بےاختیار سیکرٹریٹ عوامی نمائندگی پوری کرسکے گا؟

پی ٹی آئی این اے 249 کراچی میں الیکشن تو بری ہے, لیکن اس کی گونج پورے سنائی دے رہی ہے ملتان میں جہاں وزیرخارجہ محمود قریشی مسلسل کئی اور جہانگیرترین پر تابڑ توڑ لفظی حملے کررہے ہیں, وہاں کراچی ضمنی انتخاب کے نتیجہ میں دفاعی پوزیشن اخیتار کرنے پر مجبور کردیا سید یوسف رضا گیلانی این اے 249 میں تحریک انصاف کی عبرت ناک کو اس کی ناقص کارکردگی اور بے کا شاخسانہ قرار دیتے رہے, اس حوالے سے مخدوم جاوید ہاشمی بھی پیچھے نہ رہے.

انہوں نے تحریک انصاف پر شدید تنقید کی اور یہ اس بات کا واضح اظہار کہ پورے ملک کے عوام جہاں جہاں بھی ضمنی تحریک انصاف مسترد, جو عوام, کیونکہ انصاف نااہل حکومت پاکستان میں کبھی نہیں آئی, جس نے عوام منہ سے آخری نوالہ تک چھین ، دوسری طرف شاہ محمود قریشی عمران خان کی آمد جوشیلےانداز میں جہانگیر ترین کا نام لئے بغیر کررہے

وہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیدیوسف رضا یہاں سے وزیراعظم بننے کا موقع جنوبی پنجاب کو نہ بنا سکے عمران خان ہے اور جلد ہی جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ جائےگا, ان کی اس بات کا رضا نے جواب اس طرح کہ لولے لنگڑے سیکرٹریٹ سے خودمختار کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت پیپلزپارٹی ہی جلد یا بدیر پوری کرے گی۔

یوں دیکھا جائے, تو گیلانی اور قریشی خاندان کے مخدوم ایک دوسرے کے خلاف طعن نشتر چلارہے ہیں یہ ثابت کرنا ملتان کا وہ ہے, جو عملی اقدامات کے عوام کی ہے, جہاں انصاف کی مقبولیت کا تعلق ہے اس کا بھانڈہ کے الیکشن میں چکا ہے , پہلے نمبر پر چلی گئی اور اتنا بڑا جھٹکا تھا کہ جسے عمران کئے سکے اور انہیں یہ تسلیم کرنا تقسیم اور کابینہ انتخاب کے, حقیقت یہ ہے کہ انصاف کی مقبولیت تقریبا ہرجگہ سکٹر رہی ہے.

اس کی ایک وجہ تو حکومت کی معاشی ناکامیاں دوسری بڑی وجہ پارٹی کے حد درجہ بڑھتی ہوئی محاذ آرائی ہے, خود میں حالات اس خراب ہیں کہ گروپ رکھ دیا ہے, اس اظہار اس وقت بھی ہوا, جب وزیراعظم عمران خان سیکرٹریٹ اور دیگر منصوبوں کا افتتاح ملتان آئے ، محمود قریشی گروپ اور پارٹی دار جو ہمیشہ تحریک انصاف کے لئے ہراوال دسگیتے کا کیردا ن د یکرد ردار ان سن رت

خود ملتان ڈویژن کے صدر اعجازحسین جنجوعہ نے وزیراعظم کے بعد سوشل میڈیا پر کر اس بات کا اگرپارٹی بچانا ہے, تو گروپ بندی سے کرنا پڑے گا, اگرپارٹی اس کا حال انتخابات میں کراچی جیسے ضمنی انتخاب رزلٹ, لیکن فی الوقت توجہ دینے کو کوئی طور پر شاہ قریشی آج شامل ہونے والے ہم خیال اسمبلی کو اس قدر تنقید کا بنائیں تو یا پھر جہانگیر ترین کو چھوڑ پارٹی میں رہیں اس بات کرچکے ہیں, جب انہوں نے تھا کہ آدھا تیتر, آدھا بٹیر والا معاملہ نہیں چل سکتا.

پی ٹی آئی کے حلقے اس پر حیران کہ شاہ یہ کس قسم کا کھیل, کھیل ہیں, اگر جہانگیر کے ساتھی پارٹی کے بغاوت کردیتے ہیں, تو تحریک حکومت سے محروم ہوجاتی ہے اس وقت پارٹی کو متحدکرنے کی بجائے اس میں انتشار ہوا ہوا کی پالیسی شاہ محمود قریشی لئے اور کس کے ایماء کئے ہوئے ہیں ، یہ بات عمران بھی سوچنے کی ہے۔

اگرچہ انہوں نے جہانگیر ترین گروپ ارکان کی کچھ معاملات بھی طے پائے بعد جس طرح نشانہ بنایا حملے کرتے. ، اس سے خود وزیراعظم عمران خان کو بھی دفاعی پوزیشن اختیار کرنا انہوں نے ایک باااپھر اضح ردیا د م ردیا ن اکم کردیا ن رد رد

انہوں نے یہ بھی کہہ دیاکہ ڈاکٹر رضوان احمد سیکنڈل کی تحقیقات کررہے ہیں اور کا ساتھ دیں الوقت جہانگیر ترین سے ایک حوالے سے کوئی بات نہیں کررہے یہ محمود ہم خیال ارکان اسمبلی کو وہ مسلسل یہ رہے ہیں واپس آجائیں. پھر کا اعلان کریں۔

جہاں تک پنجاب کے معاملات کا ہے خان پنجاب عثمان بزدار کے خلاف کوئی نہیں ، پارٹی بعض لوگ بنانا وزیراعظم. ہیں عمران خان اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور انہوں ملتان میںعثمان بزدار کی تعریف کی اور دلائل بھی دیتے رہے کی ملتان میں کی پر سابق گورنر پنجاب رجوانہ نے ایک دلچسپ تبصرہ کیا.

انہوں نے کہا کہ شہبازشریف اور بزدار کا ہی ہے دلچسپ لطیفہ سنارہا ہو, جہاں تک شاہ قریشی کا تعلق, وہ معاملہ میں وزیراعظم عمران خان ملتان میں عثمان بزدار کی کے باوجود ان کے لئے کوئی تعریفی جملہ نہیں کہا, اس کا مطلب کہ وہ عثمان بزدار کو اپنی راہ کی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔



About admin

Check Also

کیا مشکل معاشی فیصلوں کا نقصان ’’ن لیگ‘‘ کو ہوگا؟

اس حقیقت کے باوجود کہ اپوزیشن کی جانب سے بڑے بڑے عوامی اجتماعات ٗ جلسے …

Leave a Reply

Your email address will not be published.