معروف برطانوی ادیب ” ای ایم فورسٹر ”

غیر منقسم ہندوستان میں, ایسے کئی ادیب تھے, جن کا اس سرزمین سے نہیں تھا, مگر انہوں دلچسپی سے یہاں کی ثقافت, رسم رواج پر لکھا, ان ہی سے ایک معروف ترین برطانوی ادیب”ای ایم فورسٹر ” تھے. انہوں نے برٹش انڈیا پر ناول ” اے پیسج آف انڈیا”لکھ کر اپنی عالمی شہرت میں خوب اضافہ کیا۔ ان کے اس ناول پر برطانیہ میںتھیٹر کے منچ پر کھیل کھیلا گیا اور پھر اسی ناول پر مشہور زمانہ فلم بھی بنی۔ ٹائم میگزین کے مطابق ، اس ناول کا شمار دنیا کے 100 معروف کلاسیکی ناولوں میں کیا جاتا ہے۔

معروف برطانوی ادیب ، جن کا مکمل نام”ایڈورڈ مورگن فورسٹر ” ہے۔ ان کی پیدائش کا سال 1879 اور وفات کا برس 1970 ہے۔ یہ ایک ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے مضمون نگار اور گیت بھی تھے ، گیت وہ اوپیراتھیٹر کی کلاسیکی بکھادشوں کے لیے لکھندوں کے لیے ت ان کی کہانیوں میں طبقاتی تقسیم ، سماجی منافقت اور انسانی رویوں کی مختلف جھلکیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان کے مقبول ناولوں میں”اے روم وِد ویو ” اور”ہاورڈز اینڈ ” کے علاوہ”اے پیسج آف انڈیا ” میں اہے ۔ہ ” ای ایم فورسٹر ” 16 برسوں تک نوبیل ادبی انعام کے لیے نامزد ہوتے رہے ، لیکن یہ انعام ان ککو کبھی مل ن۔ س

” ای ایم فورسٹر ” کا بچپن اس لحاظ سے اداس گزرا کہ یہ ابھی دو سال کے تھے ، جب والد کی رحلت ہوگئی۔ ابتدائی تربیت والدہ نے کی۔ انہوں نے اپنے ایک ناول“ہاورڈز اینڈ ” میں اپنی بچپن کی یادوں کو برتا ہے۔ خاندانی طور پر مالی آسودگی تھی ، جس کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا کیے بغیر اپنی مکمل ہرلی احودپ کروگئے ےحور ادی س بتن

معروف برطانوی ادیب '' ای ایم فورسٹر ''

ان کو ادبی ماحول بھی میسر آیا اورخود بھی ایسی صحبتوں کا حصہ رہے ، جہاں سے ادب شناسی میں اضافہ ہوسھت تھ۔ ” ای ایم فورسٹر ” جز وقتی طور پر تدریس سے بھی وابستہ انہوں نے اس سلسلے میں برطاپڑھا اسی طرح بیسویں صدی کے معروف مسلم اسکالر, فلسفی اور مورخ خان کے پوتے راس مسعود ان کے طالب علم ” ای ایم فورسٹر ” اپنی ان یادوں کو زندگی کا قیمتی سرمایہ تصور کرتے تھے.

بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں”ای ایم فورسٹر ” نے فیصلہ کیا, وہ رسمی تعلیم سے بہرہ ور ہوچکے, وہ اب دنیا کی سیاحت کریں تاکہ پنے تجربات اضافہ کرسکیں, اسی غرض ممالک کا دورہ کیا, جن میں اٹلی, جرمنی, یونان اور دیگر ممالک شامل ہیں ، پھر مصر اور انڈیا کا سفر کیا۔ انڈیا میں ایک مہاراجہ کے ہاں نجی سیکرٹری کے طور پر بھی کچھ عرصہ ملازمت بھی کی ، کا اصل مقصد انڈیا ھگیافد انڈیا ھ افت کجھم سن جید ثقافت کجھم سن د

اس عرصے کی یادداشتوں پر مبنی ایک کتاب“دی ہل آف دیوی ” بھی تصنیف کی۔ اسی زمانے میں اپنا معروف ناول”اے پیسج آف انڈیا ” لکھا۔ انہوں نے کچھ عرصہ بی بی سی میں بھی کام اس وقت وہاں ان کے ساتھ معروف برطانوی ” جارج آرویل ھےا س میںوک ہا س ن ت ت و

” ای ایم فورسٹر ” نے کل 6 ناول لکھے ، ان کا پہلا ناول”وئیر اینگلز فیر ٹو ٹرے ایڈ ” اشاعت آخا ‘ال. پیسج. انڈیا ” تھا ، جو 1924 میں شائع ہوا ، لیکن تعداد کے سے شائع ہونے والا ، ان کا آخااش ناول”مگواد”تھ گ ور ور 1971 ان کی کہانیوں کے four مجموعے چھپے, جبکہ تھیٹرکے لیے کھیل (1940) فلم کے لیے اسکرپٹ (1945) اوپیراکے لیے گیت نگاری (1951) ادبی تنقید (1927) کے علاوہ اپنی سوانح عمری, سفرنامے, خطوط, یادداشتیں اور مختلف نوعیت کی بھی لکھیں۔

ان کے ناولوں اور مختصر کہانیوں پر, تھیٹر, ٹیلی وژن فلم کے شعبوں میں استفادہ کیا اس میں سب سے زیادہ جس ناول پر ہوا, ” اے پیسج آف انڈیا ” ہے, جس کی کہانی تھیٹر کے منچ اور فلم کے پردے کی زینت بنی اور اس کو بے پناہ مقبولیت بھی ملی۔ ” اے پیسج آف انڈیا ” کی اشاعت 1924 میں ہوئی۔ اس ناول کا پس منظر انگریزوں کے زمانے کا ہندوستان ، وہاں کارہن سہن اور حالات تھے۔ آزادی کی تحریک بھی اس پس منظر کا حصہ تھی ، جس ” ای ایم فورسٹر ” نے اپنے اس شہرہ آفاق ناول میں برتا۔ انیسویں صدی کے معروف امریکی شاعر”والٹ وائٹ مین ” کی ایک نظم کاعنوان”اے پیسج آف اانڈیا ” تھا کےااجا ” تپا کےااجن ۔وپن ےعوپر لع ن تھور جع ن ن توپر لع ن موھر ےے ن ےن توپر لع ن وکےر یے ن ےن توپر لع ن ےوپر ی ن ے موپر ےی ن ےن توپر لع ن م م ےم م ن ٹم کہانی چار مرکزی کرداروں کے محور پر گھومتی ہے ، جوہندوستان میں موجود ہیں۔ اس ناول پر بہت سارے لوگ کام کرنا چاہتے تھے۔

اس سلسلے میں ایک امریکی مصنفہ”سانتھارا مارو ” تھیں ، جن کی پیدائش ہندوستان کی تھی۔ انہوں نے اس ناول کو تھیٹر کے لیے ڈرامائی تشکیل دی۔ یہ کھیل ناول کے عنوان سے ہی پہلی 1960 میں کھیلا گیا ، پھر 1962 اور 1965 میں بھی کھیلا گیا۔ برطانیہ میں تینوں مرتبہ اس کھیل کے مرکزی ” ڈاکٹر عزیز ” کو پاکستانی اداکار”ضیامحی الدین ” نے نبھایا۔ 2002 اور 2004 میں یہ کھیل نئے اداکاروں کے ساتھ دوبارہ اسٹیج پر پیش کیا گیا اور اب ناول پر نئی جہتوں سے مغرب میں ۔کم ہو میں کام ہو بی بی سی نے”پلے آف دی منتھ ” کی ایک سیریز تخلیق کی, جس میں مختلف کھیل عکس بند گئے, اسی موقع پر اس کو ٹیلی وژن کی کے لیے تشکیل میں ڈاکٹر عزیز کا کردار ضیامحی الدین نے ہی نبھایا, اس ٹیلی وژن ڈرامے کے ہدایت کار وارث حسین تھے۔

” ای ایم فورسٹر ” نے اپنے اس ” اے پیسج آف انڈیا ” کے حقوق ، فلم بنانے کے لیے ، معروف ب ‘کاا ا ےا یکا’ کا کوے کا و ا کا ‘ت ت ت ت د’ معروف برطانوی فلم ساز”ڈیوڈ لین”نے اس ناول پر فلم بنانے کا فیصلہ کیا ، تو مصنف نے ان کو اجازت یدے د فلم ساز کے کریڈیٹ پر”لارنس آف عربیہ ” اور ” ڈاکٹر ژواگو ” جیسی فلمیں تھیں, انہوں نے پھر”اے پیسج آف انڈیا ” بنائی اور خود ہی اس کا اسکرین پلے بھی لکھا.یہ فلم 1984 میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ فلم بنانے میں ہدایت کار“وڈ لین ” کو چودہ برس لگ گئے۔ اس فلم میں ڈاکٹر عزیز کا مرکزی کردار ، معروف ہندوستانی اداکار”وکٹر بنرجی ” نے بہت عمدگی سے نبھایا۔

یہ فلم 57 ویں اکادمی ایوارڈز کے 11 شعبوں میں نامزد ہوئی ، جن میں سے اداکاری اور ملاسیقی کے ش مم کیےویان یامد کیےوامیا مد ناول کے مرکزی کردار ڈاکٹرعزیز کو تھیٹر اور ٹیلی ضیامحی الدین جبکہ فلم میں وکٹر نبھایا ، کایےرکردگی۔ ااا دوم یںد د م لد اد مر ن دور رد اس کے پیچھے فلم کے ہدایت کار کی محنت بھی شامل تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ فلم میں اس کردار کو کے معروف بنگالی فلم ” ستیا جیت رے ” نے ہی ڈاکٹر عزیز جی ھاوارر عزیز کے ھاوار عزیز کے ھادار ن ن ن ت ا دار و نکےر ھدار ےو نھر ھکدار ےو نھر ھےدار ن نکےب

ایسے تاریخی ناول ، نہ صرف ادب کی تاریخ کا حصہ بنتے ہیں ، بلکہ ریڈیو ، ٹیلی وژن ، ھیٹتھیٹر فلم کے ممببوثا میں سن حصہ نتظر تاریخ کو پیش کرنے کایہ ادبی انداز قارئین کو ہمیشہ بھاتا ہے۔ ہمارے فلم سازوں نے مقامی تاریخی ناولوں سے استفادہ کیا ہوتا شاید ان ناولوں کی حیثیت بھی ہوتی, جیسی کہ ” ای ایم فورسٹر ” کے ناول”اے پیسج آف انڈیا ” کی عالمی ادب میں ہے.

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ موضوعات پر مبنی ہو, ساتھ ان آپ کی دل کے تمام موضوعات اور جو آپ پڑھنا چاہتے شامل ہوں, رپورٹ ہو یا فیچر, قرطاس ادب ہو یا ماحولیات, فن و فن کار ہو یا بچوں جنگ, نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔ خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔

ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے ، آپ صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار ہیں کرت ر لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی ، ا۔ن صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مکیںت ب ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔ تنقید کیجیے ، تجاویز دیجیے۔ اور لکھیں بھی۔ نصف سے زیادہ ، بچوں کا جنگ ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر

روزنامہ جنگ ، اخبار منزل ، آئی آئی چندیگر روڈ ، کراچی



About admin

Check Also

ادب، قومی طرزِ احساس اور جشنِ الماسی

ہم آج جس دنیا اور جس زمانے میں جی رہے ہیں، اُن دونوں کی صورتِ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *