گفتگو کے تین دروازے… مولانائے روم کی نظر میں

مولانائے روم نے گفتگو کے تین دروازے بنائے تھے۔ کہا کرتے تھے کہ آپ کا کلام جب تک ان تین دروازوں سے گزر نہ جائے ، اس وقت تک اپنا منہ نہ کھولیں۔ وہ دروازے درج ذیل ہیں:

1. اپنی گفتگو کو سب سے پہلے سچ کے دروازے سے گزاریں ، اپنے آپ سے پوچھیں جو بولنے والے ہیں ، کیا وہ سچ ہے؟ اگر جواب ہاں میں آجائے تو دوسرے دروازے میں داخل ہوں۔

2۔ اپنے کلام کو اہمیت کے دروازے سے گزاریں۔ اپنے آپ سے پوچھیں ، آپ جو کہنے جارہے ہیں ، کیا وہ ضروری ہے؟ اگر جواب ہاں میں آئے تو پھر …….

3. اپنے کلام کو تیسرے اور آخری یعنی مہربانی کے دروازے سے گزاریں۔ اور پھر اپنے آپ سے پوچھیں ، کیا آپ کے الفاظ نرم اور لہجہ مہربان ہے …..

اگر ایسا نہ ہو یعنی لفظ نرم اور لہجہ مہربان ہو خاموشی اختیار کرلیؒں ، خواہ آپ کے کموخا ک ا کموخ اا ن تنو اا ن ب نہو ور …

مولانا کی ذات میں یہ تینوں دروازے, ” حضرت شمس تبریز ” نے کھولے تھے, شاید یہی وجہ ہے کہ مولانا حضرت شمس تبریز سے ملاقات بعد کبھی کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالا تھا, جو نہ ضروری نہ ہو اور جو نرم نہ ہو ۔ اس کے بعد ہی وہ جلال الدین رومی سے مولانا روم بنے۔

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ موضوعات پر مبنی ہو, ساتھ ان آپ کی دل کے تمام موضوعات اور جو آپ پڑھنا چاہتے شامل ہوں, رپورٹ ہو یا فیچر, قرطاس ادب ہو یا ماحولیات, فن و فن کار ہو یا بچوں جنگ, نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔ خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔

ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے ، آپ صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار ہیں کرت ر لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی ، ا۔ن صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مکیںت ب ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔ تنقید کیجیے ، تجاویز دیجیے۔ اور لکھیں بھی۔ نصف سے زیادہ ، بچوں کا جنگ ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر

روزنامہ جنگ ، اخبار منزل ، آئی آئی چندیگر روڈ ، کراچی



About admin

Check Also

ادب، قومی طرزِ احساس اور جشنِ الماسی

ہم آج جس دنیا اور جس زمانے میں جی رہے ہیں، اُن دونوں کی صورتِ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *