چراغوں کے بجھانے کو ہوا بے اختیار آئی

… جاذب قریشی …

چراغوں کے بجھانے کو ہوا بے اختیار آئی

گلابوں کی مہک بکھری تو آواز شرار آئی

بگولوں نے سفر میں آندھیوں کا آسماں دیکھا

مگر اک فاختہ اپنے شجر تک بے غبار آئی

جسے تو نے اُجالا جان کر چہرے پہ لکھا تھا

وہی شہرت تری رسوائیوں کے ہمکنار آئی

اندھیروں میں مجھے خود اک ستارہ ڈھونڈنے آیا

کہ شہر بے ہنر سے اک صدائے اعتبار آئی

مری آنکھوں میں جتنے رنگ تھے سب جل گئے جاذبؔ

مگر وہ مجھ سے ملنے جب بھی آئی بے قرار آئی

دل کے زخم جلتے ہیں دل کے زخم جلنے دو

ہم کو ٹھوکریں کھا کر آپ ہی سنبھلنے دو

روشنی فصیلوں کو توڑ کر بھی آئے گی

رات کی سیاہی کو کروٹیں بدلنے دو

سائباں کی خواہش میں اک سفر ہوں صحرا کا

جسم و جاں پگھلتے ہیں جسم و جاں پگھلنے دو

پتھروں کی چوٹوں سے آئنو نہ گھبراؤ

حادثوں کے آنگن میں زندگی کو پلنے دو

غم کی دھوپ میں جل کر رہ گئی ہر اک چھاؤں

ہم کو اپنی چاہت کے سائے سائے چلنے دو

صحرا میں کوئی سایۂ دیوار تو دیکھو

اے ہم سفرو دھوپ کے اس پار تو دیکھو

جلتا ہوں اندھیروں میں کہ چمکے کوئی چہرہ

موسم ہیں عداوت کے مگر پیار تو دیکھو

دفتر کی تھکن اوڑھ کے تم جس سے ملے ہو

اس شخص کے تازہ لب و رخسار تو دیکھو

کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں

تم اپنے شکستہ در و دیوار تو دیکھو

کل شام وہ تنہا تھا سمندر کے کنارے

کیا سوچ رہے ہو کوئی اخبار تو دیکھو

آنکھیں ہیں کہ زخمی ہیں بدن ہیں کہ شکستہ

آشوب سفر ہوں مری رفتار تو دیکھو

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ موضوعات پر مبنی ہو, ساتھ ان آپ کی دل کے تمام موضوعات اور جو آپ پڑھنا چاہتے شامل ہوں, رپورٹ ہو یا فیچر, قرطاس ادب ہو یا ماحولیات, فن و فن کار ہو یا بچوں جنگ, نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔ خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔

ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے ، آپ صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار ہیں کرت ر لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی ، ا۔ن صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مکیںت ب ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔ تنقید کیجیے ، تجاویز دیجیے۔ اور لکھیں بھی۔ نصف سے زیادہ ، بچوں کا جنگ ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر

روزنامہ جنگ ، اخبار منزل ، آئی آئی چندیگر روڈ ، کراچی



About admin

Check Also

ادب، قومی طرزِ احساس اور جشنِ الماسی

ہم آج جس دنیا اور جس زمانے میں جی رہے ہیں، اُن دونوں کی صورتِ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *