کلاسک سنیما فلم ” فرشتہ ”

پاکستان سینما کی ابتداء کے کچھ عرصے کے بعد کچھ فلم ساز اور نیم آرٹ فلموں کا رجحان فلمیں یوم شاشا م کم اا م م لد م م اا ن ن نت رد تاہم اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے میں وہ فلمیں نہ صرف پسند کی بلکہ زیر بحث بھی رہیں ، کوشش 1961 ء فلحم سازا ‘ا لم سازاب’ ان ایت رکن اس فلم کی کہانی روسی مصنف دوستو یوسکی کے ناول کرائم اینڈ پنشمنٹ سے ماخوذ تھی۔ اس ناول پر ہالی وڈ والوں نے بھی فلم بنائی ، جب کہ وڈ میں ” پھر صبح ہوگی ” نامی فلم بھی ائی ن ناوا پر بنن روسی سوچ کو پاکستانی معاشرے سے ہم آہنگ کرنا خود ایک بے حد مشکل کام تھا۔ لقمان نے اس چیلنج کو قبول کیا اور یہ فلم بنا ڈالی۔

ف خ خ ص بوڑھی اور بیمار ماں کے خرچ پر تعلیم حاصل کرنے نہ صرف اپنے ترقی پسند نظریات کے تحت میں انقلاب کا خواہاں ہوتا ایک سرمایہ دار دوست شمیم ​​(افضل نذیر) ناصر کی بہن نجمی (حسنہ) کو اپنی شریک حیات بناتا ہے. ناصر کا ایک اور دوست وفا (علائو الدین) ہے ، جو بنیادی طور پر شاعر ہوتا ہے۔ وفا کی شاعری اور ناصر کے خیالات ، صدیوں سے پسی ہوئی مظلوم انسانیت کے لیے فرشتہ بن کر نئی ریوشنی کک تپتا دوشنی کک تپتا د اس کہانی کا ایک کردار جمیلہ (یاسمین) نامی ایک حیادار لڑکی ہے ، جس کا شرابی باپ (طالش) ہر وقت ار ہ وح مو شر ب توشی م گھر میں بیماری اور فاقوں نے قبضہ جما رکھا ہوتا ہے۔ جمیلہ کی بیمار ماں (مایا دیوی) اس روز مر جاتی ہے ، جب اسے اپنے خاوند کی حادثاتی موت کا عالم ہوت ہے۔

ماں باپ کی وفات کے بعد جمیلہ اور چھوٹی بہن پروین نیلے آسمان تلے اکیلی رہ گئیں۔ بہن کو فاقوں اور بیماری سے بچانے کے لیے جمیلہ نے مجبوراً اس پیشے کی طرف قدم بڑھایا ، عوری ہےے آبرو ہوت مسٹر گرین (دلجیت مرزا) شراب خانے کا مالک جو غرض شخص ہے, جو روزانہ کئی انسانوں کے جسم شراب جیسا زہر انڈیل کر ہوتا ہے, پھر روز اس کا وفا سے محبت کرنے والی مسٹر گرین کی بیٹی سلونی (ایمی سنیوالا) اپنے باپ کا ضمیر جگاتی ہے۔ وفا نے اپنے دوست ناصر کو بچانے کے لیے بوڑھے کباڑیے (ساقی) کے قتل کا الزام اپنے سر لے لیا, مگر ناصر نہ مانا, سی ڈی (آزاد) نے تفتیش کی تو اصل قاتل (لڈن) پکڑا گیا. وفا اور ناصر اس قتل کے مقدمے سے آزاد ہوگئے۔ جمیلہ نے گناہ سے کمائی گئی دولت کو آگ لگا کر ایک نئی کا آغاز کیا ، ناصر اس زندگی میں نئی ​​صبح بن ر نمود۔

وفا اور سلونی کے ملاپ کے بعد مسٹر گرین خانہ بند کرکے وہاں دودھ کی کا کاروبارشروع کردیا اور یوں کو ایک نئی اور پاکیزہ زندگی اس فلم کے ہیرو نیچرل اداکاری سے بے حد عمدہ انداز میں پیش کی. یہ ناول کے ہیرو راشنکوف کا کردار تھا ، جو اعجاز نے ادا کیا۔ اس کردار کو نبھانے کے لیے اعجاز درانی نے روایتی بندشیں توڑ کر فضا میں سانس لے کر اس کردا کااد جس کرد ر او نوی ر کو نکوت صفحر

اداکارہ یاسمین جو اپنی حزینہ اور المیہ اداکاری میں ملکہ رکھتی تھیں ، اس فلم میں ان کا کردار زندگی کے قریب ہےندگی کے قریب ہےندگی کے قریب ہےندگی کے قریب شرابی باپ کی بیٹی جو اپنی بوڑھی ماں اور کا واحد سہارا ہے, یاسمین اس فلم جمیلہ کے کردار میں پھول کی مانند جس کی سر مقدس, شفاف اور پاک بازی کی علامت ہے.عوامی اداکار علائو الدین نے اس فلم میں انقلابی شاعر کا جو کردار ادا کیا تھا۔ وہ دراصل یہ کردار مصنف نے عوامی شاعر حبیب جالب کو سامنے رکھ کر لکھا۔ جالب صاحب علائو الدین کے بڑے گہرے دوست تھے۔ ان کی خواہش پر یہ کردار فلم میں شامل کیا گیا۔

آغا طالش ، اس باکمال فن کار نے اس فلم میں جو شرابی رول ادا کیا تھا ، اس کی تاوصیف ائےور میں اس نا ا دکر ن ا قلم یہ ایک ریٹائرڈ تحصیل دار کا کردار تھا ، جو پنشن سے ملنے والی رقم کو شراب خانوں کی نظر کردیتا ہے۔ گھر میں بیمار بیوی اور دو بیٹیوں کے غم کو شراب میں بھلا والے اس شخص کی زندگی مختلف فکروں اویر پریشان جو کتا م ر

اس کردار میں آغا صاحب نے احساسات و تاثرات کی حقیقی انداز میں کی, جس سے کردار پر گمان ہوتا ہے.فلم کی کاسٹ میں حسنہ, ایمی سنیوالا, مرزا, افضل نذیر, سلطان راہی, ساقی, بے بی پروین, ریحان, آزاد, زینت بیگم ، لڈن ، حمید دانی ، ایم ڈی شیخ ، سلمیٰ ممتاز ، عائشہ بیگم ، ماہا دیوی ، ہمالیہ کے نھے م بھی شامل تم ھی

فلم ساز و ہدایت کار لقمان نے 1950 ء میں فلم ” شاہدہ ” کی ڈائریکشن دی۔ انہوں نے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز 1937 ء میں متحدہ ہندوستان سے کیا۔ 1946 ء میں بہ طور ہدایت کار ان کی پہلی فلم ” ہم جولی ” ریلیز ہوئی تھی۔ 47 ء میں وہ پاکستان آگئے اور یہاں آکر انہوں نے فلم شاہدہ بنائی۔ شاہدہ کو پاکستان کی پہلی کام یاب فلم کا اعزاز حاصل ہے۔ فلم ” فرشتہ ” کے لیے انہوں نے انگریزی ناول کرائم اینڈ پنشمنٹ کا انتخاب کیا۔

اردو کے مایہ ناز ڈراما رائٹر اور اداکار کمال احمد المعروف الن سے انہوں نے اس کا منظرنامہ اور صورت نیم آرٹ فلم جمعہ July 7, 1961 ء کو کراچی کے ریوالی اور لاہور کے رٹز سنیما میں ہوئی. موسیقار رشید عطرے کی کمپوزیشن میں فلم کے نغمات اپنے دور میں مقبول ہوئے ، جن کے بول اور تفصیلات کچھ یوں ہے۔

(1) سیکھا کہاں سے نینوں نے انداز بانکپن

(سنگر سلیم رضا) (نغمہ نگار تنویر نقوی) (فلم بندی اداکار علائو الدین)

(2) زمانہ کس قدر نامہربان ہے

(سنگر سلیم رضا) (نغمہ نگار تنویر نقوی) (فلم بندی علائو الدین)

(3) دل کی دھڑکن تیری آواز ہوئی جاتی ہے

(سنگر نورجہاں) (نغمہ نگار مظفر وارثی) (فلم بندی اداکارہ یاسمین) (4) وہ زمانہ ضرور آئے گا

(سنگر سلیم رضا) (نغمہ نگار تنویر نقوی) (فلم بندی اداکار علائو الدین)

(5) زمانہ کس قدر نامہرباں ہے۔ (سنگر نورجہاں) (نغمہ نگار تنویر نقوی) (فلم بندی اداکارہ یاسمین)

(6) لو ہم نے کہہ دیا

(سنگر منیر حسین ، نور جہاں) (نغمہ نگار تنویر نقوی) (فلم بندی علائو الدین۔ ایمی سنیوالا)



About admin

Check Also

معروف ہدایت کار امین اقبال کی دِل چسپ فلم ’’رہبرا‘‘

پاکستان میں فلم سازی کے عمل میں تیزی آرہی ہے۔ عیدین کے علاوہ بھی فلمیں …

Leave a Reply

Your email address will not be published.