مہنگائی قابو سے باہر کیوں؟

2018 ء کے انتخابات کے نتیجہ میں بننے والی عمران حکومت اپنے اقتدار کے تین سال مکمل کرنے ہے قومی اسمبلی بڑی اور سینٹ والی اپوزیشن کرنے کے لیے تیار نہ تھیں کوششوں کے باوجود حکومت کو کوئی زک پہنچانے میں نہیں ہو قومی قرضہ تیس ہزار ارب سے 42 ہزار ارب تک پہنچ مگر مولانا فضل کی قیادت میں پی ڈی جلسے جلوسوں کے باوجود آخری میں پارلیمنٹ سے استعفوں کے ایشو پر تقسیم ہو گیا مولانا فضل الرحمان نے اس کا دوبارہ اجلاس بلا رکھا ہے.

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی طرف عشائیہ سے اپوزیشن اکٹھے ہونے کے کوئی امکانات پیدا پی ڈی ایم اے میں کھل کر آجائے گا, استعفوں کے ایشو (ن) لیگ کے مابین بات بڑھ چکی ہے ان کے مابین سینیٹ میں اپوزیشن کا ہی موجود نہیں بلکہ کراچی کے حلقہ این اے 249 میں (ن) کے امیدوار کی حمایت کی بجائے نے نہ صرف اپنا امیدوار بھی ہو کے الزامات کو بھی شنوائی نہ مل سکی, ایسی صورت میں ڈی ایم میں پیپلز کی واپسی کے امکانات زیادہ نہیں ہیں (ن) لیگ خوش نہیں ، مولانا فضل الرحمن کو رکھنے میں کس کامیاب ہوتے ہیں 29 مئی کو پتہ چل جائے گا۔

عمران خان حکومت نے اپنے دور میں لے چلنے کی ابھی تک کوئی کوشش نہیں بلکہ کہنا زیادہ بہتر کہ عمران خان کی ابھی تک کو احتساب عدالتوں سے کے ملک بھیجنا, قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف, پنجاب میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز, شاہد خاقان عباسی, سابق وزیر مفتاح اسماعیل, سابق وزیر اقبال, سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق, رانا آصف زرداری اور ان کی بہن تالپور سمیت جیل ہے, وزیراعظم آج بھی سابق کو چور ڈاکو قرار اسی طرح تنقید کا بناتے ہیں جس طرح قومی میں (ن ) لیگ کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف آج بھی جیل میں احتساب بھگت رہے ہیں۔

سیاسی حالات کی بہتری کے خواہاں لوگوں کہ میں لانے والوں نے اپوزیشن کا کہا ہے وزیراعظم اس ساتھ دے. نون کو الگ کرنے کے لیے بھی ہو میں کے دوستوں کا خیال ہے کہ بنیادی پر نثار علی خان شریف کے اور کے جارحانہ بیانیہ کریں گے جس سے شریف بھاری ہوگا اور شاید وہ اپنے بڑے بھائی اور بھتیجی کو بھی اس پر راضی کرنے میں کامیاب ہوجائیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے صلح کرکے آگے بڑھا جائے۔

چودھری نثار علی خان حمزہ شہباز کی جگہ (ن) کے لوگوں کو متحد کر کے پنجاب میں پاسہ پلٹنے پوزیشن میں بھی بتائے ہیں, عمران خان کی کی سے وہ کی جگہ بھی لے سکتے جس سے پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت کو دو سال بھرپور انداز کام کرنے کا موقع ملنے کا بھی امکان ہے لوگوں نے تو چودھری علی کے حلف کو عمران خان کے لیے “این آر او” دے دیا ہے ان کا کہنا کہ علی سال کا بیان ہی ان لئے کافی ہے, ٹی آئی اپنا اقتدار. سالہ دور پورا کریں گے بلکہ آئندہ پانچ سال بھی انہی کی حکومت ہوگی (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی کے راس۔تے میں احتس رکو احتس رکو

حکومت وقت کے ترجمانوں کا دعوی ہے کہ کہ معاشی صورتحال تیزی سے بہتر ہو خزانہ حفیظ شیخ اور شوکت ترین معاشی صورتحال رکھ دیا ہے آئی ایم ایف شرائط روک وزیر خزانہ نے آئی ایم رکھتے ہوئے شرائط انکار کیا قیمتیں بڑھنے. روکنے حد تک کامیاب ہوتے ہیں؟

پاکستان کا اصل مسئلہ مہنگائی اور بروزگاری ہے موجودہ طرح کے دعوے کر کے آئی اس سے کوئی دعوی بھی نہیں ہو سکا روکنے کے مین ختم کرنے کی ضرورت ہے کھیت اور منڈی کا تعلق جوڑے بغیر مسئلہ حل ہوگا حکومتی مثبت معاشی اشارئیے کے باوجود مہنگائی کنٹرول نہیں ہو رہی۔

روزگار کے مواقع بڑھانے کے لئے انڈسٹری لگانے کی نوجوانوں کو بغیر سودی قرضوں کی لگائی جاسکتی ہے دیہی علاقوں سے کی طرف کی ضرورت ہے قصبوں اور دیہاتوں میں گھریلو صنعتوں کو فروغ دیا جائے, طبقے اور کاشتکار کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے ساتھ ساتھ مراعات دینا ہونگی۔

کاروباری طبقے اور کسان کو خوش رکھنا ہوگا تاکہ وہ قومی باعث بنے, پٹواری, عدالتی عملے کی لوٹ مار ختم بغیر ترقی اور سماجی تبدیلی کا سوچنا پاگل کے سوا کچھ سیاسی حلقوں کا کہناہے کہ وزیراعظم ابھی تک پاکستان میں بہترین نظام حکومت کیا ہونا چاہیے کے سے ذہنی انتشار کا شکار ہیں۔



About admin

Check Also

معاشی عدم استحکام: بروقت مشکل فیصلوں کی ضرورت

پاکستان میں ہر باشعور شہری ایک دوسرے سے یہ سوال کرتے نظر آرہا ہے کہ کیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *