زیب پر فلمائے گئے سُپر ہٹ گیت !!

فلم ” چراغ جلتا رہا ” محمد علی اور زیبا متعارف ہوئے۔ محمد علی نے ایک خودسر مغرور نواب کا کردار بہ خوبی نبھایا۔ حسین و جمیل زیبا پر اس فلم میں دو سولو نغمات نور جہاں فلمائے گئے ، جب کہ محمد علی پہ کوئی نغمہ فلمیا ن اس فلم کے بعد علی زیب ” دل نے تجھے مان لیا ” میں آئے۔ کمال نے زیبا کے مقابل ہیرو کا کردار نبھایا ، جب کہ محمد علی ولن بنے تھے۔ علی زیب بہ حیثیت ہیرو ، ہیروئن پہلی بار ہدایت کار نذیر صوفی کی فلم ” ہیڈکانسٹیبل ” میں جلوہ گر ہوئے۔ اس فلم میں علی زیب پر پہلا دو گانا ” لے کے انگڑائی میرا پیار جگانے والے ” فلمایا گیا۔

اسے موج لکھنوی نے لکھا اور دھن نثار بزمی کی تھی۔ علی زیب پر دوسرا دو گانا فلم ساز زیبا, ہدایت ایس سلیمان, موسیقار نثار بزمی, نغمہ مسرور انور اور کہانی نویس راہی کی گولڈن جوبلی ہٹ فلم ” آگ ” میں فلمایا گیا, جو نہایت مقبول دو گانا ثابت ہوا. ” موسم حسیں ہے لیکن تم سا حسیں نہیں ہے ”۔ علی زیب پر فلمائے دونوں ابتدائی دو گانوں کی دھنیں بنانے کا اعزاز نثار بزمی کو حاصل ہوا۔ ” آگ ” کے اس دل کش دو گانے کے بعد فلم میاں احسان ، ہدایت کار لقمان اور رشید عطرے کی میںل مول ل ‘وبل مول ل’ وب ل توئےم ‘وب ل تومم’ وب ل توحم ‘وب ل توحم’ وب مو ل ‘ ان دونوں دوگانوں کو فیاض ہاشمی نے رقم کیا۔

” سنا ہے کہ دل دے کے دیتے ہیں دھوکہ ، مگر میری جان ہم ایسے نہیں ہیں ” اسے احمد رشید اور رونکھا یےالیٰ نے نی رالیٰ نے پنی رالیٰ نے پنی ر ” آواز جب بھی دیں ہم ، پہچان جائیے گا ” مہدی حسن اور نگہت سیما نے خُوب صورتی سے اسے گایا۔ ” محل ” یکم مارچ 1968 ءکو کراچی کے مین سنیما ” بمبینو ” پر ریلیز ہوئی۔ علی زیب پر فلمایا گیا پانچواں دو گانا سولہ اگست 1968 ء کو نمائش کے لیے پیش کی جانے والی فلم ” د ‘اودیا شدرد لی ال’دیا شدرد لی تنویر نقوی کے تحریر کردہ اور اے حمید کے کمپوز کردہ اس طربیہ گانے کو احمد رشدی اور رو۔نا ائالےگ ےگمپوز بڑے چائو سیٰ نے بڑے چائو س یٰ بڑے ” میں نے کہا ذرا سنیئے ذرا! مجھ سے محبت ہے کہ نہیں! نہیں نہیں ابھی نہیں ”۔

ہدایت کار ایس ٹی زیدی (پورا نام سید طیب زیدی) اور موسیقار نثار بزمی کی فلم ” تاج محل ” جاپاج مکےئیل ” ججاپا مکےحل ” جو 22 ؍ د سمبر 1968 و 22 ؍ د سمبر 1968 اس تاریخی ، ملبوساتی سلور جوبلی فلم میں خُوب صورت جوڑی علی زیب پر چھٹا دو گانا فلام بند جسے تنویر قلوی ن مالا اور مسعود رانا نے رعنائی سے اس دو گانے کو گایا. ” مٹ گئے سارے غم, مل گئے جب حضور, مٹ گئے سارے ” .اس فلم میں علی زیب پر دوسرا دوگانا ” آج وعدہ وفا کا کرنا ہوگا ”. بھی فلمایا گیا۔ اسے منیر حسین اور رونا لیلی نے گایا تھا۔ شاعر کلیم عثمانی تھے۔

علی زیب پر رنج و الم کی کیفیت میں ڈوبا دو گانا مذکورہ چھ طربیہ دو کے بعد فلم ساز قدیر ہدایت کار و اداکار یوسف کی رومانوی, نغماتی فلم ” تم ملے پیار ” میں فلمایا گیا. مہدی حسن اور نورجہاں کے گائے اس لاجواب دو گانے کے بول یہ ” آپ کو بھول جائیں ہم اتنے تو بے وفا نہیں ”۔ اس غمگین دو گانے کے علاوہ اسی فلم میں علی پر ایک دل کش طربیہ دو گانا بھی گیا, جسے نور جہاں منیر حسین نے خوب صورتی سے ” اپنے پہلو میں میرے دل کو جانے دو, مچل جانے دو ”

زیب پر فلمائے گئے سُپر ہٹ گیت !!

9 / مئی 1969 ء کو ریلیز ہونے والی سید سلیمان کی سلور جوبلی ” جیسے جانتے نہیں ” میں علی زیب پر مسرور انور کا ہوا اور نثار بزمی کمپوز کردہ دو گانا فلمایا گیا, اسے مالا احمد رشید نے گایا ” تیری آنکھوں سے میرے دل نے دھڑکنا سیکھا ”۔ فلم ” بہورانی ” میں علی زیب پر فیاض ہاشمی کا لکھا ایک دل کش دوگانا فلمایا جسے اپنی آمازا سے اپنی آموشا ‘ہموشا’ ہموش موش موش موشا ‘موش موش م برد موشم ہموش م برد م برد ” بہورانی ” کراچی کے مین سابقہ ​​تھیٹر ” کوہ نور ” کی زینت بنی۔ علی زیب پر اگلا دو گانا بارہ دسمبر 1969 ء کی عیدالفطر پر ریلیز ہونے ہدایت کار سید سلیمان اور خاتون موسیقار شمیم ​​نازلی کی فلم ” بہاریں پھر بھی آئیں گی ” میں فلمایا گیا. خواجہ پرویز کے لکھے اس دو گانے کو احمد رشید ور مالا نے گایا ” خوش نصیبی ہے میری تم نے اپنایا ہے۔

شباب کیرانوی کی گولڈن جوبلی ہٹ فلم ” انسان اور آدمی ” میں علی زیب پر نہایت شااااار دکھو گا ‘با’ ‘تو جہر’ شباب کیرانوی کے اس یادگار دو گانے کو موسیقار ایم اشرف کی بنائی طرز پر مہدی حسن اور نور جہاں نے گایا۔ ” انسان اور آدمی ” 15 ؍ مئی 1970 ء لیرک سنیما پر ریلیز ہوئی۔ کراچی سرکٹ میں یہ فلم 57 ؍ ہفتوں کے ساتھ شاندار گولڈن جوبلی کے اعزاز سے نوازی گئی۔ علی زیب پر اگلا دو گانا ہدایت کار لئیق اختر کی فلم ” نورین ” میں نثار بزمی کے کمپوز کردہ دو گانے کو احمد رشدی اور مالا ” کتنی بار ملے ہیں لیکن آج بھی یوں لگتا کہ جیسے ملے ہوں پہلی بار ”. فلم ” نورین ” کے بعد علی پر ہدایت کار سید سلیمان کی فلم ” محبت رنگ لائے گی ” میں مہدی حیاااما مہدی حیاا ال او فان ال کن لگگ

زیب پر فلمائے گئے سُپر ہٹ گیت !!

مسرور انور نے اسے لکھا اور نثار بزمی نے اس کی دھن مرتب کی۔ ” تم میری آنکھوں میں ایک بار ذرا دیکھو تو ”. سال 1970 ء ہی میں علی زیب پر ایک اور یادگار ہدایت کار مسعود پرویز کی رنگین فلم ” نجمہ ” میں فلمایا گیا, ماسٹر عنایت حسین کے کمپوزکردہ اور قتیل شفائی تحریر کردہ اس دو گانے کو آوازوں سے سجایا ، احمد رشدی اور نے کچھ اس طرح سے۔ ” چلے ٹھنڈی ہوا تھم ھ۔ام ، سن سے لےب سیی

ہدایت کار لقمان کی فلم ” دنیا نہ مانے ” 7 / فروری 1971 ء کو کراچی کے سابقہ ​​نشاط سنیما پر ریلیز علی زیب پر احمد رشدی اور کا گایا یہ دوگانا تھا تسلیم فاضلی نے اسے لکھا. ” سنا ہے چاند پر انسان رہیں گے ”۔ عزیز میرٹھی کی بہ طور ہدایت کار آخری فلم ” یادیں ” دو اپریل 1971 ء کو نشاط پر ریلیز ہوئی ، گ موار رجب معوار ع علیت س سع انہوں نے نور جہاں کے ساتھ ایم اشرف کی بنائی کش پر تسلیم فاضلی کا دو جو علی زیب ہااا گیگیا ۔او الاا گیگیا ۔او مچ ن ل لر لر ”۔ ” ڈھونڈھ رہی تھیں جانے کب سے تیری صورت میری آنکھیں ”۔ یہ خُوب صورت دوگانا علی زیب پر سید سلیمان کی گولڈن جوبلی ہٹ فلم ” تیری صورت میری آنکھیں ” میں فلمیا گیا ا

اسے تسلیم فاضلی نے لکھا ، ناشاد کی بنائی طرز پر احمد رشدی اور مالا نے اسے گایا۔ ہدایت کار ایس ٹی زیدی کی فلم ” بدلے گی دنیا ساتھی ” 28 / اپریل 1972 ء کو ریوالی پر ریلیز ہوئی علی زیب پر طافو کی موسیقی میں احمد رشدی اور آوازوں میں یہ دو دوگانے فلمائے گئے. ان دو گانوں کو بالترتیب خواجہ پرویز اور تسلیم فاضلی نے لکھا۔ ” یہ جھومتی فضا ہے یا پیار کا نشہ ہے ”۔ ” تجھ سے ملی ہے زندگی ، تجھ سے ہے میری زندگی ”۔ ” اگر کوئی پوچھے بہاروں کا مطلب بتادوں گا تیری ادائوں کا نام ”۔ طربیہ اور غمگین امتزاج کا حامل یہ دو گانا علی زیب پر سلیمان کی شان دار سلور جلالی ہٹم فلم ” اوبلی ہٹم لم ” محب گی م ل طربیہ حصہ محمد علی پر اور غمگین حصہ زیبا پر فلمایا گیا۔ اس دو گانے کی لاجواب منفرد دھن نثار بزمی نے بنائی اور اسے قتیل شفائی نے لکھا۔ گلوکاران احمد رشدی اور رونا لیلی تھے۔

اسی سال 1972 ء میں سید سلیمان کی فلم ” سبق ” میں بھی علی زیب پر ایک دو گانا فلم بند ہوا۔ اسے بھی نثار بزمی نے کمپوز کیا اور کلیم عثمانی نے اسے لکھا۔ احمد رشدی اور مالا نے دلکش انداز میں یہ دوگانا گایا۔ ” یہ ہوائیں ، یہ فضائیں تیرا میرا پیار دیکھ کر مسکرائیں ”۔ سبق آموز فلم ” سبق ” 15 ؍ دسمبر کو کراچی کے مین سابقہ ​​سنیما اوڈین پر ریلیز ہوئی اور گولڈن جاوبلی سگ ہموکن October 11, 1975 کو ریلیز ہونے والی ہدایت کار کار اختر ‘فلم’ ‘ایثار’ ‘میں میں زیب زیب مہدی حسن اور بیگم کا گایا دلکش دوگانا فلمایا تم میری منزل بنادو, اپنی چاہت کے بنادو’ ‘.

یہ دو گانا مہناز بیگم کا مہدی حسن کے ہمراہ اولین دوگانا بھی جسے مسرور انور نے لکھا اوز نثار کیمی نے کاار زمی نے کاار زمی نے نار کیمی نے علی زیب پر آخری دو گانا 15 ؍ ستمبر 1989 ء کی ریلیز فلم ” محبت ہو تو ایسی ہو ” میں فلمایا جو اآخفوف ،ا وط ااآخوف مموف مموف مو موف مو مو ماوف سے روطر سے ت روحر علی زیب پر فلمائے آخری دو گانے کو مہناز بیگم اور غلام عباس نے گایا۔ اسے مسرور انور نے لکھا اور نثار بزمی نے کمپوز کیا, سے نثار بزمی کو یہ اعزاز حاصل کہ علی زیب پر پہلے گانے کو بھی اور اس آخری دوگانے انہوں نے کمپوز دوگانے کے بول یہ ہیں. ” پیار کرنے والوں کو پیار یہ سکھاتا ہے ”۔



About admin

Check Also

اپنے دور کے کامیاب مصنف، نغمہ نگار اور مکالمہ نویس ’’حزیں قادری‘‘

پنجابی باکس آفس کی جب بھی تاریخ مرتب کی جائے گی، تو سب سے قدآور …

Leave a Reply

Your email address will not be published.