قدیم ترین مادہ

حذیفہ احمد

ماہرین ارضیات کرہ ٔارض پر تحقیقات کرکے نت کرنے ہیں ۔اس ضمن میں ماہرین نے کرے ہاوئے کرۂ پر مّےوجود قدفم د رد دیم د پر. خلائی دھول گرد کے ذرّات ملے ہیں جوکہ تقریباً ساڑھے سات ارب (7.5) سال پرانے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق قدیم ترین دھول یا گرد کے ہمارے نظام شمسی کے پیدا ہوےنے اّااروں میں وجاود ن

یہ نظام شمسی سے پہلے موجود ذرات پھر نئے, چاند اور شہابیوں میں شامل ہو ہیں .اس تحقیق کے مصنف شکاگوفیلڈ میوزیم کے کیوریٹر گو یونیورسٹی ایسوسی پرو فیسر یہ کے نمونے ہیں .حقیقی ستاروں کے غبار, امریکا اور سوئٹرز لینڈ کے ماہرین میں گرنے والے مرچیسن شہابیے کے ایک حصے موجود نظام شمسی کے وجود میں آنے سےپہلے 40 ذرات کی جانچ کی۔

قدیم ترین مادہ

فیلڈ میوزیم اور شکا گو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی سائنس دان کا گریر کا کہنا ہے کہ شہا بیے کے پس بن جانے والے حصے سے شروع ہوتا جب تمام ٹکڑوں کو علیحدہ تو یہ شکل اختیار کرلیتی ہے اور اس کی ہوتی ہے جو ہوئی مونگ جیسی بو کو تیزاب میں. یاجا ، جس کے بعد اس میں اسٹار ڈسٹ یعنی ستاروں کا غبار بچ جاتا ہے۔

فلپ ہیک کے مطابق یہ پیال کے ڈھیڑ کو جلا سوئی تلاش کرنے جیسا ہے .یہ جاننے کے کہ یہ ذرات کتنے ہیں محققن نے وہ خلا کتنا جوکہکشائوں سے گزرتی ہیں اورٹھوس مادوں میں بھی داخل ہوجاتی ہیں .یہ کرنیں د سےٹکرانے والے مادوں سے رابطہ کرتی ہیں اور نئے عناصر بناتی ہیں۔

جتنی دیر تک یہ مادے کرنوں کے سامنے ہوتے ہیں اتنے ہی عناصر بناتے ہیں .تحقیق کاروں نے کی عمر کا پتہ کے لیے عناصر نیون کی خاص ہم کا طوفان میں ایک بالٹی رکھنے سے موازنہ کرتے ہیں .بالٹی میں جو کی مقدار جمع ہوتی ہے, ا س سے یہ معلوم کہ بالٹی بارش میں کتنی دیر رہی

اس میں جتنے نئے عناصر شامل ہوتے ہیں وہ ہیں کہ ذرات کتنی دیر کائناتی کے رابطے میں رہےاور وہ پرانے ہیں.نظام شمسی سے کچھ ذرات قدیم ترین ذرات ثابت پر کہا جاسکتا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر 4.6 ارب سے 4.9 ارب سال پرانے ہیں۔ڈاکٹر ہیک کا کہنا کہ ان میں سے صرف 10 فی صد ذرات 5.5 ارب سال زیادہ پرانی ہیں جب کہ 60 ہےقیاااا م کہ 60 فی وکے ب 60 فی وکے ب 60 فی ور کی 4.6 ب ن ب 4.6 س ب 4.6 ب ب ن ب 4.6 وکے 4.6 ب ن ب 4.6 ب او کی 4.6 ب 60 فی وکے کی 4.6 ب ن ب 4.6 جدید ترین کے درمیان ہے۔

ماہرین کے مطابق مرچنس اور دوسرے شہابیوں میں نظام شمسی کے وجود سے قبل کے بہت سارے دھات ہیں۔ جن کی ابھی تک ہم نشاندہی کرنے میں قاصر ہیں.اس قبل قدیم ترین نظام شمسی سے کے ذرات کی دریافت نیون کے معیار پر 5.5 ارب سال کی ہوئی دریافت پر روشنی نئے تارے مستقل شرح پر بنتے رہتے ہیں یا پھر وقت کے ساتھ نئے تاروں کے بننے میں رفتار میں کمی بیشی نظر آتی ہے۔

ڈاکٹر ہیک کا کہنا ہے کہ ان ذرات کی بدولت ہمارے ہماری کہکشاں میں ستاروں کے وجود آنے کے وسیع زمانے پر براہ راست شواہد ان شہابیوں کے نمونے میں موجود یہ ہمارے مطالعے کی اہم دریافت ہے.تحقیق کاروں کو معلوم ہوا ہے کہ نظام شمسی پہلے والے ذرّات عام طور خلا میں ایک ساتھ گرانولا کی ح سے جھرمٹ کو اُمید تھی کہ یہ اس سطح پر ممکن تھا۔



About admin

Check Also

مریخ پر امریکا کا نیا مشن

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارہ ناساخلا میں ہونے والی نئی دریافتیں اور پوشیدہ رازوں پر سے …

Leave a Reply

Your email address will not be published.