ہسپانوی زبان کے معروف ادیب ” ہوزے پابلو فینمین ”

لاطینی امریکی ممالک میں ” ارجنٹائن ” ایک اہم ترین ملک ہے۔ جنوبی امریکا کے بالکل آخری حصے پر واقع اس ملک کی ثقافت بشمول ادب خاصا زرخیز ہے۔ اس کے پڑوسی ممالک میں بولیویا ، پیراگوئے ، چلی اور یوروگوئے شامل ہیں۔ اس ملک کی قومی زبان ہسپانوی ہے۔ رقبے کے لحاظ سے لاطینی امریکی ممالک میں برازیل کے بعد یہ دوسرا اور دنیا میں آٹھواں بڑا ملک ہے۔ فٹبال کے معروف کھلاڑیوں”میراڈونا ” اور ” میسی ” کے حوالے سے یہ ملک پوری دنیا میں پہچانا جاتا لیکن ان سے بھی ایک بڑا حوالہ”چی گویرا ” کا ہے, جو معروف کمیونسٹ اور انقلابی جنگجو تھے, ان کی پیدائش بھی ارجنٹائن کی ہے۔ موجودہ دور میں اس ملک کی ایک معروف ” ہوزے پابلو فینمین”کا تعلق بھی ارجنٹائن سے ہے, جو ایک ادیب ہونے علاوہ ڈرامانگار, فلم نویس, فلسفی اور ٹیلی وژن کی حیثیت سے مقبول ہیں.

” ہوزے پابلو فینمین ” کی پیدائش کا سال 1943 ہے ، ضعیف العمری میںبھی وہ متحرک اور لکھنے پڑھنے کا کام کرتے ہیں۔ اوائل جوانی میں, ان کا ملک جب سیاسی تبدیلیوں سے گزر رہا اور 70 کی دہائی میں ” پیرون ازم ” کی تحریک اپنے زوروں پر تھی, تو نے اس تحریک جو کسی حد تک پرتشدد پہلو بھی رکھتی تھی, مگر آگے چل کروہ پرتشدد نظریات کی سیاست کے مخالف ہوگئے۔ 0 ان کے تخلیقی کاموں ، تحریروں اور گفتگو میں ان کے نظریات کی جھلک واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔

ہسپانوی زبان کے معروف ادیب '' ہوزے پابلو فینمین ''

انہوں نے 70 کی دہائی میں ہی ادب تخلیق کرنے کی ابتدا کی۔ 1979 میں ان کے پہلے ” لاسٹ ڈیز آف دی وکٹم ” کی اشاعت ہوئی ، جبکہ ان کا اب تک آخری ناول 2009 میں”کارٹرایانڈ ویتنئم ” ع وہ تقریباً 14 ناول لکھ چکے ہیں ، جن کو ادبی و سیاسی حلقوںمیں بے حد پذیرائی حاصل ہے۔ ویسے تو ان کے نظریات بائیں بازو کی حمایت میں ہیں کسی حد تک وہ اپنے مذہبی میں ” اگنوسٹک ” یعنی ” لاادری ” نظریات کے حامل ہیں, لیکن ان کی اکثر محسوس ہوتا ہے کہ وہ دوسری عالمی جنگ اور نازیوں کے معاملے میں کسی حد تک جانبدار ہیں ، اس کی ایک مثال 2005 میں شائع ہونے والا ، ان کا ناول”ہائیڈیگرز شیڈو ” ہے۔ اس ناول کو یوں تو تاریخی ناول کہا جاتا ہے, اس مصنف نے معروف جرمن فلسفی”مارٹن ہائیڈیگر ” اور فرانسیسی فلسفی و ادیب”جان پال سارتر ” سمیت ایڈولف ہٹلر پر بھی تنقید کی ہے. یہ ناول متنازعہ مگر دلچسپ ہے ، جس طرح مصنف نے حقیقت اور تخیل ملاکر ایک مخصوص نظریے کو کامیا ہےریقے سے پیش کی ان کے ناولوں کے تراجم جرمن ، اطالوی ، فرانسیسی اور ڈچ زبانوں میں بھی شائع ہوچکے ہیں۔

ارجنٹائن کے اس معروف ادیب اور فلسفی نے ناول نگاری کے علاوہ ، ڈراما نگاری اور مختصر کہا نویسی ب۔ کی 14 فیچر اور دستاویزی فلموں کے لیے اسکرپٹس لکھے۔ ادبی و فلسفی مضامین اور تحریریں ان سب کے علاوہ ہیں ، جو مختلف اخبارات میں شائع ہوتی ہیں۔ ٹیلی وژن اسکرین پر بطور میزبان بھی دکھائی دیتے ہیں طویل عرصے سے ایک ٹاک شو”فلاسفی ہیئر اینڈ نہیں بو ” کی مہےب ان ان کا شمار ایسے ادیبوں میں ہوتا ہے ، جنہوں نے کا استعمال سیاسی مقاصد کے یفاوغ کے یے اویہیر ڈھییانے سیاس ن یویہی یب و ید رد اویہید سجہاسی ن

” ہوزے پابلو فینمین ” کے سب سے پہلے اور مقبول ناول”لاسٹ ڈیز آف دی وکٹم ” سترکی دہائی کے آخری بہاووں میں شئع میں شئع میں ئع اس ناول کی کہانی کا مرکزی کردار ایک پیشہ ور اور اُجرتی قاتل ہے ، جو سلسلہ وار قتل متعہےد وارداتوں میں متوث ہاتوں میں ملوث ہاتوں میں ملوث ہاتوں میں ملوث ہاتوں میں ملوث ہاتوں میں متوث ہ اس ناول پربننے والی فلم 1982 میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ فلم کے ہدایت کار”اڈولف آرسٹرین ” تھے ، انہوں نے ناول نگار کے ساتھ مل کر فلم کا اسکرپٹ لکھا۔ فلم کو بے حد مقبولیت حاصل ہوئی اور اسے ارجنٹائن سینما میں کلاسیکی فلم کادرجہ حاصل ہے۔

ارجنٹائن کی طرف سے اس فلم کو 55 ویں اکادمی ایوارڈز میں بہترین غیر ملکی فلم کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔ فلم کے پروڈیوسر اور فلم ساز”ہکیٹر اولیور ” تھے, جن کی ارجنٹائن کی فلمی صنعت کے لیے کافی خدمات اور انہوں نے امریکا کی صنعت کے لیے بھی کی طرف سے کافی کو عالمی طور پر توجہ حاصل ہوئی. فلم کے مرکزی فنکاروں میں“رک لوپی ” اور”سولیڈیڈ سلویرا ” سمیت سب نے اپنی عمدہ اپداکاری سے دلم بینوں د دلم بینوں د د اسی ناول پر ایک فرانسیسی فلم ساز“برونو گینٹیلیون ” نے بھی 1995 میں اپنے ہاں ایک ٹیلی فلم بنائی تھی۔

ارجنٹائن کے سیاسی اور ادبی منظرنامے پر”ہوزے پابلو فینمین ” کی موجودگی اور فعالیت اس بات کا ثبوت ہے, آپ کے نظریات میں دم ادب کو سماج بہتری اور اپنے ملک استعمال کرنا جانتے ہیں تو پھر ایسے ناول اور کتابیں لکھ سکتے ہیں, جن سے معاشرے میں مثبت تبدیلی آئے۔ ” ہوزے پابلو فینمین ” کا تخلیق کردہ ادب”ادب برائے سماج ” کی روشن مثال ہے۔



About admin

Check Also

بانسری کی سُریلی سُہانی صدا

لیفٹنٹ کرنل ریٹائرڈعادل اختر مسلمان معاشروں میں علم اور شعور کی بہت کمی ہے جس …

Leave a Reply

Your email address will not be published.