جینیاتی ترمیم بہ ذریعہ جینیاتی اوزار

ڈاکٹر نصرت جبیں

ایسویسی ایٹ پروفیسر ،

مائیکروبائیولوجی ، یونیورسٹی آف کراچی

پچھلی کئی دہائیوں سے سائنس دانوں نے مالیکیولر بائیولوجی (سالمائی حیاتیات) کے میدان میں بے پناہ کاییابی اں حال ان ہی کامیابیوں میں سائنس کی ایک بڑی کامیابی جینیاتی سائنس کے میدان میں جینوم ایڈیٹنگ (Genome modifying) یعئینیااان وزر ویر ذعور ور وزر وزر جیوزر وزر وزر وزر وز کیر جینوم ایڈیٹنگ دراصل جینیٹک انجینئرنگ (genetic engineering) کی ایسی شاخ ہے جوکہ مختلف قسم کے جینیاتی اوزار کو کرکے سائنس دانوں کو کسی جاندار کے جینیاتی مواد یعنی ڈی این اے (DNA) کے اندر تبدیلی کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے.

یہ ٹیکنالوجی جانداروں کے جینوم یعنی جینیاتی مادے میں موجود حصے سائنس کی اصطلاح میں میوٹیٹڈ (moved) کہا جاتا ہے, اس کو ختم کرنے تبدیل کرنے نئے کارآمد حصے کو شامل کرنے میں مددگار ہوتی ہے. سائنس دانوں نے اب تک جینیاتی ترمیم کے کئی طریقے دریافت کئے ہیں۔ جن میں ZFNs ، TALENs (ٹیلنز) اور CRISPR (کرسپر) سرفہرست ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی بناء پر (James Watson) اور فرینسز کرک (Fracis Crick) نامی سائنس دانوں کی ڈی این یعنی جاندااااااا مد مفد ہےمد ہےمد ہےمد مفد مد مد سمد سمد سمد سمد سمد سمّےد سمد سمفد سمixد ت ڈی این اےکی اس ساختی معلومات سے مالیکیولر آغاز ہوا اور یوںڈی این اےکی مختلف جانداروں کی جینیاتی تحقیق نہ صرف ابتدائی سنگ میل ثابت بائیولوجی ہونے والی بے کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتی ہے.

جینیاتی ترمیم بہ ذریعہ جینیاتی اوزار

1958 ء میں Kormnberg (کارن برگ) نامی سائنس دان نے نہ صرف ڈی این اےمیں موجود اس کے اہم اجزاء جنہیں نیوکلیوٹائیڈ ہے, اس کو لیبارٹری میں تیار بلکہ اجزاء سے لیبارٹری ہی میںڈی این اےکی ایک بیکٹیریا سے حاصل کردہ انزائم ” ڈی این اے پولی میریز (DNA polymerase) کی مدد سے ڈی این اےیعنی اس میں موجود جین (gene) کی کاپی بھی تیار کرلی۔ اور یوں یہ تحقیق حیاتیاتی سائنس کے میدان کی ایک اور اہم تھی ، جس نے ان تمام سائنا دانوں کو سائنسی سب نوو لع

1962 ء میں سائنس دانوں کے ایک گروہ نے ایک سمندری حیات ” جیلی فش ” میں موجود “Inexperienced Floureseut” نامی ایک سبز رنگ کی چمک دار رپروٹین مالیکیولر بائیولوجی کی پر استعمال کرکے مالیکیولر ٹیکنالوجی کو ایک اہم دریافت سے متعارف کروایا. اس سبز پروٹین کو دراصل مخصوص مطالعاتی جین یا ساتھ جوڑ کر خلیہ (سیل) میں دجگہاخل کیا جاتا ہے اپداا جاتا ہے اپد ر میںوصر ک موصر رد چمکدار پروٹین روشنی کے ذریعے جانچا جاتا ہے۔

1967 ء میں سائنس دانوں نے ایک اور اہم انزائم ” ڈی این اے لائی گیز ” (DNA ligase) جو کہ جانداروں میں موجود ڈی این اےیعنی ان جینیاتی مواد کی مرمت ڈی این اےکی سیل کے اندر بننے کے عمل (DNA replication) کے دوران انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں ، کو دریافت کرکے مالیکیولر بائیولوجی ایک اوااا انتہائی اہم اعور کو تر تر ترتر

اسی دوران 1968 ء میں ورنر آربر (Werner Arber) نامی سائنس دان نے مشاہدہ کیا کہ بیکٹیریا خود کو اپنے حملہ کرنے والے وائرس جنہیں بیکٹیریوفیج (bacteriophage) کہا جاتا ہے کو اپنے پاس موجود ایک انزائم جسے ریسٹریکشن انزائم (restriction enzyme). کا نام گیا ۔اسے حملہ آور وائرس کے جینیاتی مادّے کو ٹکڑوں میں کاٹ کر کردیتے ہیں اور یوں خوےد کیو وا رس کےویم کےو وا رس ےس ر اس restriction enzyme کو سالمائی قینچی (molecular scissors) بھی کہا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بیکٹیریا خود اپنے جینیاتی مادّے اس اس قینچی سے محفوظ رکھنے کے ایک اور ا۔ام ےا اور ا۔ائم یا اود ظنائم یا است سنزائم کا است سنائم کا است سنائم کا است سنائم کا است سنائم کا است سنائم کا است سنائ م اور یوں بیکٹیریا اس restriction enzyme enzو اپنے مدافعتی نظام (protection system) کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ Restriction enzyme کی دریافت جینیاتی تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کے لئے ایک انتہائی اہم اوزار ثابت ہوا۔ ستر کی دہائی سے لے کر اب تک سائنس دانوں نے سیکڑوں قسم کے restriction enzyme مختلف قسم کے بیکٹیریا سے نہ صرف حاصل کئے بلکہ انزائم پر مسلسل سے مالیکیولر بائیولوجی کے میدان میں ترمیم جیسی جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد بھی.

ستر ہی کی دہائی میں پال برگ (Paul Berg) نامی سائنس دان نے مالیکیولر بائیولوجی کے ان اوزاروں کو استعمال پہلی بار دو مختلف وائرس ڈی این اےکو کر ان کے ٹکڑوں یوں ری کومبنیٹ این اے Recombinant DNA expertise کی بنیاد پڑی. پال برگ کو 1980 ء میں ان کی اس تحقیق پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔

1971 ء میں ہی نیتھنز (Nathenz) نامی سائنس دان نے restriction enzyme کا استعمال کرکے جانداروں میں موجود ڈی این اے کی “Mapping” یعنی جینیاتی مادے میں موجود مختلف جینز (genes) کی ترتیت (sequence) جاننے کے مطالعے کو آسان اور ممکن بنادیا. اس تحقیق نے سائنس دانوں کے لئے جینیاتی مادّے کے تفصیلی مطالعے اور مفید و مثبت تبدیلی کرنے لئے نئی راہیں کھول دیں ر

اس طرح جینیاتی اوزار کی مختلف اقسام دریافت ہوئیں ۔جن میں مختلف انزائم اور پروٹین شامل ہیں جیگجیااآغ۔

اور یوں اسی (80) کی دہائی میں جینیاتی انجینئرنگ سائنس دانوں نے بہت سارے جینیاتی تجربات کرکے دنیا میں نہ صرف طرح کی مصنوعات متعارف میں کئی اقسام کی کی ویکسین بلکہ کئی کی جینیاتی بیماریوں کی تشخیص اور علاج شامل ہیں.

یہی نہیں بلکہ Recombinant DNA Know-how کے ذریعے زارعت کے شعبے میں مختلف انواع و اقسام کے پھلوں اور ان کی غذائیت ، حجم ا لوںب کہ وںب کہ فصو بڑھ پ. بھی دریافت. 1981 ء میں سائنس دانوں نے پہلا ٹرانسجینک “transgene” جانور متعارف کروایا, جس میں جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے ایک کے جینیاتی مادے کو دوسرے کے مادے میں شامل اس سے داخل کی گئیں. اس تجربے میں سائنس دانوں نے خرگوش کی کچھ جینز لے کے جینیاتی م

1983 ء میں کیری میولز Kary Mulins نامی سائنسدان نے مالیکیولر بائیولوجی کے میدان میں polymerase chain response (pcr) نامی تیکنیک کو ایجاد کرکے سائنس دانوں کے لیےجانداروں کے جینیاتی کے مطالعے کو انتہائی آسان, سستا اور کم وقت میں ممکن بنادیا. PCR کی تیکنیک میں دراصل جینیاتی مادّے کی ایک کاپی سے انتہائی کم وقت چند مشینری کا استعمال کرتے ہکہا ا کاوج بکاور باوج ب عصر حاضر میں PCR ہی کے ذریعے سے مختلف بیماریوں کے جرثوموں کی پہچان کرکے بیماری کی درسات تشخص کیم اتی ہے ، ورر ل PCR کی تیکنیک کا استعمال فرانزک سائنس میں بھی کیا جاتا ہے۔

1985 ء میں سائنس دانوں نے مالیکیولر بائیولوجی کے میدان میں دریافت کی, جس میں انہوں نے کے جینیاتی مادے ڈی این اے سے والی ایک ایسی خاص کی پروٹین دریافت کی, جس کو زنک فنگر ڈومین “zinc finger area”, (ZNF) کا نام دیا گیا۔ ZNF دراصل کسی بھی پروٹین کی ساخت کا وہ حصہ جوکہ خصوصی طور سے جانداروں کے ڈی این سے جڑ کر کسی خاص لمحے کے مطابق خلیہ میں پروٹین بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے.اور پھر سائنس دانوں نے ZNF کی اس اور صلاحیت کا استعمال جینیاتی مطالعے کوآسان بنانے کے لئے کیا۔

اس مقصد کے لئے سائنس دانوں نے ZNF رکھنے والی پروٹین کو بیکٹیریا سے حاصل کردہ خاص قسم کے restriction enzyme فوک آئی “FOKI” سے جوڑ کر ڈی این اے موجود مخصوص جگہ یا ہدف کی پہچان کرکے اس کو کاٹنے والی قینچی scissors) تیار کرلی. یہ جنیاتی قینچی جسے (Zinc Finger Area Nuclases) ZNFs کا نام دیا گیا ، جانداروں کے جینیاتی مادّے میں کسی بھی خامی مقام م ن جیترات عن اس جینیاتی قینچی کو کئی قسم کی بیماریوں مثلاً کینسر کی جانچ اور علاج کی تحقیق میں استعمال کیا جارہا ہے۔

ان مختلف قسم کے جینیاتی اوزاروں کی مسلسل دریافت نے بالآخر سائنس دانوں کو اس قابل سائنس دانوں نے پہلی ری کومبٹنٹ ویکسین (recombinant vaccine) ہیپاٹائس بی وائرس کے خلاف تیار کرلی. اور اس کے بعد دیگر کئی بیماریوں مثلاً کالی کھانسی ، نمونیا اور حال میں پھیلنے والا ککویکا ییاوا ۔وا ۔لوا ۔لوا ن خلوا یلوا کےن یلوا تل

نوے کی دہائی میں سائنس دانوں نے انہیں جینیاتی اوزاروں کا استعمال کرکے جین کلوننگ (cloning)۔ م کےیاواب. اس میدان میں سب سے بڑی کامیابی 1996 ء میں ڈولی (Dolly) نامی بھیڑ ہے جو جینیاتی کلوننگ کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔

1998 ء میں سائنس دانوں نے ایک سائنسی پراجیکٹ کیا ، کا مقصد انسانوں کی جینیاتی مادّے کیاا جانچ کرنا انچ کرنا م م م م م م م م م م م م م م م م م م م م سن م سن سائنس دانوں نے اس سائنسی پراجیکٹ کو Thousand Genome Undertaking کا نام دیا۔

اس کی کامیابی کے دوران ہی سائنس دانوں نے دیگر جانداروں بشمول جانور ، پودے اور جرثوموں کے نیات ت بادّم لوموں کے نیات ت بادّم لّوموں کے نیات ت باد صرف یہ بلکہ اس تحقیق کے دوران پہلی بار جینیاتی طریقہ علاج سے نہ صرف تجربہ کیا گیا بلکہ دوا کو FDA حاے اجاگئیت بھی حاے ازازت بھی حاے اجازت بھی حاے اجازت بھی حاے اجازت بھی حاے اجازت بھی حاے اجازت بھی اور اب یہ دوا خاص قسم کے خون کے سرطان کے علاج کے لئے کامیابی سے استعمال کی جارہی ہے۔

2006 ء میں جینیاتی ترمیم کی ٹیکنالوجی استعمال کرکے انسانوں کینسر پیدا کرنے والے ہیومن پیپی لوما “Human Papilom” نامی وائرس کے خلاف recombinant vaccine تیار کی گئی اور یوں مختلف اوزار کا استعمال کرتے ہوئے سائنس دانوں نے “Garolasil”) کینسر سے بچائو کے لئے پہلی اینٹی کیسنر ویکسین تیار کرلی۔

2011 ء میں سائنس دانوں نے “TALENs” نامی ایک نئی جینیاتی ترمیم کرنے والی ٹیکنالوجی کو ایجاد کیا۔ TALENs دراصل “transcription activator comparable to effectors nucleases” کا مخفف ہے یہ اوزار بھی تقریباً ZENs کے مقابلے میں نہ ثاا ہادہ ثثاب ا کم

2012 ء جنیفر (Jenifer Doudna) ایمانیولا (Emanvella Charpentier) سائنس CRISPR-Cas9 (کرسپر کیز نائن) نامی جینیاتی ترمیم کرےنے والے اوزد والے ازار والے اوزا کرسپر CRISPR دراصل “Cluster with common spacing in brief palindromic repetitions” جب کہ Cas-9 ایک انزائم ہے جوکہ جینیاتی قینچی کا کام کرتی ہے۔ CRISPR-Cas9 دراصل بیکٹیریا میں پایا جانے والا اس کا اپنا ایک مدافعتی نظام (Protection System) ہے جوکہ بیکٹیریا دراصل اپنے اوپر حملہ آور ہونے والے وائرس (bacteriophage) کو ہلاک کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے.

دلچسپ بات یہ ہے کہ CRISPR حملہ کرنے والے وائرس کے جینیاتی مادے کے ٹکڑے بذریعہ cas9 اور دیگر دوسرے انزائم کے ذریعے کرکے کے ایک ٹکڑے کو اپنے اپنی یادداشت کے لئے محفوظ کرلیتا ہے, جس کو سائنس دانوں نے کرسپر ایرے “CRISPR array” کا نام دیا۔ یوں بیکٹیریا اس CRISPR-Array کو اپنی یادداشت کے لئے محفوظ کرکے اسے مستقبل میں ہونے وجالے اااسی ہےوئئر وب ووئ ویور خ وور یور وتوت وتور ت حوت توت ج دوب واکو خ ویور ر ووی د CRISPR-Cas9 کی اسی صلاحیت کو سائنس دانوں نے “Focused gene remedy” یعنی مخصوص مقام کی جینیاتی ترمیم کے مقصد لئے استعمال کیا, اس مقصد لئے سائنس دانوں نے لیبارٹری میں بیکٹیریا کی CRISPR array کی طرح اپنے جینیاتی WA کے ٹکڑے تیار کرلئے.

واضح رہے کہ یہ جینیاتی ہدف کے وہ حصے کسی قسم کی بیماری مثلا کینسر وجہ ہیں اور ان کی کے لئے ان ہدف بناکر ان ہی جیسے آر این اے (RNA) کے ٹکڑے تیار کرلئے گئے اور ان ٹکڑوں کو ایک گائیڈ آر این اےاور Caspari 9 انزائم سے جوڑ کر جاندار کے خلیےمیں داخل کردیا جاتا ہے۔ اب یہ ڈیزائن کردہ مخصوص ہدف والا CRISPR-RNA خلیہ کے جی نیاتی مادّے یعنی ڈی این اےمم مجوصا مخصوص جیجین ڈییایا ن سر صعہد ن تر صعہد ن تر اور پھر Cas-9 انزائم اپنے ہدف کی جگہ پر جینیاتی قینچی کا کام انجام دیتے ہوئے۔ڈی این اے کو کاٹ دیتا ہے۔

ایک دفعہ ڈی این اے جب اپنے صحیح ہدف پر کٹ جاتا ہے پھر اس جگہ پر موجود “Mutated half” یعنی خراب حصے کو د ااا ۔ااا جاا اد اد رد کا کت سے تبتدیل ست سحصے تردی اور یوں کئی قسم کی جینیاتی بیماریوں جن میں دل ، دماغ ، اعصابی اور مدافعتی ظنظام یہاں تک چ ب 2018 ء میں CRISPR- Cas9 کو باقاعدہ طور پر انسانوں میں جینیاتی طور سے ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لا ج اور بالآخر 2020 ء میں سائنس دانوں نے ثابت کردیا کہ CRISPR کے ذریعے کرنے والی جینیاتی ترمیم کے مطالعے میں ہونے ہونے دس میں سے سات تھلیسیما “beta Thalasscmia” اور تین sickle cell anemia کے مریض مکمل صحت یاب ہوگئے. CRISPR اس کامیابی کے بعد 2020 ء میں ان کے موجد سائنس دانوں کو سائنس کے سب سے بڑے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

مالیکیولر بائیولوجی کے میدان میں سائنسی کا نہیں آج بھر میں سائنس دان اور جینیاتی ترمیم کے لئے علاج طریقہ. کے موثر استعمال کے لئے کوشاں ہیں۔



About admin

Check Also

شمسی توانائی کے میدان میں حیران کن ترقی

اگر ہم غور کریں تو شمسی توانائی کے کمالات بے شمار ہیں جن سے ہم …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *