زندگی بھر کی کامیابی کیلئے بچوں کی شخصیت کو لچکدار بنائیں

لامحالہ, بچے ہر آئے دن کسی بڑے پروجیکٹ کے بارے فکرمند ہوں گے, زندگی میں بہت مواقع پر ان کا دل گا, انھیں بہت سے نقصانات سامنا بھی ہوسکتا ہے, وہ ناکامی کا تجربہ کریں اکثر, ہماری والدین والی جبلت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اپنے بچوں کو ان ناخوشگوار جذبات سے یا انھیں ان تجربات سے دور رکھیں تاکہ وہ محفوظ رہیں۔ اس رویہ کے پسِ پردہ پیار ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ان کی زندگی میں مختلف مواقع پر پیدا ہونے تناؤ اور تکلیف کا سامکا کرسنے سے بچ کرسنے سے بچ تاہم ، ہم ان مشکلات کا سامنے کرنے اور انھیں حل کرنے کے لیے مہارتیں سکھا کر اپنی کا درست اظہےار ضرور کرسک اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کی شخصیت میں لچک (resilience) پیدا کریں۔

تناؤ ، مشکل ، المیہ ، صدمے یا پریشانیوں سے نکلنے کی صلاحیت کو لچک کہا جاتاہے۔ جب بچے لچکدار ہوتے ہیں تو وہ زیادہ بہادر ، زیادہ متجسس ، زیادہ موافقت اور اپنی اصل شخصیت کے ساےاتھ لوگون ساد بل لوےون ت سن تمام بچے غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں اور تمام بچوں کی شخصیت میں لچک پروان چڑھائی جاسکتی ہے۔

زندگی بھر کی کامیابی کیلئے بچوں کی شخصیت کو لچکدار بنائیں

لچک اور تناؤ

انسانی دماغ کا ایک حصہ ہر وقت ممکنہ طور پر سامنے آنے والے خطرات پر نظر ہے اور دماغ کے سکا) م) ک اس حصے کو انگریزی میں Amygdala یعنی بادامیہ کہاجاتا ہے ، کیونکہ یہ لگ بھگ بادام کی شکل اور حجم کے برابر ہوتا ہے۔ دماغ کا یہ حصہ ہمارے تحفظ کے لیے ہمارے فطری اور تیز رفتار ردعمل کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ تناؤ اور مشکلات کے وقت یہ ہمارے جسم کو چوکس کرتا ہے کہ آیا لڑنا ہے ، جانے ہے یا پھر منجمد رویہ اپن ۔وکس ک

تناؤ ، دماغ کے کنٹرول سینٹر’پری فرنٹل کورٹیکس ‘کو عارضی طور پر بند کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ دماغ کا یہ حصہ توجہ ، مسئلہ کو حل کرنے ، جذباتی ضابطے اور اندرونی تحریک کو ضابطے میں رکھنے میں شغ مشغول رہتا بعض اوقات ، شدید دباؤ کے لمحات میں ہمیں بادامیہ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ صوہرتِ حال جائزہ لفیصئے ۔ال جائزہ لفیصہ کا ائزہ لفیصور فیصر من سبہ بن

مثال کے طور پر, اگر ایک سانپ آپ کے پاؤں ہو تو اس وقت گوگل کرنے وقت نہیں ہوتا کہ آپ کریں, بلکہ ایسے میں آپ جسم کو اپنی حفاظت سے ردعمل دینے کی ضرورت اس کے برعکس, کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جب ہمیں بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہمارے کا کنٹرول سینٹر ، بادامیہ پُرسکون رکھے تاکہ ہم استعم۔ال کرتے ہوئے اپنا ظاظر کر ب ب

تحمل اسی طرح پیدا ہوتا ہے۔ جب ہم لچک کو پروان چڑھاتے ہیں تو پری فرنٹل کورٹیکس ہمارے مشکل صورتِ حال میں سکنھھلنے ، ا ں ق ب

لچک اور رویہ

بچوں میں لچک کے مختلف درجے اور دباؤ کے اوقات میںردِعمل دینے اور ان سے نکلنے کے مختلف طریقے ہوتے ہیں۔ تمام رویے ایک ابلاغ (کمیونی کیشن) ہوتا ہے اور ہمارے بچوں عمل ہمیں اس بات کا اشارہ دتپم کہ اا ا ان ن تور د تم کہ آیا ان کی ن تور ہ

جب بچوں میں نظم و نسق پیدا نہیں کیا جاتا تو وہ جذباتی ، دستبردار ، منحرف ، ناراض یا خفا ہوسکتے ہیں۔ ہم بچوں کے رویوں پر گہری نظر رکھ کر ہی ان ایسا ماحول پیدا کرسکتے ہیں ، جہاں کی شخصیت کے مطابق الیکھد مہابق ان امنظ مابر ان ہود مکابر م

لچک کا نمونہ

تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ بچے کی زندگی میں کم از کم ایک قابل اعتماد اور معاون کی موجودگی ، ان میں لچک پیاا ہرنےت کے یے جب کوئی بچہ پریشان, ناراض, مایوس یا خوف محسوس کرتا تو جس طرح وہ اپنے ” محفوظ شخص ” کو دیکھتا ہے کہ وہ اس مسئلے بارے میں کیا ہے اور اس سے لائحہ مزید برآں, بچے کے ساتھ روزانہ کم ازکم 5 سے 10 منٹ توجہ کے ساتھ رابطہ قائم رکھنے سے انھیں تحفظ کا ہوتا ہے اور جب وہ مشکل وقت کا سامنا ہیں تو وہ آسانی سے رہنم ئی حراےل نم ئی حتحل

جذبات سے متعلق سکھانا

یہ ممکن ہے کہ تناؤ یا غیر پسندیدہ جذبات کے اثر آکر بچے اپنے بادامیہ کو غیر اور پُٹرسکون رکھتے ہہرسکون کھیوٹم ہےوٹ وذم لےوذ وٹ وذم لےوٹ ن سن سر سر ن سن سر وم لےوٹم ٹیکوٹ ذن سن سر سر اس کی وجہ یہ ہے کہ بادامیہ پیشگی الرٹ رہتا ہے اور پری فرنٹل کورٹیکس ابھی ابتدائی پیشرفت کے مرحلے میں ہوتا ہے۔

بچوں کو جذبات کی پہچان کرواکر انھیں ان کے قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔ جب انھیں یہ سمجھ آئے گی تمام جذبات اہم ہوتے ہیں تو وہ ان کی قدر شروع کردیں گے اور لائحہ عمل جو ان ثمیں نظم زنآگےبگی ع.

غلطیاں تسلیم کرنا

0 اس طرح کی سوچ تناؤ بڑھانے کا باعث بنتی ہے اور بچے خطرات کا سامنے کرنے سے کتراتے ہیں۔ جب ہم ان کو یہ بتائیں گے کہ ہر طرح غلطی ایک نارمل چیز ہے (چاہے ان کی ہو یا چاہے ہماری) ےئی اآز کے عد ا اس کے بہآزد وہ نتےر در

بچوں سے رائے لیں

جب ہم اپنے بچوں سے ان کی رائے مانگتے ہیں یا ان سے مدد مانگتے ہیں وہ خود کو طاقتور ا۔ور اہم محسوس کرتے ہیں محسوس کرتے حمحسوس کرتے ہیں ان طریقوں سے ، وہ اپنی خواہشات ، ضرورتوں اور خیالات کا اظہار اوربات چیت کرنے کی مشق بھی کرسکتے ہیں۔

صحت مندانہ خطرہ مول لینا

صحت مندانہ خطرہ مول لینے کا مقصد بچوں کو ان آرام آرام دائرے سے باہر نکال کر عہیںمل میںم گاا مم کاو ل کرمو گ او ظل رموج صاوصل گرمویں او ل گرمواب ج او ب سر ت ب نئے کھیل کھیلنا ، اسکول پلے میں کردار ادا کرنا یا اپنے کسی سینئر سے گفتگو کا آغاز کرنا ؛ بچوں کے لیے یہ ساری چیزیں نئی ​​ہوتی ہیں ، جنھیں کرنے سے پہل وہ گھبراتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ان سرگرمیوں حا موں ا ہ ہ

مسائل حل کرنا

بجائے اس کے کہ ہم بچوں کو سیکھائیں کہ وہ کیا سوچیں ، ہمیں ان کو یہ سیکھانا چاہیے کہ وہ کیسے سوچیں۔ مثال کے طور پر بچوں کو دن بھر جن مسائل کا سامنا رہا ، سے متعلق سوالات کرنا ان میں مسائل حن ۔پروحی کی ص ن کرنتے کی ن کرنتے کی جب بچوں کے سامنے ان کے مسائل پر بات کی جاتی ہے تو انھیں ان مسائل سوچنے اور انھیں حل کرنے کے طریقے آتے ہیں۔ اس سلسلے میں بچوں سے یہ سوالات پوچھے جاسکتے ہیں: آپ نے کیا سیکھا ؟، آپ نے آج ایسا کیا کیا جس کے لیے آپ اا چا ا س کا ؟و س کیا کوئی اور طریقہ ہے جس سے آپ یہ مسئلہ حل کرسکیں؟ کیا ہم اس مسئلے کو ایک نئے زاویہ یا نقطہ نظر سے دیکھ سکتے ہیں؟

لچک اور تحمل ہماری زندگیوں میں دباؤ کو پیدا کرنے سے نہیں روکتے لیکن یہ ہمیں مشکل سے خوش صصلوبی سے ن رت ر س ن رتے ر لچک ہمیں خود کو جاننے ، حدود کا تعین کرنے اور خود سے پیار کرنے کا طریقہ سکھاتی ہے۔ جب ہم ہر طرح کے جذبات اور صورت حال (خوشگوار یا ناخوشگوار) میں خود سے پیار کرتے ہیں, ہم تبھی جاکر ویسا بن پاتے جیسا ہمیں ہونا چاہیے اور یقینا دنیا کو ایسے شخص کی ضرورت ہے.



About admin

Check Also

بچوں کی پرورش اور دنیا کے امیر ترین افراد

’امیر افراد میری اور آپ کی طرح نہیں ہوتے‘، یہ بات ایک صدی قبل امریکی …

Leave a Reply

Your email address will not be published.