ۔موق ۔موق ۔مو موق مور موک حر ر ن نرس

اچھی خبر یہ ہے کہ والدین کے لیے اب بھی یہ ہے کہ وہ بچوں کی دماغی کشی کی صلاحیت کو بہتر کے ساتھ ساتھ ان کا اسکرین ٹائم بھی کم والدین کو صرف یہ کرنا ہے کہ انھیں اپنے بچوں کو کھیلنے کی اجازت دینی ہے تخلیقی کھیلوں کی بنیاد ہی دماغی منظر کشی ہے۔

جتنا زیادہ بچوں کو کھیلوں میں لگایا جائے گا ، اتنا زیادہ ان کے خیالات میں پختگی آئے گی۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ بچے جتنا زیادہ وقت اسکرینز کے گزار تے ہیں ، انھیں باہر گزارنے کے ل۔اتنا ہی کم یوقت ی م یوقت ی



About admin

Check Also

اِبن الہیثم، دنیا کا پہلا حقیقی سائنس دان

بطور طالب علم آپ نے ابو علی الحسن اِبن الہیثم کا نام ضرور سُنا ہوگا۔ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *