پنجاب میں پرائس کنڑول کمیٹیاں متحرک کیوں نہیں؟

صوبائی دارالحکومت لاہور میں شہریوں کو ناجائز منافع خوروں, کے رحم و کرم پر چھوڑ گیا, اشیائے زندگی, مرغی کے گوشت قیمتوں پر سرکاری ختم ہو چکا ہے میں بھی خود اضافہ ہو گیا لیکن وزیر اعلی عثمان بزدار اور صوبائی محکمے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ مہنگائی کا طوفان دو ماہ پہلے رمضان المبارک میں اور ابھی تک تھم نہیں سکا ، کہنا ہے کہ قیمتوں کے۔افےا سے سے سب سر سے

قیمتوں میں اضافہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شہر میں اور لاک ڈائون کی وجہ سے کاروباگببند اوال شہری بے ت ت ر شہری بے توزگر بے توزگر اس وقت شہریوں کو سب سے زیادہ آٹے ، چینی کے گوشت کے قیمتوں میں ناجائز کی وجہ سے سب سےزیادہ ہے ، روخ. ان اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کیسے ہوا قارئین کو بتانا ضروری ، اس وقت شہریوں کو سب سے زیادہ پمانی قیادہ پمانی قیاتوض مانی برئتور رانی برئتور مانی بئم تور مانی بئاتور برشتور موض برئتور میںانجہ بباتوض موض برئتور ماتوض بم توض بم توض بم توض برئ

برائلر مرغی کے گوشت کی قیمتیںرمضان المبارک کے دوران بڑھنا شروع گزشتہ ماہ کے وسط میں عید کے موقع پر قیمتیں عروج پر پہنچ گئیں, عید چھٹیوں کے دوران برائلر مرغی کا گوشت 450 کلو فروخت ہوگیا. مرغی کے بعد گائے کا گوشت 700 روپے کلو ، بکرے کا گوشت 1500 روپے کلو ہو گیا ، برائلر مرغی کا گوشت مجماو ا گوگت مجمواعی ہمووپےکل طمون پر 200 ون ر 200 اس تمام صورتحال میں حکومت کسی قسم کی مداخلت نہیں کر پرائس کنٹرول کمیٹیاں بھی متحرک نہیں ہی ضلعی انتظامیہ اس سلسلہ کوئی کام کررہی اور قیمتوں میں مسلسل چڑھائو جاری

مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد میڈیا پر مرغی کے گوشت کے خلاف زبردست شروع ہوگئی اور یہ پھیل گئی کہ وائرس کی جو ٹی وی چینلوں اور اخبارات میں بھی مرغی کے گوشت میں کورونا وائرس پھیلنے کا پراپیگنڈہ ہوا تو گوشت کی قیمتیں یکدم 130 روپے فی کلو گرگئیں۔

سوشل میڈیا میں مرغی کے گوشت میں کورونا وائرس پھیلنے پراپیگنڈہ کی وجہ سے مرغی کے گوشت کی بند ہو گئی.پاکستان پولٹری ایشن پنجاب زون کورونا وائرس فوری لاہور میں ملک گیر اجلاس طلب کیا جس میں اعلان کیا گیا کہ مرغیوں میں رانی کھیت کی بیماری پھیل گئی تھی۔

تاہم رانی کھیت کی بیماری انسانی کے نہیں ایشن کے چیئیرمین خلیل ستار سال کورونا اور کی صورتحال فارمرز نے. ڈالنے دئیے ، جن انڈوں سے چوزنے تھے سے کے انڈوں کے بھائو سستا مرغیوں کی صنعت لگی تھی کی گیا. اضافہ, رانی کھیت کی وجہ سے میں سوشل میں کورونا وائرس کے پھیلائو کے بحران کا شکار گئ, ہے, پولٹری ایسوسی ایشن کا اپنی جگہ لیکن بہر حال شہریوں کو سستا گوشت دستیاب ہو گیا ہے, شہری گزشتہ ڈیڑھ ماہ آٹے کی قیمتوں میں اضافے سے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

حکومت نے رواں سیزن میں گندم کی امدادی 1800 روپے من مقررکر دی تھی, چنانچہ گزشتہ ماہ فلور مل لاہور میں آٹے کا 20 تھیلا 1030 روپے اور 10 کلو تھیلا 515 روپے میں فروخت کرنے کا اعلان کر دیا, نئی قیمتوں کے بعد بازار میں 20 کلو 170 روپے مہنگا ہو گیا ہے ۔فلور مل ایسوسی ایشن پنجاب کے عاصم رضا احمد نے بتایا کہ ملوں کو سرکاری نرخوں کا کوٹہ فرہاا ا کوٹہ فر اد ن گیوٹہ پےراد رہی نھیوہ ب و ب ب وہ ب

ان دووجوہات کی بنا پر آٹے کے تھیلے کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ لاہور میں آٹے کے تھیلوں کی یومیہ کھپت 2 لاکھ, 35 ہزارہے اور حیران کن بات ہے کہ آٹے کی قلت کا قیمتوں میں اضافے کے فوری ہو گیا اور میں آٹے کی سپلائی نارمل ہو گئی, آٹے کی جانب سے روٹی کی قیمت میں 2 روپے اور نان کی قیمت میں three روپے اضافہ کر دیا گیا جس کے بعد روٹی کی قیمت eight روپے سے بڑھا کر 10 روپے اور نان کی قیمت 12 روپے سے بڑھا کہو ک ر 15 رو

پنجاب بھر میں چینی کی قلت کا بحران اور میں ناجائز اضافے کا سلسلہ جاری ہے, چینی کی قلت اور میں کا بحران اس وقت ہوا جب کین پنجاب نے بازار میں چینی کی سرکاری قیمت 85 روپے کلو مقرر کر دی, نوٹیفکیشن کے مطابق چینی کے ایکس مل ریٹ اور پرچون ریٹ 85 روپے کلو مقرر کئے گئے, شوگر مل مالکان سرکاری قیمتوں کو مسترد کر, صوبائی حکومت جھوٹے, طفل تسلیوں اور مصروف ہے جبکہ عملی طور کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا.



About admin

Check Also

مشکل فیصلوں کے بعد عوام کو ریلیف کب ملے گا؟

ملک اس وقت شدید مہنگائی کی لپیٹ  میں ہے گذشتہ چند ماہ میں مہنگائی میں 32 فیصد …

Leave a Reply

Your email address will not be published.