حسرت موہانی: پیمانِ وفا سے وابستگی

شعر و ادب, صحافت اور سیاست کے مرد میدان, حسرت موہانی 13 مئی 1951 جبکہ اپنی زندگی میں بہت کم توجہ پانے والے شاعر مجیدامجد ہوئے, ذیل حسرت موہانی مجید امجد کے سے خصوصی مضامین نذر قارئین.

مولانا حسرت موہانی ہماری ادبی و سیاسی تاریخ کی روزگار اور عدیم النظیر شخصیت تھے.وہ بیک شعرو ادب, صحافت اور کے تین میدانوں کے تھے.ان تینوں مرتسم کیے جو ان کی پہچان قرار پائے.شاعری میں انہوں نے لیے نئے ایک جداگانہ کیا اور اپنی غزل کو ڈاکٹر عبداللہ کے بقول شباب زمانہ ٔجوشِ کے جذبات سے زوالِ شباب کے جذبوں کی سے متکھمیز کیا۔ڈا: لل ہب ت ل تد ب

” حسرت نے ارباب دہلی داخلیت اور لکھنو کی خارجیت کو ملا کر اپنا ایک رنگ پیدا ہے جس میں شورش عشق کا تموج بھی ہے اور حسن کا طوفان رنگ بھی.میر کا کر غم انبساط بن گیا تھا, نسیم دہلوی تک پہنچتے پہنچتے رنگین نگاری سے موسوم ہوا ، اور تک آتے آتے اس نے شگفتہ نگاری کا نام پایا ”۔

روزگار ِعیش کی یادوں ، جوش ِآرزو کے وفور ، اور ساتھ ایک سیلِ امید نے ان شاکعری کاو ایک یسا ااب ا ییم ال ن ور ر ر ر

عالم آوارگاں ہے اک جہاں سب سے الگ

ہے زمیں ان کی ، اور ان کا آسماں سب سے الگ

حسرت ایک آزاد منش انسان تھے اور ‘آزادی’ان کی زندگی کا اسم اعظم تھا.وہ لگے بندھے اور استوار راستوں چلنے کے بجائے نئے راستے اور نئی منزلیں تراشنے قائل تھے.انہوں نے اپنی سے تخلیق کیا تھا.یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں سچائی اور خلوص کا جوہر اس قدر نمایاں ہے۔

حسرت کا شعرو ادب کے ساتھ غیر تعلق تھا.باوجود کے انہوں نے ایک پرہنگام سیاسی کے گوناگوں تقاضوں کو کیا, انہوں نے ادب خدمت اسی کا ادب تقاضا کرتا .بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ و قرطاس کے ایک سیاست کے دشت میں اترنا اس ادبی صلاحیتوں کے کا بن جاتا مگر حسرت کے عبدالحق بالکل درست کہتے ہیں:

” مولانا حسرت ایسے ادیب جنہوں نے اول سے تک میں شور بور ہونے کے دامن کو نہ چھوڑا اور انہوں نے سیاست برپا کرکے کی بے نظیر پیش طرح انہوں نے اپنے افکار و خیالات سے شعر کا درجہ بلند کردیا ”.

حسرت نے بیسویں صدی کے اوائل میں صحافت کا آغازکیا۔ اس سے قبل, انیسویں صدی میں اردو صحافت ابتداخالص ادبی موضوعات کرنے کے بعد سرسید احمد خان دور تک پہنچتے پہنچتے تہذیبی تمدنی موضوعات اور معاشرتی مسائل تک اپنادائرہ وسیع کرچکی

حسرت موہانی نے جب صحافت کے میں قدم کچھ تو طبع اور کچھ بدلے ہوئے حالات سبب وہ اپنی کو سے لاتعلق رکھ سکتے تھے.آزاد تھی.وہ اپنی پوری زندگی میں طرح مصالحت پسندی اورلچک سے دور اور کے پلیٹ فارم سے کانگریس کے لیگ کے پلیٹ مسلم لیگ کہہ سکتا. کہ کی غلامی کو ایک ثانیے کے لیے بھی قبول کرسکتے تھے۔

غلامی سے نفرت ان کے یہاں شدت جاتی کوئی مصلحت ان کو اس غلامی وقتی طور پر بھی کرلینے پر آمادہ نہیں تھی.اس سلسلے میں وہ الاعلان میانہ رو مطابق ‘نرم دل’_ کا حریف اور ریڈیکل عناصریا’ گرم دل ‘کا ہم رکاب قرار دیتے تھے۔ ذہن کی اس بغاوت آمادگی اور طبیعت کے اس انقلابی کے ساتھ یہ ممکن ہی نہ تھا کہ صحافت کے میدان میں رکھتے اور اس سے آراستہ طور کا میدان, وادی پرخار تھا یا نے خود چاہا کہ یہ ان کے پرخار بنے, کہ میں صحافت کے پر جو افتاد گزرے وہ ان کی اپنی طلب ، اور ان کے اپنے انتخابِ حق کا حاصل تھا۔

حسرت کو ایک صحافی کی حیثیت سے جن آزمائشوں ہونا پڑا, جس طرح ذاتی اٹھانا پڑی اور مالی نقصانات روحانی اذیتوں کے جیسے وہ گزرے, ہی صحافیوں کے حصے اور اخبارات کے ذخیرے کو آگ گئی, جیل جسمانی تشدد بنایا گیا, ا ن پر عینک استعمال کرنے کی پابندی کی دوران ِاسیری کے والد کا بھی حسرت تک نہ پہنچ ، جیل میں ان کو چکی پیسنے کی مشقری ب بشاشت کرنی رداشت کرنی رداشت کرنی پڑیرداشت کرنی پڑی

یہ سب مصائب ان کے ارادوں کو مضمحل اور ان کے ایمان کو کمزور کرنے ناکام رہے, بلکہ اسیری کے نے ہمیشہ ان کے کو صیقل بلکہ قید و بند شگفتگی تک کو مجروح نہیں ہونے دیا.ان کا غرور عشق بانکپن تازہ رہا.پہلی بار جیل سے رہا کے بعد جب حسرت از سر نو اردوئے اشاعت کا ارادہ کیا تو ان کے اور بہی خواہوں نے ان کو یہ مشورہ دیا کہ اب ان کو سیاست کنارہ کش ہوجانا چاہیے یا پھر اس ڈگر چلنے کا فیصلہ کرلینا جس پر کانگریس گروہ گامزن کے مسلک کو بھی واضح کرتا ہے اور کسی بھی دور کے اخبار نویسوں کے لیے باضمیر صحافت کا معیار بھی فراہم کرتا ہے۔

.حسرت نے بیسویں صدی کے اوائل میں اس وقت اپنے جریدے اردوئے حریت فکر اور آزادی پرچم بلند کیا جب ہندوستان کے تر ذہن بھی کے بہم کردہ دائرہ عمل میں رہتے ہوئے چند مراعات اور تدریج حاصل ہونے والی رعایتوں کے حصول سے آگے سوچنے پر آمادہ نہیں تھے۔ ان رعایتوں کے حصول کے لیے ہندوستان کے لبرل عمائدین کی شکل میں انگلستان کا رخ اپنی عرضداشیں پیش کرتے اور بہم ہوجاتا وہ حاصل بقیہ مطالبات کو آئندہ کے لیے اٹھا رکھنے واپس

حسرت موہانی کی شوریدہ سرطبیعت استعمار اور حب وطن کے درمیان کرسکتی جس پر ایک جانب استعماری بیوروکریسی تعلیمی پالیسیوں کے پیدا ہونے والی نئی اشرافیہ حسرت اپنا سے اٹھا تھا جو انگریزی استبداد کا نہیں تھا بلکہ استبداد کو ہندوستان کے اتلاف کا کی چیرہ دستیوں کا کامل ادراک اور ان سے مکمل نجات کے علاوہ اور کوئی راستہ کے نزدیک ہندوستان کے مفاد میں حسرت کا ہتھیار تھا صحافت ان کی جدوجہد سب سے اگلا مورچہ.اس محاذ نے ایک عمر داد شجاعت دی.

شاعری اور صحافت کی طرح حسرت کی سیاست بھی طرز فکر, کے و سیاسی حالات کے بارے ان کے تجزیے, ان استعمار دشمنی, ساتھ محکم اظہار حق کی جرأت قول و فعل کی یکجائی کے حوالے سے اپنی ایک منفرد ہے.الغرض حسر ت موہانی کی اصابتِ نظر اور پیمانِ وفا وابستگی نقوش ہمیشہ تابندہ رہیں گے اور نسلیں سے استفادہ کریں



About admin

Check Also

ادب، قومی طرزِ احساس اور جشنِ الماسی

ہم آج جس دنیا اور جس زمانے میں جی رہے ہیں، اُن دونوں کی صورتِ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *