پروفیسر جاذب قریشی کا ادبی انہماک

شام تو آئے گی تعاقب میں

چاہے سورج کا گھر بنائے کوئی

پروفیسر جاذب قریشی کے اس شعر میں اگرچہ ‘سورج استعارہ دانش اور ہنر وری کے اجالے اور’ شام ‘کا استعارہ منافقت کے اندھیرے سے ہے لیکن ایک اور رخ اور شام کا تعاقب کرتی ہوئی موت کا تلازمہ بھی ہے سے اب تک دست اجل نے طرح دانش رکھنے والے ہمارے سے قلم کاروں ہے اس ہیں 2021 ء کو رفتگاں کے اس قافلے میں جاذب قریشی (اصل نام محمد صابر) بھی شامل ہوگئے جن کا آبائی شہر لکھنئو تھااور جو three اگست 1940 ء کو پیدا ہوئے.

جس بچے کو صرف سات برس عمر پیش تاکہ اسے تعلیم سے ہٹا کر جاسکے, اس کا کہتا تھا کاکام کرتے اور بھٹی کے میں پگھلتے ہوئے ان ہاتھوں نے پاکستان ہجرت کے بعد کچھ اس طرح تھاما کہ یہ ہاتھ آخر وقت تک تخلیق کی آنچ میں پگھلتے رہے۔

اپنی محنت کی بدولت منصب تدریس تک پہنچے, صحافتی اور ادبی داریاں ادا کیں, روزنامہ ادبی صفحے کے چند سال رہے, فلم سازی بھی اس میں ناکام رہے, مختلف ممالک رہے اور مشاعروں اور ادبی محافل کے منتظم بھی رہے, شاعری ان شناخت کا بنیادی حوالہ بنی تنقید میں بھی نام کمایا۔ ” شناسائی ” ، ” نیند کا ریشم ” ، ” شیشے کا درخت ” ، ” ک ” ستہ ” عب د ” نعتیں ، منقبت) ” ، ” جھرنے (نغمے ، گیت) ” ، ” اجلی آوازیں (ہائیکو) ” اور ” لہو کی پوشاک (آشُعپہچو ےم (ُعوو مہیں مہیںو مہیں مہیں نظمیں) مہع مو مہیں مہیںو نظمیں م ” کے نام سے شائع ہوا۔ انھوں نے غزل ، پابند نظم ، آزاد نظم ، نثری نظم ، ہائیکو ، ثلاثی ، حمد ، ، منقابت ، قومی ییںاابت ، قومی ییںاا ا وم میں اع مور گیت غرع

نئے راستوں کے متلاشی رہے لہذا تازگی فکر اورجدید ان کی شخصیت اور فن کا اسی لیے عزیز نے ان کی تحریروں میں کہ ” تخلیقی اور عملی تجربے اگر رک جائیں تو اور پرانا پن سچے ادب کو اور آسودہ کو چاٹ جاتا ہے ‘نے شاعری میں مشکل راستے کا کر سفر اسلوب تمثال کا پرچم تھام کر طے کیا۔

نئے استعارات, جدید تلازمات اور نامانوس لفظیات کے سبب اور دشواریوں کا سامنا بھی کرنا مگر استقامت کے ساتھ اپنے سفر پر گام جمیل نے آئینوں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اکائیوں کو جوڑ کر وحدت بنادینے کا فن جانتے ہیں.

سلیم احمد نے ان کی شاعری کو ” آئینہ سازی کا عمل ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ” یہ آئینہ جاذب کے ہنر المیہ المیہ طربیہ گورکھ پوری نے ان کی نثری نظموں قرینے, شعری آہنگ اور عشق کی لابدی علامات کا ذکر کیا. پروفیسر منظور حسین ان کے فن کو شاعری کے صحیفے اور اجتہادی باب کا گراں قدر اضافہ قرار دیا۔

ڈاکٹر وزیر آغا نے ان کی کی قوت اور بے مسافت کا ذکر کیا اور انھیں کا خوش نصیب شاعر زمین و آسمان کے نہ رکنے والا مسافر .حسین مجروح کہتے ہیں کہ ” ہیئت سے حسیت اور اظہار سے موضوع تک, جاذب قریشی کی شاعری نئی تشکیلات کی ہے ۔وہ روایت کے قائل ہیں اس کی انگلی پکڑ نہیں چلتے بلکہ ایک قدم آگے رہتے ہیں۔ ہمدانی, انجم اعظمی, رئیس امروہوی, ڈاکٹر اعظمی, جمیل الدین عالی, پروفیسر ریاض صدیقی, پروفیسر نسیم نیشو فوز اور دیگر کئی اہم ناقدین ان کی شاعری اور استعاراتی نظام پر بات کی.

شبنم رومانی نے لکھا کہ ‘استعارے, علامتیں اور تشبی ہیں سب کی اردو کی شعری روایت اتنی دراکی ہوئی ہیں کہ بہتوں کی پن کو سمجھنے اور اس قبول کرنے کی صلاحیت ہر کسی میں نہیں نے بھی اپنے’ ‘شعری فضا کا شاعر’ ‘میں لکھا ہے کہ شاعری کو سرسری مطالعے کے ذریعے ٹالنا تو یہ شاعری آپ کے چہرے پہ جہل کی مہر لگا کر آگے بڑھ جائے گی. ” اتنی ممتاز شخصیات کی آرا کے بعد بس یہی کہا جاسکتا کہ فطرت سے ہم آہنگی اس شاعری وصف ہے.

امیجریز, علامتیں اور استعارے سب فطرت سے لیے گئے مجرد فطرت نگاری کے بجائے فطرت صفات کو علامت بنا کر طرح پیش کیا گیا انسان کی کیفیات, اور انفرادی تشکیل ہے کے ہاں رنگوں کا استعمال جس تسلسل اور مہارت ہے اس سے محسوس ہوتا ہے وجود میں کسی ساتھ ساتھ کسی بھی موجود ‘فطری علامتوں کا شاعر’اور احمد ہمدانی نے’ سماجی آشوب کا علامت نگار ‘کہا ہے .اس شاعری میں تہذیبی اقدار کی گم شدگی نوحہ بھی ہے.چند مثالیں دیکھیے.

اس دشت میں سیلاب مجھے چھوڑ گیا ہے

مجھ میں مری تہذیب کے آثار تو دیکھو

میری تہذیب کا باشندہ نہیں ہے وہ شخص

جو درختوں سے پرندوں کو اڑادیتا ہے

دعا مانگی تھی کس نے بارشوں کی

کہ دریا آملا میرے مکاں سے

باہر جو چراغاں ہے وہ ہے اور نسب کا

جلتا ہے جو مجھ میں وہ کوئی اور دیا ہے

برسوں سے ہے تہذیب کی آواز سفر میں

لیکن وہی میں ہوں وہی جنگل کی ہوا ہے

اُن کی نظموں میں بھی استعاراتی اور ہمیں جگہ تہ معنویت کے ذائقے سے آشنا ہے ۔یہ نظمیں عدم ابکتری ک جھدوٹا ، ہاوےو ک ت تو ر ت ر

ایک مختصر نظم ” کٹھ پتلی”ملاحظہ کیجیے۔

میرے دونوں ہاتھ

سفید و سیہ طنابوں کے زندانی

میں خود اپنے جسم و جاں کو

جلتی ریت پہ کھینچ رہا ہوں

آنکھیں زرد غبار کا ایندھن

اور زباں سے گونگے لمحے چمٹ گئے ہیں

شاید میں بھی اپنے عہد کی کٹھ پتلی ہوں

پروفیسر جاذب قریشی نے تسلسل کے ساتھ کلاسیکی, نو جدید اسلوب کے حامل اپنے عہد بڑے زندہ تخلیق کاروں کے نئی نسل کے پر اپنے نہیں نے پیشہ ورانہ تنقید کے جنگل سے نکل کر اپنا الگ راستا بنانے فن کار کے تجربے کو پالینے کی کوشش کی ہے ۔

اسی عمل کو تخلیقی تجربے کی آفرینی کا عمل کہا .انھوں نے اپنی تنقید میں اہم والوں کے اسلوب اور پیرایۂ اظہار پر داری کے ساتھ اظہار کیا. ” میں نے یہ جانا ”, ” آنکھ اور چراغ ”, ” شاعری اور تہذیب ” ، ” میری تحریریں ” ، ” دوسرے کنارے تک ” ، ” نثری اسالیب ” ، ” امکان سےم آگے”اُن ن کے تنقیدی عضاین ی تنقیدی م ‘تخلیقی آواز’ ‘کے نام سے ان کے تنقیدی مجموعوں کا مجموعہ شائع ہوا۔پروفیسر کرکیر حا ن نے ان آاقن غمےن ۔اقتاب غمےن ا اوتاب مےن اتاب مےن حی وے ب’ ‘ترو ی

انتظار حسین, الیاس عشقی, ڈاکٹر فرمان فتح پوری, ڈاکٹر جمیل جالبی, ڈاکٹر سلیم پروفیسر ریاض صدیقی, زاہدہ حنا, خواجہ رضی, شاہدہ حسن, امجد طفیل, احسن اور کئی اہم لکھنے والوں نے تنقید میں ان کے تخلیقی اور تجزیاتی رنگ اور دل کش اسلوب کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔

انھوں نے روایتی تنقید کی طرح بھاری بھرکم اصطلاحات الفاظ اور حوالے دینے کے بجائے عصری صداقتوں تہذیبی صورت حال کی کسی تخلیق کار فن اور امکانات کا کہیں فکری مباحث بھی اٹھائے

جاذب قریشی نے خود بھی اپنی تنقیدی کتاب ‘کنارے تک دیباچے میں تحریر کیا ہے کہ’ ‘میں نے اپنے کسی بھی مضمون بنیاد کسی لکھنے والے شخصیت پرنہیں رکھی ہے یہاں اس کے عملی اور جمالیاتی تجربوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے’ ‘.

انھوں نے بعض بہت اہم لوگوں مثلا سلیم احمد اور اقبال سے کہیں کہیں فکری اختلاف پوری پوری کے ساتھ کیا. ” میری تحریریں”میں شامل ا ن ادبی کالم آج بھی سماجی زوال اس عالم میں ہمیں راستا دکھاتے .ان کی شخصیت میں برادرانہ محبت اور بزرگانہ شفقت کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی کی خوبی بھی تھی جس کا نئی نسل کے نمائندوں نے اعتراف کیا ہے۔ مجلس آرائی کے شوقین تھے۔ زود رنج تھے لیکن زیادہ دیر کسی سے ناراض نہیں رہتے کی وفات کے بعد انھوں نے اپنے کی تعحلیم و ترااا ا ا ا م و تربی ا سن سن بشود

علالت کے دوران میں بھی ایک کتاب کی کوشش رہے, احساس ذمے داری, صبر, حوصلہ استقامت, اپنی ذات اور مسلسل محنت ریاضت ان کام کے باوجود انھیں انداز بھی کیا گیامگر کسی اہم یا اعزاز کے انھوں نے کوئی لابنگ یا تگ نہیں کی تاہم اپنے و تنقیدی پچاس برسوں کی کی کی آخر تک راستے میں لمحۂ ترک سفر آجائے گا کے مصداق اس دار فانی سے رخصت ہو گئے۔

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ موضوعات پر مبنی ہو, ساتھ ان آپ کی دل کے تمام موضوعات اور جو آپ پڑھنا چاہتے شامل ہوں, رپورٹ ہو یا فیچر, قرطاس ادب ہو یا ماحولیات, فن و فن کار ہو یا بچوں جنگ, نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔ خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔

ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے ، آپ صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار ہیں کرت ر لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی ، ا۔ن صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مکیںت ب ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔ تنقید کیجیے ، تجاویز دیجیے۔ اور لکھیں بھی۔ نصف سے زیادہ ، بچوں کا جنگ ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر

روزنامہ جنگ ، اخبار منزل ، آئی آئی چندیگر روڈ ، کراچی



About admin

Check Also

ادب، قومی طرزِ احساس اور جشنِ الماسی

ہم آج جس دنیا اور جس زمانے میں جی رہے ہیں، اُن دونوں کی صورتِ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *