آئرن مین ”رابرٹ ڈائونی جونیئر” کی کہانی

اگر مارویل کی اوینجرز سیریز میں سے آئرن مین کے کردار کو الگ جائے تو کیا آپ پھر بھی اتنی ہی رغبت سے یہ سیریز دیکھیں گے؟ غالباً ایسا سوچنا بھی محال ہے، اوینجرز سیریز میں بھلے ہی تیس مار خان سپر ہیروز کی بھرما ر ہوجائے، تک ٹونی اسٹارک میں بلکہ اضطراب میں رہتے ہیں۔ ٹونی اسٹارک کہنے کو تو آئرن مین ہے لیکن جب انسانیت کو کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ جاتاہے اور پھر اپنی ، سرمایہ اور اپنی جان تک دنیا کو بچانے نچھاور کردیتا ہے۔ حالیہ دنوں میں تہلکہ مچانے والی فلم اوینجرز گیم’میں آئرن مین کی زندگی کا دی اینڈ (خاتمہ) ہوگیا لیکن اس کردار کو والے رابرٹ ڈائونی جونیئر آمدنی میں اب بھی اضافہ جاری گر ہونے والی اوینجرز سیریز کی بائیسویں فلم نے دنیا بھر میں بزنس کے کئی ریکارڈ توڑکر نئے ریکارڈ بناڈالے۔ امید کی جارہی ہے کہ ‘ایواٹار’ کی 2,78ارب ڈالرلائف ٹائم آمدنی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اوینجرز اینڈ گیم 3بلین ڈالر کمانے والی تاریخ کی پہلی فلم ہونے کا ریکارڈ بنالے گی۔ اس فلم میں جہاں دوسرے ہیروز ایک لگا بندھا معاوضہ طلب کرتے ہیں، ڈائونی جونیئر فلم کے معاوضے کے ساتھ ساتھ اس کے منافع میں بھی حصہ دار ہیں۔ اس فلم سے رابرٹ 75ملین ڈالر کام کرنے کا معاوضہ اور31ملین ڈالر فلم کا منافع حاصل کر چکے ہیں یعنی 100ملین ڈالرز سے زائد کی خطیر رقم ان کے اکائونٹ میں منتقل ہو چکی ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ پردہ سیمیں اس بیٹھے ریل پیل شروع ہوگئی، اگرآپ رابرٹ مقدر سے لڑائی واقعات جانیں ہے مشکلات کے دریا پار یہاں تک پہنچا ہے۔

فوربز میگزین کے مطابق ہالی ووڈ میں سالانہ سب سے زیادہ کمائی کے پر زیادہ عرصہ براجمان رہنے والے رابرڈ ڈائونی جونیئر کی نشیب و فراز سے بھر پور رہی ٹونی اسٹارک کے نام سے پہچان بنانے والے رابرٹ ڈائونی جونیئر کے رابرٹ ڈائونی بھی ہالی ووڈ کے ایک معروف تھے جبکہ ان کی والد ہ بھی اداکاری کیا کرتی تھیں۔ 1965ء میں دنیا میں آنکھ کھولنے والے رابرٹ نے 4سال کی عمر میں اپنے والد کی فلم میں پہلی بار کیمرے کا سامنا کیا۔ جب وہ آٹھ سال کے ہوئے تو رابرٹ کے والد نے انہیں نشے کی لت لگادی دونوں باپ بیٹا نشے کی دلدل میں ڈوبنے لگے۔

آئرن مین ''رابرٹ ڈائونی جونیئر'' کی کہانی

1996ء سے 2001ء کے دوران رابرٹ نشے میں غرق رہنے کے باعث کئی گرفتار ہوئے اور پروڈیوسرز نے انہیں اپنی فلموں میں کاسٹ کرنےسے بھی انکار کردیا۔ جب انہیں فلمیں ملنا بند ہوگئیں تو ایسے میں پرانے میل گبسن نے اور 2003ء میں ایک فلم پروڈکشن کمپنی کو دی کہ اگر رابرٹ کے دوران گرفتار کیا گیا تو کی میل گبسن کی)۔

اسی لمحے نے رابرٹ ڈائونی جونیئر کی زندگی بدل دی اور انہیں چھوٹی موٹی فلمیں ملنا شروع جس کے ذریعے وہ کامیاب بھی ہونے لگے۔ 2008ء میں جب آئرن مین ریلیز ہوئی تو ان کا شمار دنیا کے پسندیدہ ترین اور مہنگے ترین اداکاروں میں ہونے لگا۔ 2012ء سے 2015ء تک وہ نہ صرف سب سے زیادہ کمائی کرنے والے بلکہ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے اداکار بھی بن گئے۔

2008ء میں ٹائم میگزین نے ان کا نام دنیا کی 100متاثر کن شخصیات میں شامل کیا۔ شمالی امریکا میں ان کی فلمیں5,3ارب ڈالر اور دنیابھر میں 12,9ارب ڈالر سے زائد کی مجموعی کمائی کرچکی ہیں۔

1993ء میں چیپلن نامی فلم سے وہ آسکر کیلئے بہترین اداکار کی نامزدگی جبکہ اسی فلم سے بافٹا کے بہترین اداکار کا ایوارڈ جیت چکےہیں۔ 1994ء کی فلم شارٹ کٹس اور ہومز سے وہ گولڈن گلوب ایوارڈ، سے کڈز چوائس ٹی وی بےشمار نامزدگیاں حاصل کرچکے

ویسے تو کئی فلمیں رابرٹ جونیئر کی اداکارانہ صلاحیتوں کا ہیں، مگر انھیں لائم لائٹ والی فلموں میں اوینجرز آئرن کے علاوہ ٹاپک تھنڈر تھنڈر (2009ء)، ویئرڈ سائنس (1985ء)، زوڈیئک (2007)، ڈیو (2011ء)، لیس دین زیرو (1987ء)، اونلی یو (1994ء)، شیف (2014ء)، گوتھیکا (2003ء)، نیچرل بورن کلرز (1994ء)، دی سولوئسٹ (2009ء)، ہارٹ اینڈ سولز(1993ء) اور دیگر شامل ہیں. جنوری 2020ء میں ان کی فینٹیسی کامیڈی فلم ‘ دا ووئج آف ڈاکٹر ڈ و لٹل’ (Die Reise des Doktors Dolittle)ریلیز ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ 2021ء کے لیے ان کی مشہور زمانہ فلم ” شرلاک ہومز” کی تیسری فلم کو ریلیز کرنے پر کام جاری ہے۔



About admin

Check Also

’میکال ذوالفقار‘ باصلاحیت ماڈل و اداکار

پاکستان شوبز انڈسٹری کے چارمنگ بوائے میکال ذوالفقار نے کیریئر کا آغاز ماڈلنگ سے کیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published.