کووڈ 19 کے بعد نظامِ تعلیم کو کیسے اپ گریڈ کیا جائے؟

کووِڈ19- کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے عالمی سطح پر عائد ڈاؤن کی انتہا پر ، 1,6 بلین (ایک ارب 60 کروڑ) بچے ےسھےب سر س اسھےول س یہ ایک حیرت انگیز تعداد ہے لیکن اگر نئے معمول مطابق ، احتیاطی تدابیر کو اختیار کرانے کے ہ وہ سم ہ اساتذہ ان کے چند ماہ کے نقصان کو اضافی محنت کے ذریعے پورا کرسکیں گے اور نتیجتاً کے طاویل مگدتی اثاااات کےکےو زائل کےکےو زال کےکےو زال

بدقسمتی سے ، سب بچوں کے لیے ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ اس بحران سے پہلے ہی ، 250 ملین (25 کروڑ بچے) اسکول سے باہر تھے اور اب بہت سے بچوں کی واپسی کا امکان نہیں ہے۔۔ والدین اپنے بچوں کو واپس اسکول بھیجنے میں خود دہ محسوس نہیں کرسکتے ، فیسوں کی بہت ہوسکتی ےاکیویے کوسکتی ے و ر وسکتی ی و ر ک کہ اور بہت سارے بچے جو اسکولوں کو لوٹیں گے ، وہ پہلے کی طرح کبھی نہیں سیکھ پائیں گے۔

آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ دنیا کے تقریباً نصف بچے ‘رہے تھے بچوں کے بنیادی اور خواندگی کے بکہا خدشہ ہے کہ ، اسکولوں کی بندش کا دورانیہ بڑھنے سے ناقص سیکھنے والے بچوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

ایسی صورتِ حال میں ، خاص طور پر انتہائی کمزور طبقات کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بج جانی چاہئیں۔ مغربی افریقا میں ایبولا کے پھیلنے سے اسکول سے باہر کی تعداد تقریبا تین گنا بڑھ کر eight سے 21 فیصد ہوگئی تھی, ان میں سے سی کم عمر مائیں بن جن کے اسکول واپس جانے کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا. اس وقت جبکہ دنیا کو ایک طویل معاشی بحران کا درپیش ہے ، خدشہ ہے کہ اس کے لیے بروقت اقداماات کی م وجہ ادود ہم نسل ترت

یہ ایک تاریک تصویر ہے لیکن اگر ہم ابھی کام کرتے ہیں اور اثر کے ساتھ ایک نیا انداز اپناتے ہیں تکو ہم ف۔ لا سا س نتائج پر مبنی پروگرام – جہاں نتائج کی بنیاد پر ادائیگیوں کو مختص کیا جاتا ہے ، دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہور اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر کی حکومتوں کو وسائل میں کمی کے ساتھ ساتھ معاشرتی چیلنجوں سے نمٹنے کےا ل ن موب سے نکتے ہوب

شعبہ تعلیم سے وابستہ آپ میں سے کئی افراد ان چیلنجز سے پہلے ہی بخوبی واقف ہوں گے۔ مسابقتی ترجیحات کا مطلب یہ ہے کہ حکومتیں اپنے تعلیمی نظام کو بہتر میں سرمایہ کاری کرنے کی وا ل وجد ر ر ر ہیںد ر مسئلہ یہ ہے کہ حکومتیں جب شعبہ اقدامات کرتی استعداد کی کمی کے باعث مطلوبہ نتائج حصول مشکل ہوتا ہے حکومتیں پہلے ہی تعلیم کی فراہمی کے نئے طریقے متعارف کرانے لیے استعداد اور بھی محدود ہوجاتی ہے.

ایک طرف جہاں, کووڈ19-جیسی عالمی وبا نے ہمارے انتہائی اداروں کی محدودیت کو نمایاں کیا ہے, وہاں یہ ممکن ہے کہ انھیں نئے اپنانے کے لیے حوصلہ وہ لمحہ کو اپنائیں اور اپنے پرانے ‘کمزور’ ٹریک ریکارڈ کو صاف کرتے ہوئے نئے سرے سے آغاز کریں۔

نتائج کی بنیاد پر وسائل کی فراہمی کے پروگرامز نے دنیا کے کئی ممالک میں معیاری نتائج دیے ہیں۔ یہی وقت ہے کہ معیاری تعلیم کی تلاش والے بچوں تک پہنچا جائےاور نئے تعلیمی نظافم کی کاامیابیوں کااامیابیوں ئےاو ی بڑھ بوی او آگے سن تے ورع بڑے پیمانے پر ماحولیاتی ، سماجی اور حکمرانی (ای ایس جی) میں موجودہ سرمایہ کاری 30 کھرب ڈالر ہے۔ اگر دنیا اس فنڈنگ ​​کا ایک حصہ بھی نتائج پر مبنی تعلیمی پروگراموں منتقل کر سکے تو اس سےم نہ صاوا اس سےم نہ صکدو اس سےم نہ صکدو انکہ تابدی لدو اس سےم نہ صکدو انز ​​تاب لدل لن تگیب لد ب

ایجوکیشن آؤٹ کمز فنڈ (ای او ایف) افریقا میں کام کرنے والا ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ اس ادارے نے ایک ایسا ماڈل تیار کیا ہے ، جو سرکاری اور نجی شعبے میں طویل مدتی اور اثر کی تائید کرت ہے۔ نتیجتاً دنیا بھر میں بچوں کے تعلیمی نتائج میں بہتری دیکھی جاتی ہے۔ یہ فنڈز کی فراہمی اور پروگراموں کا اندازہ کرنے کے لیے کے ذریعے مثبت اثرات حاصل کرنے کے

اثرات کی محدود تشخیص کے باعث سرمایہ فراہم کرنے والے افراد اور ادارے ، ایک خاص طرح کی سخت کے لیے ادئیگیےت نہیں ر ادئیگیےت نہیں اس کے بجائے ، وہ ان نتائج کی وضاحت کرتے ہیں ، جو وہ چاہتے ہیں اور پالیسیوں کے ذریعے نتئجائج کی ئ ہیں م ورسا

بچوں کو معیاری اور مؤثر تعلیم سے روشناس کرانے کی راہ میں آج کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمیں کوششیں نہیں کرنی چاہئیں۔ اس کے بجائے ، عالمی تعلیم کو موجودہ بحران سے نکالنے ساتھ آئیں یہ بھی سوچیں کہ اےے کے کسی بھی مکلاکے ن ن ب ممنہ ن ن ن اےسن در



About admin

Check Also

اِبن الہیثم، دنیا کا پہلا حقیقی سائنس دان

بطور طالب علم آپ نے ابو علی الحسن اِبن الہیثم کا نام ضرور سُنا ہوگا۔ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *