اسمارٹ فون ، واچ ، ٹی وی ، دروازے کی گھنٹی تک جاسوسی کرتی ہے

اسمارٹ فونز ، اسمارٹ واچ ، لیپ ٹاپ ، کمپیوٹرز ، ڈیجیٹل ٹیلی وژن ، ٹریکنگ ڈیوائس سے کار گی جج زےا و جس کی بدولت آج دنیا کی حکومتوں اور خفیہ ایجنسیوں کے پاس عوام کی ذاتی معلومات کی رسائی تاریخی ہے۔

برطانوی تعلیمی ادارے ‘آکسفورڈ یونیورسٹی’ کی پروفیسر Carissa Veliz نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ ڈیوائسز کے ذریعے روزمرہ زندگی کی معلومات, رازداری, ٹیکنالوجی کمپنیوں کے رحم و کرم پر ہے. کوئی بھی ہیکر چھوٹی سی واردات سے کسی کے بھی ذاتی ڈیٹا تک پہنچ سکتا ہے۔

‘مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات’ سے متعلق تحقیق کرنے والی برطانوی پروفیسر کا کہنا ہے کہ معلومات ا لیکن اگر اسمارٹ واچ پہن رکھی ہے یا موبائل فون سرہانے ہے ، تو حرکات و سکنات اور نجی معاملاات کا ڈیٹا رت وت عا رت کوت ا رت ا

گھر کے دروازے پر لگی جدید گھنٹی خود کار طریقے سے گھر آنے والے مہمانوں کی تصاویر اکٹھی کرتی ہے۔

اسمارٹ ٹی وی نہ صرف یہ ڈیٹا جمع کرتا ہے کہ آپ کب اور کیا دیکھتے ہیں۔ بلکہ اگر پرائیویسی پالیسی پڑھنے کا وقت ملے تو پتہ چلے کہ ٹی آپ کی گفتگو سنتا ، محفوظ رکھتا اوکا اسے آگے بیچنے جس کی منظوری اسے خود آپ نے پرائیویسی پالیسی کو بغیر پڑھے تسلیم (settle for) کرکے دی ہوتی ہے۔

برطانوی پروفیسر نے مزید لکھا کہ خفیہ ایجنسیاں ایم آئی فائیو اور سی اے کسی کے بھی بگفند ٹیلی وژن تک اگا نس ت سر ر

یہی کام ایمیزون کی ڈیجیٹل اسسٹنٹ ” الیکسا”اور گوگل کے ” نیسٹ ” سے بھی لیا جاتا ہے۔

فیس بک پر شیئر کی گئی تصویر یا خیالات کا اظہار اور پر لکھے گئے الفاظ کا سارا ڈیٹا ‘آن لائن یادداشات’ میں محفتوظ ہ اس میں آئی پی ایڈریس اور لوکیشن بھی شامل ہیں۔

برطانوی پارلیمنٹ کی ایک رپورٹ میں کہا جاچکا ہے کہ ‘فیس بک’ نے عوام کی زندگیوں میں “ڈجیٹال گینگسٹر” اا کرد ہے ار پن

کورونا کے دوران دنیا کی زیادہ آبادی کا انحصار زوم جیسی ایپلی کیشن پر بڑھا۔ یعنی مزید زیادہ لوگوں کا ڈیٹا ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔



About admin

Check Also

انگلینڈ، 24 گھنٹوں میں 1 لاکھ 37 ہزار سے زائد کورونا کیسز رپورٹ

دنیا کے مختلف ممالک میں اب بھی سیکڑوں افراد کورونا وائرس سے متاثر ہورہے ہیں۔ …

Leave a Reply

Your email address will not be published.