گورنر بلوچستان کو کیوں تبدیل کیا جارہا ہے ، اندرونی کہانی!

رواں ماہ کے اوئل میں وزیر بلوچستان خان کی سنیئر سیاستدان صوبائی وزیر بلدیات سردار صالح سے وزرات واپس لیے بعد صوبے کا درجہ حرارت جو اچانک ماحول میں ویسی گرمی نہیں سنجیدہ سیاسی حلقوں کی رائے ہے عید وجہ سے کسی حد تک معمول پر آگیا حلقوں کی رائے ہے صوبے ممکن ہیں بھی وقت صوبے میں بظاہر نظر نہیں آرہی ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے جب گورنر استعفی طلب کیا تھا توقع کی جارہی کہ شائد وزیراعظم فوری صوبے میں نئے کا تقرر عمل میں نام لکھے جانے والے کے بعد تاحال اس سلسلے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے, گورنر (ر) امان اللہ یسین 2018

جبکہ ان کی شخصیت بھی مکمل پر رہی ہے سیاسی حلقوں میں یہ بات بھی رہی ہے کہ پی آئی بلوچستان رہی ہے کہ کی کا صوبے ہونا پارٹی کارکنوں کے مسائل کو وفاق میں زیادہ تیزی سے کرایا جاسکے, وزیراعظم عمر ان خان نے 28 اپریل کو کوئٹہ کا ایک دورہ کیا تھا اپنے دورہ کے بعد گور نر بلوچستان جسٹس (ر) امان اللہ یاسین زئی کو جو خط لکھا تھا اس میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ اپنے دورہ کوئٹہ دوران کورونا وائرس کی صورتحال کو مد رکھتے ہوئے میں آپ سے ذاتی پر ملاقات نہیں کرسکا ورنہ میں آپ سے بات کرتا۔

خط کے متن میں کہا تھا آپ کام کرکے محسوس ہوئی کہ آپ فلاحی ریاست اور بلوچستان کے عوام مسائل کو لیکن موجودہ سیاسی ہوئے گورنر اس کرنا آپ سے درخواست ہے کہ مستعفی, خان کی سے خط کے زریعے گورنر بلوچستان کا استعفی طلب کیے پرپر آئینی حلقوں نے بھی تھا بلوچستان خط اس نہیں کرنا چاہیے تھا گو کہ کسی بھی صوبے میں مقرر کرنے کا اختیار وفاق کا ہوتا تاہم اس کے لئے کار طے ہے جس وفاقی حکومت کی رضا مندی سے صدر مملکت کرتے

اس حوالے سے وفاقی حکومت نے اقدام تھا تو کے لئے صدر مملکت کے زریعے کے تحت بات کی, وزیراعظم گورنر بلوچستان سے کے بلوچستان جانب پارلیمانی نئے گورنر کے لئے تین نام حکومت گئے تھے ان ناموں سے پی ٹی آئی سے باضابطہ طور پر نہیں جانب ایسی تحریک اسپیکر قاسم خان ایک پرانے رہنما کو گورنر بلوچستان مقرر کرانے کے لئے کرادار اداد کررہے ہیں۔

جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق صوبے کسی بھی گورنر مقرر کیا جاسکتا ہے اس میں صوبے سے سابق سفیر یہ روایت رہی ہے کہ پشتون رہے ہیں اس حوالے سے بھی کہ کی صورت میں ترجیحی طور پشتون ہوں گے, حلقوں میں انصاف خان. اعظم نئے گورنر کے لئے کسی نام پر متفق نہیں ہوئے کسی ایک نام پر اتفاق کے بعد ہی کی تقرری شمئد ہ۔مکان حکمل ممان وگی سلسل

این سی او سی کے فیصلے تحت ملک بھر کی طرح کوئٹہ سمیت بھر میں سرکاری دفاتر ، مارکیٹیں ، شاپنگ مارکیٹیں ا شاپن ماال اور تجاوہ کھم اوہ کھم اوکز کھم گئے ب جبکہ شہر میں تفریحی مقامات, پارکس, تعلیمی ادارے, شادی ہال, مارکیزاورسیاحتی تاحکم ثانی بند ہیں جبکہ ہوٹل پر صرف ٹیک اوے میسر ہے .یاد رہے سی او سی کے فیصلے کے بھی رمضان المبارک کے آخری ہفتہ لاک گیا جس خلاف کوئٹہ میں تاجر تنظیموں نے سخت احتجاج کیا کوئٹہ وسط پر احتجاج وزیر کمشنر آفس کے اعلان کیا تھا۔

تاہم عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما صوبائی زمرک خان کی تاجر تنظیموں کے احتجاجی دھرنا کر مسائل کے حل یقین احتجاج ختم عبدالرحیم کے مطابق کوئٹہ ایک ہفتہ لاک ڈاون کی وجہ سے تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا جبکہ گزشتہ سال وعدئے کے باوجود تاجروں کی کوئی مالی مدد نہیں کی تھی۔



About admin

Check Also

کیا مشکل معاشی فیصلوں کا نقصان ’’ن لیگ‘‘ کو ہوگا؟

اس حقیقت کے باوجود کہ اپوزیشن کی جانب سے بڑے بڑے عوامی اجتماعات ٗ جلسے …

Leave a Reply

Your email address will not be published.