اپنی تنقیدی و منطقی سوچ بڑھائیں

انسان کو حیوانوں پر ناقدانہ و بصیرت افروز سوچ اور شعور و ادراک کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے۔ اس کی بدولت وہ مسائل کا حل غور وخوض ، تفکر اور حکمت عملی نکالتے ہوئےاپنی دانش مطقدی کا ااااہےیے اسی ناقدانہ اور منفرد انداز سے سوچنے کی ص لاحیت کے باعث وہ تمام انواع کے مابین اشرف المخ خلوقات د درجے پ درجے پ در درجے

اسی آزاد اور منفرد سوچ سے و پھوٹتے اہمیت دورانِ تعلیم سوا ہوجاتی ہے سے ہی نئی و اختراعااتت الوں کے تنیے قدشالوں کے تنیے قدشالوں ر ی

ناقدانہ سوچ کا استعمال دانش مندی سے چیزوں کے تصور, جائزے, تجزیے اور حقیقت کے روپ میں لانے کا عمل ہے جس میں تجربہ اور نتائج اہم کردار ادا کرتے حاصل معلومات کی روشنی میں ہمارا ناقد ذہن منطقی اقدام کے ذریعے متعین کردہ نتیجے پر پہنچتا ہے ، جس کے چھ مراحل ہیں۔

1۔علم ومعلومات (information)

2۔فہم و ادراک اور جامعیت (understanding)

3۔اطلاق (utility)

4۔تجزیہ (analyze)

5۔ترکیب و تالیف (synthesis)

6۔عمل درآمد (motion)

ان چھ مراحل سے گزر کر ہی ایجاد و ٹیکنالوجی اور فلسفیانہ ناقدانہ علوم کی شاخیں افبھرتی ہیں۔ ہیں۔اقد باث اا د پو م فے یوں بصیرت افروز سوچ کے باعث ہی ہم نےخیالات کے سلسلے انفرادی سوچ سے آگے بڑھایاہے ، وگرنہ کی م

ط ھی

علم و معلومات

ہر ایک مسئلے پر واضح سوچ ، اس کو حل کرنے کا راستہ نکالتی ہے۔ یہ مرحلہ ، حل کیے جانے والے مسئلے یادلیل کو شناخت کرنے کا پہلا قدم ہے۔ مسئلے کی گہری سمجھ بوجھ کے لیے اس کے بارے میں سوالات اٹھانے معاملات میں پتہ چلگیا ہےئیا درصل کئی د ص ک ک اس طرح پہلے مرحلے میں ہی بات ختم ہوجاتی ہے اور آگے بڑھنے یا سوچنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔

اس مرحلے پر کھلے ذہن سے سوالات کرنے چاہئیں تاکہ اس بارے میں تبادلہ خیال کرتے ہاوئے مسئلے کے ج ائےاادی چ ا نیادی ہ اس مرحلے پر دو مرکزی سوالات اٹھانے چاہئیںکہ مسئلہ ہے کیا اور اسے حل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

فہم و ادراک اور جامعیت

ایک بار جب مسئلے کی شناخت ہوجائے تو دوسرا مرحلہ سے وابستہ حقائق اور صورت حال سمجھنے کا ہوتا ہے.اس کے ہم اس مسئلے کے بارے تمام دستیاب معلومات اکٹھی مدت تک اسے حل کرتے

اطلاق

یہ مرحلہ پچھلے مرحلے کا تسلسل ہے ، جس میں ہم مسئلے سے و ذرائع کے مابین تعلق کو دیکھتے کےم صتلک حقا ئق کیمکم ل حقا ئق کیمجھم اس سلسلے میں صورت حال کا جائزہ لینے اور معلومات و مابین مسئلے کی اصل وجہ ڈھطونڈنے ہم ذہمذہن سیجےازی دوے لے ا کی معت تر

تجزیہ

ایک بار جب اصل مسئلے کی تمام معلومات اوروجوہات جمع ہوجاتی ہیں تو ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس میں مسئلے کے مضبوط اور کمزور دونوں ہی مسئلے کے حل میں درپیش چیلنجز رکھا جاتہے۔چاصال وجوہ کی۔ اااا

ترکیب و تالیف

جب ساری معلومات اکٹھی ہوجاتی ہیں اورمتعلقہ معلومات پر غور خوض کیا جاچکا ہوتا ہے تواس امر پر کیا جاتا ہے کہ کو کیسے حل کیا جائے اور کیا حکمت عملی اپنانی اگر کئی مسائل درپیش ہیں تو پہلےسب سے آسان حل تک پہنچنے کی ترکیب سازی کی جائے.

اس قسم کی تالیف سازی کے لیے SWOT اینالیسز سب سے مؤثر طریقہ مانا جاتا ہے ، جس تحت مئئا الے کے



About admin

Check Also

مطالعہ کا ذوق – کامیابی کی کنجی

ہر کوئی کتاب کا مطالعہ کرنا چاہتا ہے لیکن مطالعہ کو عادت بنانے کے لیے …

Leave a Reply

Your email address will not be published.