برصغیر کے واحد نوبیل انعام یافتہ بنگالی ادیب ” رابندر ناتھ ٹیگور ”

برصغیر سے عالمی ادب میں سب سے معروف شخصیت کا نام”رابندر ناتھ ٹیگور ” ہے۔ 1913 میں ادب کا نوبیل انعام حاصل کرنے والے ٹیگور ہندوستان نہیں بلکہ ایشیا سے بھی پہلی شخصیت تھے ، ججنہیںا اُس وقت دینہیں اُس وقت دینہیں اُس وقت دینہیں 1915 میں ان کو برطانوی سرکار طرف سے بھی دیا گیا تھا ، جس کو انہوں نے قتل میں واپس کر دیا۔ ہندوستان کی کئی جامعات سمیت اوکسفرڈ یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی۔ آپ کو”انسانیت کا شاعر ” اور ” بنگالی زبان کا شیکسپیئر ” بھی کہا جاتا ہے۔

رابندر ناتھ ٹیگور بنگالی زبان کے قدآور شاعر ، ادیب ، موسیقار ، فلسفی اور مصور تھے۔ آپ کی پیدائش کا سال 1861 ہے ، جبکہ وفات کا برس 1941 ہے۔ آپ کے خاندان کا شمار کلکتے کی اشرافیہ میں ہوتا تھا ، آپ کے دادا اور والد نے کی سماجی ترقی میں عماجی ۔ور پر حصہ آپ نے ابتدائی تعلیم کلکتے میں ہی حاصل کی ، جبکہ کی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے 1878 میں انگ متمو۔د ااوا لستان گئےاوا لن ست رد خود کو حقیقی معنوں میں دریافت کیا اور پھر وقت نے بھی ثابت کیا کہ وہ کتنے بیدار مغز تھے۔

1901 میں بولپورکے مقام پر”شانتی نکتین ” نامی علمی مرکز کی بنیاد رکھی ، جہاں مشرقی و مغربیم عیلوم ، ب ست ت ت د 1921 میں اس ادارے کو یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہوگیا۔ انہوں نے پوری دنیا کے شعر ادب سے پڑھا, تمدن کو سمجھتے ہوئے بنگالی میں, اپنی تخلیقات کو میں ڈھالا, مذہب, اور ان باریک بینی سے لکھا عوامی طور پر سہل تشریحات کیں, ان کو ایک روحانی گرو کے طور پر بھی تسلیم کیا گیا ۔ ان کی شادی ہوئی, جب بیوی اور دو بچوں کی ناگہانی موت ہوئی, اس کے بعد سے, ان کی ذات میں بہت بدلائو ذہنی اور قلبی طور پر بہت تبدیل انہوں نے بطور موسیقار بے شمار دھنیں بھی ترتیب دیں اور مصوری بھی کی.

وہ انگریزوں سے ہندوستان کی آزادی حق مگر ہندوستان حق میں نہیں تھے ، ان خیال میں ، مذہب کے انساناوں اوا توور ست دی. ابتدائی طور پر ایسے خیالات رکھنے کی وجہ سے ، ان کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ، لیکن محبت کا پیغام دیتے ر ہندوستان کی تقسیم کے بعد ، بھارت نے اپنے قومی ترانے میں ان کی کے کچھ مصرعے ششامل کیے ، جبےکہ بنگالہ د ن تر عر نیش ب بنگالہ دیش نے تر ٹیگور نے امریکا ، روس ، چین ، جاپان اور کئی اہم یورپی ممالک کے دورے کیے اور وہاں خطبات دیے۔ دنیاکی کئی بڑی شخصیات سے ان کے ذاتی مراسم تھے ، جن میں معروف سائنسدان آئن اسٹائن بھی شامل ہیں۔

عمر کے آخری حصہ میں انہیں ، لاطینی امریکا کے ملک ، ارجنٹائن کی ایک اہم شاعرہ”وکٹوریہ اوکمپو ” سے محبت بھی ہوئی ۔۔ بھی ہوئی ۔۔ ان کے اس رومانوی پہلو کے حوالے سے بھارتی گریز ہیں, البتہ ارجنٹائن میں ان کے اس شخصی پر ایک فلم”آسکنگ ٹو ہم ” بنائی گئی, جو 2018 میں ریلیز ہوئی, اس میں بھارت کے معروف بنگالی اداکار”وکٹربنرجی ” نے ٹیگور کی شخصیت سے انصاف کرتے ہوئے ، شاندار اداکاری کی ہے۔ معروف بنگالی فلم ساز”ستیا جیت رے ” بھی ان کے مداح تھے ، انہوں نے بھی ان کی زندگی پپر ایک دئیکتاویزی ییم تن اکتاویزی فیم تن نوجوانی میں ٹیگور نے تھیٹرکے ناٹکوں کے لیے اداکاری بھی کی ، لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر قائم نہ رہا۔

رابندر ناتھ ٹیگور نے قلمی دنیا میں بے شمار کام کیا۔ ان کی پہلی کتاب جب شائع ہوئی ، تو ان کی عمر صرف 17 سال تھی۔ ان کی شاعری کے چھ مجموعہ ہیں ، جن میں ” گیتا نجلی ” وہ شہرت یافتہ شعری مجموعہ ہے ، جس پر انہیں اا۔ا ع ع ا داب نا۔بیل کا نا ع 1914 1985 میں ایک اوراردو ترجمہ عزیز احمد جلیلی نے بھی کیا تھا۔ ٹیگور نے اسٹیج کے لیے سات ناٹک لکھے, دو حصوں یادداشتیں قلم بند کیں, جبکہ درجنوں مختصر کہانیاں اور لکھے, جبکہ کل تیرہ ناول بھی تحریر جن میں ان کا سب سے مشہور ناول”گورا ” ہے., جس کے مختلف ناشرین سے چھپے ہوئے 50 مختلف ایڈیشنز تو تحقیق کے ذریعے میرے علم ہیں۔کسی ایک ہی ناول کومختلف ناشرین سے شائع ہ ونے ا ا ھی

ناول“ورا ” کو ان کی دیگر تخلیقات کی طرح بہت پذیرائی ملی۔ یہ ناول 1910 کو بنگالی زبان میں شائع ہوا تھا۔ یہ ان کا سب سے طویل اور ضخیم ناول ہے۔ 1962 میں معروف ترقی پسند ہندوستانی ادیب”سجاد ظہیر ” نے ٹیگور کے اس ناول”گورا ” کا ترجمہ اردو زبان میں کیا تھا, کو ساہتیہ اکادمی, انڈیا نے شائع کیا جس کا دوسرا ایڈیشن 1981 میں چھپا. ان کی شاعری ، افسانوں اور ناولوں کے تراجم دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں ان کی کتابوں کے اردو تراجم میں عبدالمجید سالک اور عبدالعزیز خالد کے نام سرفہرست ہیں۔

ٹیگور برصغیر پاک و ہند کے واحد ادیب ہیں ، جن کی سب سے زیادہ فلمیں اور ڈرامے ب۔نائے گئے اخل م عہہد سے ن کیور ہم نے ان کے اسی متذکرہ ناول“ورا ” پر 1938 میں بننے والی بنگالی فلم کا انتخاب کیا ہے۔ اس فلم کے ہدایت کار”نریش مترا ” تھے ، جبکہ فلم میں انہوں نے بحیثیت اداکار بھی کام کیا۔ فلم کی موسیقی مشہور بنگالی موسیقار”قاضی نذر الاسلام ” نے دی تھی۔ اس وقت کے بنگالی اداکاروں نے اس میں کام کیا ، جبکہ اس فلم کی ٹیم میں اکثریت ہنرمندوں کی تھی ، و خا ت تفم و خا موش تفم

یہ فلم یوٹیوب پر دو حصوں میں دستیاب ہے ، جس دیکھ دیکھ اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان بالخصوص بنگالی ۔اواوص یم م یکور الم م م م م م لسم سرد عرد ان کو یہ بھی اندازہ تھاکہ مغرب تک اپنی فکر کو کیسے پہنچانا اسی لیے اُس وقت بھی فلم بنایشیت بھی فلم بنایشیتے ہہ اد ان ریزی سب ٹل د نگریزی سب ٹل ،د ان یزیریزی سب ٹل د نگریزی ممل

کسی بھی تہذیب اور ثقافت میں کس طرح اپنی ممتاز شخصیت کو دنیا کے سامنے ہے, رابندر ناتھ ٹیگور شخصیت پر بننے دیکھ کر کیسے کاری ہے, اس کو شعوری کوشش کے تحت, جس طرح ٹیگور نے کرکے دکھایا, وہ اپنی مثال آپ پھر ان کے بعد آنے والوں نے بھی ان کی پیروری کی۔

آج تک ان کی کہانیوں پر فلمیں بن رہی ہیں۔ 2020 میں نیٹ فلیکس پر ان کی سات مختلف کہانیوں بنائی گئی ویب سیریز کو پیش کیا گیا جبکہ کے ناول پر بنائی گئی پہلی ” بالی دان”تھی, جس کو 1927 میں نمائش کے لیے پیش گیا تھا اور یہ ایک خاموش فلم تھی.



About admin

Check Also

قوم اور قومیت کے تصورات اور سر سید احمد خان

سرسید کے حوالے سے عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ متحدہ ہندوستانی …

Leave a Reply

Your email address will not be published.