عالمی شہرت یافتہ جاپانی ادیب ” ہاروکی موراکامی ”

عہدِ حاضر کےایک ادیب“ہاروکی موراکامی ” ہیں ، جن کا تعلق ایشیا کے ملک جاپان سے ہے۔ وہ جاپانی زبان کے علاوہ بھی انگریزی اور دنیا بڑی زبانوں میں باقاعدگی سے پڑھے ہیں, ایک محتاط اندازے مطابق, اب تک ان کی تخلیقات 50 زبانوں میں ترجمہ کی چکی صرف جاپانی زبان میں ہی ان کی کتابیں لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوچکی ہیں. وہ ورلڈ فینتاسی ایوارڈ ، فرانز کافکا ایوارڈ اور یروشلم ایوارڈ سمیت جاپپان کے بھی کئی امبی اعزا ا ا

” ہاروکی موراکامی ” March 12, 1949 کو جاپان کے شہر کیوٹو میں پیدا ہوئے۔ وہ ناول نگار ہونے کے ساتھ ساتھ افسانہ نویس ، مضمون نگار اور مترجم بھی ہیں۔ جاپانی زبان میں لکھتے ہیں ، لیکن انگریزی سمیت دنیا بھر کی کئی زبانوں میں پڑھے جاتے ہیں۔ جاپان کے شہر ٹوکیو کی معروف یونیورسٹی ” وسیدا ” سے فارغ التحصیل ہیں ، اب یہ یونیوراسٹی ا۔ ب دنیا کی دو تین معروف جامعات نے ان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند سے بھی نوازا ہے۔

جاپانی زبان کے اس مقبول ادیب کو 80 کی دہائی میں شہرت ملنا شروع ہوئی۔ 1982 میں ان کے ناول”اے وائلڈ شیپ چیس ” کو توجہ ملی اور 1987 میں اشاعت پذیر ہونے والے ناول”نارویجین ووڈ ” نے گویا, ان کے لیے عالمی شہرت کا دروازہ کھول دیا, اس ناول سے”ہاروکی موراکامی ” کی شہرت جاپان سے باہر نکل گئی اور حقیقی معنوں میں کو ایک بڑا ادیب بننے کی طرف راغب کر دیا۔ 90 کی دہائی میں ان کا ایک اور ناول”دی ونڈ اپ برڈ کرونیکل ” کو بھی بے پناہ شہرت ملی, اکیسویں صدی کی ابتدا میں شائع ہونے والے ” کافکاآن دی شور ” نے عالمی سطح پر بے پناہ مقبولیت سمیٹی. اس ناول کا اردو ترجمہ ” کافکا برلبِ ساحل ” کے نام سے حال ہی میں اردو زبان میں ہوا ہے ، جحس کےا ” نجم لد ” پاکستان میں بھی اس ادیب کی مقبولیت کا تناسب روز بروز بڑھ رہا ہے۔

عالمی شہرت یافتہ جاپانی ادیب '' ہاروکی موراکامی ''

اسی طرح“ہاروکی موراکامی ” کے دیگر ناولوں میں 1Q84 کو جاپان میں سب سے زیادہ پسند کیا گیا اوئر اس نے فر یکت ر ان کی مختصر کہانیوں کے بھی کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں ، جبکہ انہوں نے عالمی ادب سے کرکے کئی کمیںب پھیا ا ترن ب جا کے ترن ب جاب کے ترن ب جاب انگریزی زبان میں ان کے ناولوں کے تین مدیر اور ہیں, جن کے ذریعہ ان کی تمام کتابیں انگریزی ترجمہ ہوتی ہیں, انگریزی نسخوں سے پوری دنیا میں مختلف زبانوں میں کے تراجم کیے جاتے ہیں.

ان کے والدین جاپانی ادب کے تھے, اس سے راہ فرار اختیار کی, مغرب ادب سے قلبی رشتہ اور خود کئی مغربی طرز نگارش اور کہانیوں دیکھے جاسکتے ہیں, ان ادیبوں میں برطانوی نژاد امریکی ادیب”ریمنڈ شینڈلر ” امریکی ادیب”کرٹ وینگوٹ ” اور”رچرڈ براوٹیگن”شامل ہیں۔

ان کو اپنی مغربیت کی وجہ سے بعض اوقات جاپانی ادبی حلقوں کی طرف سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ان کی کہانیوں کے کردار فلسفیاتی, طلسماتی, تجریدی اور مختلف کی پرچھائیوں میں گھرے ہوئے ہوتے ان کے عالمی طور سے پہلے مشہور ناول”نارویجن ووڈ ” میں اس طرز تحریر کو پڑھا جاسکتا ہے, جس میں کی حقیقی سمت اور خیالات کی تحریک ساتھ ساتھ گامزن ہے۔ ہم نے آج اسی ناول کا انتخاب کیا ہے۔ ویسے ان کے پانچ مختلف ناولوں پر اب تک پانچ فلمیں بن چکی ہیں۔

” ہاروکی موراکامی ” کے اس ناول”نارویجن ووڈ ” کو انگریزی میں پہلی مرتبہ”الفرڈ برنبوم ‘م’ ن’اجے ‘بوم’ م ‘نے 1989 میں ن بر دور 1989 میں ن سریر د. یہ ناول چند ایسے مرکزی کرداروں پر مبنی ہے ، جو طالب علم ہیں اور وہ ماضی کی یادوں میں کھوئے ہوئے ہیں۔ جہاں زمانہ طالب علمی میں تعلیم کے حصول ، رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ ، کیفیات اور نفسیات کے سمیت دیگراحساسات ککی بخوب یساسات ککی بخوب ککی

یہ کہانی ٹوکیو شہر کے اردگرد گھومتی ہے۔ ایک روانی میں بیان کی گئی کہانی اپنے آپ میں مدغم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اس ناول پر بننے والی فلم کو ویت نام سے تعلق رکھنے فرانسیسی فلم ” تران آن ہنگ ” ے بن وا ان سو س ل



About admin

Check Also

قوم اور قومیت کے تصورات اور سر سید احمد خان

سرسید کے حوالے سے عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ متحدہ ہندوستانی …

Leave a Reply

Your email address will not be published.