حکومت اور اپوزیشن کو ایک میز پر آنا ہوگا

کرونا وائرس کی شدت اور رمضان سے سینٹ اسمبلی کے اجلاس التواء کا شکار جس کی وجہ سے دارالحکومت اسلام آ سیا سی گہما کے برا بر الیکشن 249 کے نتائج نے قومی سیا ست میں ضرور ارتعاش کی کیفیت پیدا کردی ہےبالخصوص پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ آمنے سامنے آگئی ہیں۔ استعفوں کے معاملہ پر پیداہونے والی تلخی کو مسلم لیگ ن کے شہباز شریف کم کرنے کی ککاوشش کر رہے دہیباوشش کیر رہے دہبارہ کیر رہے دہبارہ نر رہے دوبارہ نونو رل

الیکشن کمیشن نے سر کاری نتائج روک کر دوبارہ درخواست کی سماعت کا درست فیصلہ مسلم لیگ ن نہیں ہارنے والی تمام عمل کے حلقہ پر تناظر میں اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کی پیش کش کردی اعظم کا موقف ہے کہ کم ٹرن آئوٹ کے با کے شور کا واحد حل الیکٹرانک ووٹنگ

انہوں نے اپوزیشن کو پیش کش کی ہے کہ کے ساتھ بیٹھے اور ای وی ماڈل کا انتخاب .وزیر نے انتخابی عمل جس عزم کا اسلئے بھی اعتراضات کئے گئے .اب بھی اپوزیشن 2018 کے انتخابی نتائج کی بنیاد پر ہی نئے الیکشن کا مطالبہ کر رہی ہے. کراچی سے پہلے ڈسکہ کے انتخابات کالعدم قرار دینا پڑے تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ نظام ہی ناقص ہے۔

انتخابی عمل کی ساکھ اب ختم ہوچکی ہے۔کراچی کے ضمنی میں ٹرن اوور کی وجہ کرونا اور رمضاان علاوہ یہ بھیااٹھ ع ب ت تر

جس طرح انتخابی نتائج کو مسترد کیا جا ر ہا اس سے تو یہ الیکشن اب مذاق بن گیا ہے.الیکشن کمیشن کی بھی متاثر ہوئی میں تو یذ شہر کے حلقہ میں نتائج 11 گھنٹے کے بعد آ نا اور فارم 45 پر پر یذ ائیڈنگ افسروں کا دستخط نہ کرنا باعث تشویش بات الیکٹرانگ ووٹنگ مشین سے انتخابی عمل کی اصلاح نہیں ئےگی۔ الیکشن کمیشن کے انتظامی اور مالی اختیارات کو بڑھایا جا ئے۔ الیکشن کمیشن کو مکمل خود مختاری دی جا ئے ۔نئی سخت ایس بنائی جا ئیں جس میں پر یذ سمیات اجتخائےی حعمالہ ک

اس کی وجہ یہ ہے کہ انتخابی عملہ کا تعلق صو بائی سے ہوتا ہے جن پر بہر حال صو بائی حکویمت اثر ہا ہ ہ پریذ ائیڈنگ افسر کو ہر گز یہ اختیار نہیں کہ وہ فارم 45 پر دستخط سے انکار کرے یا نتائج کی ترسیل میں تاخیر کرے۔ پر یذ ائیڈنگ افسر کے ر یٹرننگ افسر کے دفتر میں تاخیر تو ہوسکتی ہے لیکن گنتی ہونے کے فوری بعد فارم بعد میں ریزلٹ بھی جلد تیار ہوسکے.الیکٹرانگ ووٹنگ مشین کے استعمال میں یہ پہلو بھی پیش نظر جا ئے کہ ہمارے ملک میں کم ہےبالخصوص دیہی علاقوں کا استعمال شایدہی قابل شہری حلقوں میں ماڈل کو جا سکتا ہے

اس میں بھی سافٹ ویئر کی اور میں .اب تک ضمنی انتخابات میں جو زیادہ تر انتظامی کی مداخلت ہو وہاں کی انتظامیہ کو کمیشن کے براہ راست احکامات کا پابند کر دیاجا ئے.مسلم ن تو وزیر اعظم کی انتخابی اصلاحات پیش کش کو فوری طور ٹھکرادیا ہے لیکن یہ رویہ بھی مثبت اور نہیں ہے۔

پہلے اپوزیشن یہ اعتراض کرتی رہی ہے کہ وزیر اعظم زیشن سے بات نہیں کرتے اب اگر انہوں چیل کیلئے پہل کی ہے اپو زیشن انتخابی نظام کی اصلاح کیلئے اپنی تجاویز دے۔ حکومت اپنا منصوبہ سامنے لائے اور اتفاق رائے سے اور قابل قبول راستہ اپنایا جا اس کی یہ ہے اگا ی م ہ انتخابی قوانین میں تبدیلی کیلئے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے اگر اپوزیشن لچک مظاہرہ چچ ک گی ۔ازیاچاہئے گی زیااچ ر ر گی تو حکو ن ن رور طرو ر ل رر

اپوزیشن کا حال یہ ہے کہ وہ منقسم ہوچکی ہے.مسلم لیگ ن اور یو آئی ف کو یہ علم تھا کہ پیپلز پارٹی سے کسی صورت استعفے نہیں دے گی پیپلز پارٹی سندھ حکومت کسی صورت چھوڑنے کو تیار نہیں لھذا یہ مطالبہ کرکے پی ڈی ایم کو اپنے ہاتھوں توڑا گیا۔ شہباز شریف کے جیل سے باہر آنے کے بعد ن لیگ کی پالیسی تبدیل ہوئی ہے۔ م سے شین تو نہیں نکلی مگر اب م کی بجا ئے ش کی پالیسی چلے گی۔ اب ا فہام و تفہیم جارحیت پر غالب آ ئے گی۔ مولا نا فضل الرحمن اور شہباز شریف کے درمیان یہ اتفاق رائے ہوچکا کہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کو اپیا ڈی ی م سیں اپوزیشن اتحاد میں پھوٹ عمران خان کیلئے باعث نعمت تھی لیکن وہ اس صورتحال سے کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھا سکے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی اپنی جماعت میں نیا دھڑا بن گیا ہے۔ جہانگیر خان ترین کے ہم خیال گروپ کے 33 ممبران قو می و صو بائی اسمبلی نے وزیر اعظم سے ملاقات کیً تا ھیبکہ عمل اسد عمر ‘شاہ محمود قریشی’ اکبر اور اعظم بھی کچن کابینہ کا حصہ ہیں نے ملتان میں وزیر کی میں نام لئے کی اس پر و. مسکراہٹ معنی تھی. اسدعمر نے یہ بیان دے کر سنسنی پھیلا دی کہ وزیر توڑ سکتے ہیں ۔جب اپوزیشن نے مطالبہ کیا تھا توا ایا پا تن کہ عوا اا ن ن عوا

ہم پانچ سال پورے کریں گے۔ اب کیوں یہ کہنے کی نوبت آئی کہ وزیر اعظم اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں۔ اس بیان نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ سیا سی حلقے سوچ رہے ہیں کہ کیا ب ایک پیچ والی بات ختم ہوگئی ہے۔ کیا یہ بات درست ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے یہ پالیسی کی کہ ہم حکومت کے خلاف کچھ کریں گے لیکن بچائیں گے نہیں اگر و ے ا بو ات ب حمزہ شہباز شریف خا موشی سے ممبران اسمبلی سے رابطوں میں مصروف ہیں انہیں گرین سگنل کا انتظا رہے۔



About admin

Check Also

کیا مشکل معاشی فیصلوں کا نقصان ’’ن لیگ‘‘ کو ہوگا؟

اس حقیقت کے باوجود کہ اپوزیشن کی جانب سے بڑے بڑے عوامی اجتماعات ٗ جلسے …

Leave a Reply

Your email address will not be published.