حکومت کا اپوزیشن کو مناظرے کا چیلنج

قومی اسمبلی اور تینوں صوبائی اسمبلیوں برعکس نے کے بجٹ کی منظوری انتہائی پرامن دےدی ہے جس یقینا وزیر نے بجٹ پیش کرنے سے ہی اپوزیشن کے چیمبر میں جاکر ممبران کیساتھ عام طور پر وزیر اعلی کافی فاصلے چلے ہیں حتی وزیر اعلی. کے کیمپ کا انعقادبھی کرچکے ہیں لیکن اس کے باوجود وزیر اعلیٰ نے اپوزیشن جاکر حزب اختلاف کے اکان کیک اا اام پ ات من وب کیس ال من تور کیس ال من توب کی

چنانچہ نہ صرف یہ کہ وزیر کی کے دوران آرائی نہیں ہوئی بلکہ بعد ازاں بجٹ کرنے کے دوران بھی کافی تعاون کا کیا اس حوالے سے کہ اپوزیشن کے بعض اراکین ہاؤس کیساتھ قریبی رابطے رہتے ہیں ان فوری بھی ہوتے ہیں اور پھر ان مفاہمانہ ماحول قائم میں بھی کی بجائے آسانی کیساتھ منظور ، یوں صوبائی حکومت نے ایک اور مرحلہ کامیابی کیساتھ طے کرلیا ہے۔

اسی مصالحانہ, مفاہمانہ اور برادرانہ ماحول کا مظاہرہ اس دیکھنے میں آیا جب اپوزیشن ارکان ممبران کی تنخواہوں میں کمی رونا رویا, اپوزیشن حوالے سے موقع انہوں نے اپوزیشن ارکان سے کہیں زیادہ فریاد کی بلکہ صوبائی وزرا نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر ہمیں کرپشن سے روکنا ہے تو ہماری مراعات اضافہ ناگزیر ہے۔

سپیکر نے اس میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے فوراً کمیٹی 15 دن میں رپورٹ طلب کرلی ، ایسا غدکھائی دے ہےالا دکھائی دے ہےا ن ن مت سع بہتی میں غوطے لگانے کیلئے تیار ہیں ، کی کب دکھائی یہ دیتا ہے کہ اراکین تنخواہوں میں اضافہ معاملہ پر ارکان چولہے. گھروں ٹھنڈے ہونے سے بچ جائیں گے۔

اسمبلی اجلاس کے دوران ایک مرتبہ صوبائی بازیاں پڑ گئیں ، اس سے پہلےبنوں پر تحقیقاتی کمیشن کی پیشکش وہ کمیشن. قائم ہے, اسی طرح گزشتہ دنوں ضمنی بجٹ پر بحث کے دوران جب مرتبہ پھر آر کی خامیوں کی نشاندہی دیا شوکت آکر نے جماعتوں کو بی آر ٹی کے معاملہ پر مناظرہ کا چیلنج دے ڈالا.

انہوں نے مناظرہ کا یہ چیلنج ایسے دیا کہ تمام معاملات زبانی یاد ہیں اور شاید کا یہ خیال تھا ارکان ڈر کر ہوجائیں گے لیکن اس ہوگئی جب اپوزیشن ارکان حکومتی چیلنج قبول کرتے ہوئے سپیکر سے اور تعین کا کرڈالا جس کے بعد پہلے تو ہوا کہ یکم جولائی صوبائی اسمبلی میں مناظرہ کا حکومت شوکت تین کی کابینہ کمیٹی کریگی جبکہ اپوزیشن لیڈر خان پی اور مسلم لیگ ن کے اختیار کریں گے لیکن جولائی کو کی گئی تاہم صوبائی وزیر یوسفزئی کی درخواست پر 5 جولائی کی بجائے اب مناظرہ کیلئے eight جولائی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے ۔

بظاہر تو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ فی الوقت صوبائی حکومت کے کسی مناظرہ کے موڈ میں دے رہی ہے لیکیک ہٹاپب ہے ج کہ ومت ل ظاہر ہے اگرحکومت کسی ٹھوس جواز بغیر راہ فرار ہے تو اس کی انتہائی سبکی ہوگی یوں ایک صوبائی وحککر بائی د ورحک بسوب تائی وری کےسوب

دوسری جانب ملک بھر میں کنٹونمنٹ انتخابات جاری ابھی تک بلدیاتی انتخابات کے شیڈدل یہی ہے کہ انتخابات ستمبر صوبائی حکومت بجٹ میں پہلے ایک ارب روپے مختص کرچکی ہے, بلدیاتی الیکشن نئے بلدیاتی نظام کے تحت ہوں گے.



About admin

Check Also

معاشی عدم استحکام: بروقت مشکل فیصلوں کی ضرورت

پاکستان میں ہر باشعور شہری ایک دوسرے سے یہ سوال کرتے نظر آرہا ہے کہ کیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *