اکیسویں صدی میں ڈیٹا سائنس کی اہمیت

اکیسویں صدی میں ڈیٹا کی بھرمار آپ کا خیر مقدم کرتی ہے۔ لوگوں کی حرکات و سکنات یا پسند نا پسند کا ڈیٹا کہیں مرتب ہورہا ہوتا ہے اور کا نتیجہ موبائل, کمپیوٹر یا ٹاپ پر کسی نہ کسی صورت ہمارے سامنے آتا دفاتر میں بھی ایسا لگتا ہے کہ آپ ڈیٹا کے سمندر میں غوطے کھارہے ہیں اور ڈوبنے لگے ہیں۔

اس کے علاوہ ہر سیکنڈ میں ہزاروں کی تعداد میں ٹوئٹس ، انسٹاگرام پر فوٹو پوسٹ ، فیاس پر نئی و اس پر نئی و سی تل ی سی تیل ہر سیکنڈ میں 50 ہزار سے زائد گیگا بائٹس انٹرنیٹ ٹریفک استعمال ہوتا ہے۔ ہر سیکنڈ میںگوگل پر کی جانے والی سرچز اور یوٹیوب پر دیکھی جانے والی ویڈیوز کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ دنیا میں کل ویب سائٹس کی تعداد دو ارب کے قریب ہے ، جس میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔۔

عالمی ڈیٹا اسٹور کرنے کی صلاحیت

سائنسدانوں نے اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ انسان دنیا میں موجود شم۔ار اطلاعات کو کاکد س ت ترسٹو ر ‘سائنس’ جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اندازہ ظاہر کیا گیا تھا کہ 2020 ء تک دنیا بھوھ احیا ا وٹر کے اا سینٹر میں اا سینٹر مٹ اا سینٹر مص جنوبی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے سائنسدان ڈاکٹر مارٹن ہلبرٹ کے مطابق ہم آج تمام اطلاعات لے کر انہیں میں جمع کریں تو ان کتابوں انبارامریکا یا چین کے رقبے کے برابر تک جائے گا.

کمپیوٹر میں انفارمیشن جمع کرنے کی پیمائش روایتی طور پر کلو بائٹس میگا بائٹس اور گیگا بائٹس میں کی جاتی رہی ہے, بائٹس, پیٹا بائٹس اور ایکسا بائٹس بھی ایک ایکسا بائٹ ایک بلین گیگا بائٹس کے برابر ہے. تحقیق کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر معلومات سی ڈیز پر کی جائیں تو سی ڈیز کا انبار چاند سے بھی اوپر پہنچ جائے گا ۔نچ جائے گا۔

ویب سائٹس پر صارفین کا ڈیٹا

فیس بک ، گوگل ، ایمازون اور ٹوئٹر بھی صارفین کا ڈیٹا محفوظ کرتے ہیں اور یہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے معمول ک رہے ا ریقہ ا ٹوئٹر ، پن ٹریسٹ اور لنکڈ اِن کے انٹرنیٹ صفحات پر بھی لائیک اور بٹن موجود ہیں ، جبکہ گوگل کما اینالیٹکس س ت بمم ل الس نتبم ل انٹرنیٹ پر سماجی رابطے کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنیوں کی اکثریت صارفین کی معلومات کو اشتہاراا و اتہارات س چ تؤ کےعلات س چ تؤ کےعلات س چتتک کےعلات کے کے تؤ کےع

ڈیٹا کو سمجھنا

ڈیٹا سائنس ایک باقاعدہ تعلیمی مضمون کے طور پر ابھر سامنے آچکی ہے جیسا کہ ذکر کیا کہ ڈیٹا کے سمندر کھاتے انسان کو اسے اس کے نتائج کی روشنی میںکاروباری, معاشی اور ہوں ڈیٹا سائنس, ریاضی اور معاشیات کا مجموعہ ہے, جس کے اعداد وشمار کا تجزیہ کرنا ممکن ہوتا لائن معلومات کے بے بہاؤ کے باعث ، آنے میں ڈیٹا سائنس کا اہمیت کا حامل بن جائے گا۔

گوگل ‘ڈیٹا لی’ ایپ

گوگل کی اسمارٹ اور سادہ اینڈرائیڈ ایپ ڈیٹا لی (Datally) اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کو مچوبائل ڈیٹا و مچوبا یل ڈیٹا سمنر لد د بر موا ئل ڈیٹا سمجھنچت لدا سمجھنےر لد ڈیٹا لی دنیا بھر میں اسمارٹ فونز استعمال کرنے والوںکے اہم مسئلے یعنی ڈیٹا کے استعمال کو آسان بناتی ہے۔ گوگل نے دنیا بھر میں اسمارٹ فونز استعمال کرنے والوں کی کے بعددریافت کیا کہ اسمارٹ فلمارٹ کہوار لمارٹ ککو ل سم ب

یہ خصوصی طور پر آن لائن ہونے والی اس نئی نسل کا انتہائی اہم مسئلہ ہے جنہیں نیکسٹ بلین یوزرز (subsequent ا billion customers) کہا جت اسمارٹ فون استعمال کرنے والے یہ نا کے بارے میں مسلسل فکر مندرہتے ہیں بات کو بھی نہیں سمجھ ان کا کہاںاور کیسے استعمال ہو نا کے لیے ڈیٹا کنٹرول رکھ سکتے ہیں, جن کی انہیں واقعی ضرورت تو ہے لیکن سمجھ نہیں.

بگ ڈیٹا

توقع کی جارہی ہے کہ بگ ڈیٹا کی دنیا 2025 ء تک حیرت انگیزطور پر 163 پیٹا بائٹس یعنی 163 ٹریلین گیگا بائٹس تک پہنچ جائے گی۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک زیٹا بائٹ کتنی بڑی ہے؟ اس کا اندازہ یوں لگالیں کہ ایک زیٹا بائٹ میں تقریباً2ارب سال کی موسیقی ذخیرہ ہوسکتی ہے۔ بِگ ڈیٹا کو لاگو کرنے کے لئے بہت سارے تصورات اور نظریات ، تاہم بگ ڈیٹا پر کام اور تجزیہ بھی عام طلور موہے راور پر بتق خوش قسمتی سے ، جس شرح پر ڈیٹا ٹیکنالوجی آگے بڑھ رہی ہے ، ان مشکلات کو اگلے سال میں کم کیا جاسکتا ہے۔

اسی لئے مزید کاروباری شعبے مستقبل کی کامیابی کیلئے بِگ ڈیٹا کو اپنانے کے منصوبے وضع کررہے ہیں۔ ٹیلی کام اور آئی ٹی انڈسٹری سمیت دنیا بھر کے طبقے کو ڈیٹا سائنسدان چاہئیں جو بِگ کے حاوالے س ان کیا آ ے ن ب



About admin

Check Also

بچوں کی پرورش اور دنیا کے امیر ترین افراد

’امیر افراد میری اور آپ کی طرح نہیں ہوتے‘، یہ بات ایک صدی قبل امریکی …

Leave a Reply

Your email address will not be published.