زندگی کو فروغ دینے والے جرثومے

پروبایوٹکس (“probiotic”) دراصل دو لاطینی لفظوں کا مرکب ہے۔ “Skilled” جس کے معنی ہیں فروغ دینے والا اور “Biotic” یعنی “Life” زندگی کے ہیں۔

“Probiotic” زندگی کو فروغ دینے والا کوئی کیمیائی مادہ نہیں ہی کسی پودے یا سے حاصل شدہ نامیاتی مادہ (Biomole Cale) ہے بلکہ “probiotic” دراصل ایک خاص قسم کے بیکٹیریا ہیں جن کا تعلق زیادہ تر یعنی سے ہوتا ہے.

ارتقائی لحاظ سے بیکٹیریا کرئہ ارض پر تقریبا 4.2 بلین سال سے لے کر آج تک موجود رہنے والا واحد ہے جب کہ اس دوران کئی اقسام جاندار دنیا میں آئے اور ناپید (extinct (ہوگئے اور اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ جاندار اس وقت ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں سے مطابقت نہیں رکھ اور نہ ہی دوسرے جانداروں سے اپنا کرسکے لیکن بیکٹیریا کی اس کرئہ ارض یہ بتاتی ہے کہ غیر معمولی صلاحیت موجود ہے.

سائنسی شواہد سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بیکٹیریا کے لیے کئی قسم کے biomolecules نامیاتی مادوں کا اخراج کرتے ہیں اور وہ دوسرے جرثوموں کے خلاف اپنے ہتھیار طور پر استعمال کرتے ہیں. مثال کے طور پر Bacterial وہ نامیاتی مادّہ ہے جو کہ اپنے آس پاس کے بیکٹیریا کو مارنے کے لیےاستعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح حال ہی میں بیکٹیریا میں دریافت ہونے والے CRISPR نامی ٹیکنالوجی ہے, جس میں بیکٹیریا اپنا ایک خاص قسم کا انزائم اوپر حملہ آور ہونے والے وائرس کے خلاف استعمال کرتا ہے. مختلف سائنسی شواہد سے یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ بیکٹیریا مسکن صرف زمین ہی کو نہیں بلکہ کائنات میں سیاروں کو بھی ممکنہ طور پر بنایا حال ہی میں ہونے والی خلائی تحقیقات و تجربات نے خلاء میں بھی کئی قسم کے بیکٹیریا کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔

پچھلی کئی دہائیوں سے یہ بات ہے ایک انتہائی ماحولیاتی جو کہ ہزاروں قسم کے پر مشتمل ہوتا ہے, انتہائی قریبی ہم کے ساتھ تنفس اورنظام ہاضمہ شامل جہاں یہ دونوں یعنی بیکٹیریا اور انسانی جسم ایک دوسرے کےلیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں.

بیکٹیریا کی یہ ہزاروں اقسام جو کہ انسانی جسم میں موجود ہوتی ہے ، اس کو microbiota کہا جاتا ہے ، جو۔ اھیاکہانی فہیںو۔ل بنسانی نسم کت ال ال سم کا یہ بیکٹیریا دراصل انسانی جسم اپنی کے ہی سے اردگرد کے ماحول سے حاصل کرلیتا پھر زندگی بھر برقرااگی بھر برقرادا و مور سے جڑےرد و سے جڑےرد

پروبایوٹکس بیکٹیریا اپنے میزبان انسانی یا حیوانی جسم کی Physiology یعنی جسمانیات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثلا یہ بیکٹیریا نظام انہضام میں نہ صرف غذائی اجزاء ہضم ہونے کے عمل میں حصہ لیتے ہیں بلکہ آنتوں میں angiogenesis یعنی خون کی پرانی وریدوں سے نئی وریدوں بننے کے عمل میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں. اس کے علاوہ یہ بیکٹیریا انسانی جسم کے مدافعتی نظام کی Modulation اور اعصابی نظام کی نمو میں بھی اہم کردار اد کرت

یہ بیکٹیریا جسم میں چربی کی اندوزی مربوط ہیں اور اسی لئے ان خطرناک قسم کے سے تحفظ بیکٹیریا کرتے. پسند اور یوں یہ جسم میں داخل ہونے والے نئے خطرناک بیکٹیریا کو جسم سے مار بھگاتے ہیں۔ لہٰذا پروبایوٹکس نہ صرف طبی بلکہ غذائیت کے لحاظ سے بھی موثر ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آج کل پروبایوٹکس بیکٹیریا زراعت کے شعبے میں پودوں میں مالا ودوں میں مہالا کی عا م مہاوا کیمیتئی مizدد

19 ویں صدی کے آغاز میں metchnkoff نامی سائنسدان نے بتایا تھا کہ پروبایوٹکس دراصل انسانی جسم میں موجدوا انہتیائید ساب اب سائنسدان ایک سے زائد اقسام کے بیکٹیریا (پروبایوٹکس) کی تعداد اور صلاحیت کو بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ انسانی جسم کے صرف قوت مدافعت بڑھانے بلکہ بیماریوں کے خلاف موثر ہتھیار کے بھی استعمال ہوئے ہیں.

یہ بات سائنسی شواہد سے ثابت ہے کے ہزاروں قسم کے بیکٹیریا نارمل فلورا کہ اربوں کی میں ہوتے لحاظ سے نظام ہاضمہ میں مختلف نامیاتی و غیر نامیاتی اجزاء کا نصف ہوتے ہیں نہ صرف بلکہ ان بیکٹیریا کی تعداد جسم کی تشکیل کرنے والے خلیات ٹشوز کی تعداد کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہوتے ہیں۔

ایک اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ نظام ہاضمہ سے متصل یہ نارمل فلورا جن میں بیکٹیریا دونوں بڑی جماعتوں یعنی gram constructive اور gram damaging گروپ کے Firmicutes bacter Bacteroides فیملی کے بیکٹیریا شامل ہیں. ایک خاص تناسب میں موجود ہوتے ہیں جو کہ کے رہتے ہیں .مثلا bifidobacteria نامی بیکٹیریا کی تعداد خصوصا شیرخوار بچوں میں زیادہ ہوتے ہیں, مگر ساتھ بوڑھے لوگوں بہت کم جس سے ان کی قوت مدافعت اثرانداز کہ تناسب میں کمی کی وجہ سے مل جاتا ہے وہ انسانی استعمال دیگر ضروری ادویات کے انتہائی موثر اقدام ثابت ہوتا ہے۔

پروبایوٹکس بیکٹیریا کی اس قدر اہمیت افادیت سے دنیا کئی سائنسدان اپنی تحقیق کا دائرہ وھیع کرورہے ا الع بع رورہے ہیں اور وت لع جن بیکٹیریا کو پروبایوٹکس کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ، ان Lactobacilli, Pediococcus, Bifidobacteria, Lactococcus, Saccharomyces اوا Streptococcus ہوغیر ور Streptococcus ور ان میں کئی قسم کے بیکٹیریا مختلف قسم کے انزائمز اور میں bacterial, peptides وغیرہ شامل ہیں ، ان کا خفرا مب اا م مب یلب لب خلب یلب خ مب یاا جو تورف

حالیہ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے نارمل فلورا کے میں تبدیلی ذیابیطس اور موٹاپے کی بیماری وجہ بن سکتی ہے اور اسی سائنسدان اب ذیابیطس کے کے لیے ایسے بیکٹیریا پر تجربات کررہے ہیں جو کہ آنتوں کے ہارمونز کو modulate رکھتے ہیں. اسی طرح موٹاپے کے علاج کے لیے کئی پرو بایوٹکس بیکٹیریا جن میں Lactobacilli اور Bifidobacteria شامل ہیں ، ان ہیں اارے امیں ےاکی کی

sachromyces boutardii نامی پروبایوٹکس جرثومہ نہ صرف آنتوں کی سوزش کو ختم کرنے میں مدد ہے بلکہ یہ جمدومہ ۔اکد ک مد ک. یہاں بھی ان پروبایوٹکس کو addition کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ Lactobacilli نامی پروبایوٹکس بیکٹیر یا میں colorectal most cancers کو دبانے کی صلاحیت موجود ہے

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ انسانی جسم میں موجود نارمل کے تناسب میں کمی انسان کے کو متاثر کریتی اا کہ بود لع لو ل ل رتی ہےاںب ث بیم ب اس طرح پروبایوٹکس بیکٹیریا کے تناسب میں تبدیلی مدافعتی نظام یا بیماری تک محدود نہیں بلکہ اس کا گہرا اثر انسانی مرکزی اعصابی نظام (central nervous system) پر بھی ہوتا ہے اور اس لیے آج کل ایک سائنسی اصطلاح ” gut-brain axis ” کا جملہ استعمال کیا جاتا ہے, جس میں آنت دماغ کے درمیان ایک مواصلاتی رابطہ قائم ہوتا کہ دماغی نشوونما کے انتہائی ضروری پروبایوٹکس کے تناسب سے اس مواصلاتی ہوتا جس اور بڑوں میں دماغی کمزوری اور نفسیاتی پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے. حال ہی میں ہونے والی سائنسی تحقیق میں سائنسدانوں نے ” autism spectrum dysfunction ” کا شکار ہونے والے بچوں میں Lactobacillus planitarum نامی بیکٹیریا کا روزانہ Complement طور پر استعمال کروانے سے ان کے اسکول ریکارڈ اور کھانے پینے کی طرف سے ان کے رویئے بہتری پائی گئی۔

اسی طرح Bifidobacterium bifidus جو کہ Aminobutyric acid نامی Neurotransmitter کا اخراج کرتا ہے انسانوں میں ہونے والے اضطراب اور افسردگی کروت کمک

پروبایوٹکس کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ سائنسدانوں کے ایک گروہ سے lactobacilli نامی پروبایوٹکس بیکٹیریا کو خلا ء بازوں میں ان قوت مدافعت کو بڑھانے کے لیے استعمال کے تجربات کئے ہیں. دراصل خلاء میں low gravity یعنی کشش تقل کی کمی یا نہ ہونے کی وجہ سے خلابازوں کی صحت پر خاصا اثر پڑتا ہے۔ مثلا ان کی ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں, حس کم اور ساتھ ہی آنتوں کے بیکٹیریا تناسب میں خاصی تبدیلی کمی آجاتی ہے, میں ڈپریشن آتی جب ان مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں.

لہٰذا ناساکے سائنسدانوں کے گروہ نے Lactobacillus acidophilus نامی بیکٹیریا کی کم کشش ثقل میں Develop کرینے کی ص حلمم و خائل زل حیل و خالابا ل س س ر د اس مقصد کے لیے سائنسدان ان پروبایوٹکس کو خلابازوں کی خوراک میں شامل کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ پروبایوٹکس بیکٹیریا انسانوں اور جانوروں کی آنتوں کے علاوہ کئی اجزاء مثلاً ڈیلی پروٹیان (ہےدہی ، پنیر) میں موتود میں موتود ی آج کل پروبایوٹکس دوائوں کی صورت میں بھی دستیاب ہے جب کہ مند غذا اور صحت مند طرززنااا اہیںا جسم رد مرد مرد مرد رب

نیز یہ کہ انسانی جسم میں پروبایوٹکس بیکٹیریا کے تناسب کو قائم رکھنے لیے کچھ کیمیائی اجزاء کا بھی استعمال کیا جاتا ہے جن کو پرو بایوٹکس کہا جاتا ہے. پروبایوٹکس کی افادیت کے پیش نظر یہ کہنا درست ہوگا کہ اس شعبے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے ت تاکہ پروبایود سن یےنو نس لد



About admin

Check Also

حیاتیاتی ارتقاء اور انسانی آنکھ

ڈاکٹر فراز معین اسسٹنٹ پروفیسر،پروٹیومکس سینٹر،جامعہ کراچیحیاتیاتی ارتقاء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published.