وادی اُڑک ، ولی تنگی ڈیم اور ہنہ جھیل

رپورٹ: فرخ شہزاد ، کوئٹہ

پاکستان اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ایک خُوب صُورت مُلک ہے ، جو ہر طرح کے قدرتی مناظر سے مالا مال ہے۔ گرچہ رقبے کے اعتبار سے مُلک کے سب سے بلوچستان میں سیّاحت کو زیادہ فروغ سکا ، لیکان یہاں ایسے یمکششا ہیںاں ایسے یمکششو ن ہیںمجو د مواد ن ہیںماواد جمجواد ہیںمجواد پمجواد ہیںمجواد پمجو ن ہیںمجواد پمجو د مجو د پمجو د مجو د ملک کے دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے بیش تر افراد بلوچستان تفریحی مقامات میں سے صرف زیارت ہیں, حالاں کہ کوئٹہ, خضدار, کچھی, گنداوا اور قلات میں بھی کئی دیدہ مقامات موجود ہیں. اگر کوئٹہ کے تفریحی مقامات کی بات کی جائے ، تو وادیٔ اُڑک کے صُورت مقامات ، ولی تےنگی ڈیم اور ہنّہ جھیل ّہ وادیٔ اُڑک کی ہنّہ جھیل قدرتی حُسن کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔ اس کے مشرق میں کوہِ زرغون ہے۔ نیز ، یہیں سے جونیپر کے جنگلات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ، جو زیارت تک پھیلا ہوا ہے۔ پھلوں کے باغات سے آراستہ اس وادی کے بیچوں بیچ بخش, ہنہ ندی رواں دواں ہے, جس کا ہنہ جھیل میں جمع ہے اور جب اوٹ سے ہنہ, تو اس کی کرنیں نیلگوں پانی میں سنہرا رنگ بھر دیتی ہیں. وادیٔ اُڑک میں ولی تنگی کے نام سے مشہور ایک چھوٹا سا ڈیم بھی واقع ہے۔ یہ کوئٹہ سے 20 کلو میٹر کے فاصلے پر مشرق میں سطحِ سمندر سے 8,350 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ ولی تنگی ڈیم 1960 ء میں پاک فوج نے کوئٹہ اور وادیٔ اُڑک کو پانی کی ترسیل کے لیے تعمیر کیا تھا۔ یہاں روزانہ ہزاروں سیّاح آتے ہیں اور اکثر مقامات پر مختلف کھانے تیار کرتےیا خوشی سے جھومتے گادےا ، رقصت کرتے د د

گرچہ ہنّہ جھیل کی تاریخ کے حوالے سے کوئی مستند حوالہ دست یاب نہیں۔ تاہم ، کہا جاتا ہے کہ پہاڑوں پر پگھلنے والی برف بارش کے پانی کو ذخیرہ کر کے میں پانی کی ض رویاااا روی ی کی بند کی تعمیر 1901 ء میں شروع ہوئی اور 1908 ء میں اس کی تکمیل کے بعد اسے جھیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ بند کے ساتھ ہی موجودہ کلی حاجی عطا محمد کے پر ایک ہیڈ ورکس بھی تعمیر کیا گیا ، جسے ” سرپل ” کہا جاتا ہے۔ یہاں سے تقریباً ایک کلو میٹر طویل نہر کے ذریعے ہنّہ ندی کا پانی جھیل تک پہنچانے کا انتظام کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ہیڈ ورکس پر برطانوی مقامی مزدوروں سے ادائیگی کا کیا, اس کے تحت کے دوران نماز ادا والے مزدوروں کو نماز کرنے والے مزدوروں کے مقابلے میں, لیکن ادائیگی کے وقت بے نمازی مزدوروں کی اجرت سے 50 پیسے کاٹ لیے گئے. ہنّہ جھیل کے نام کے حوالے سے بھی متضاد روایات ہیں۔ بعض دستاویزات کے مطابق, یہ جھیل برطانوی جنرل, جیک اینڈرسن بیگم کے نام سے منسوب ہے, جب کہ مقامی باشندوں کے مطابق, ہنہ میں واقع وجہ سے وادی کا ذکر, احمد شاہ ابدالی کے زمانے کی تاریخ میں بھی موجود ہے. برطانوی حکومت نے ہنّہ ندی سے پائپ لائن کے ذریعے چھائونی کو پانی مہیا کیا تھا اور پائپ لائا ۔ا ذکا لائم ما ذکر نلوگزیٹید بر ت ب ماضی میں ہنّہ ندی کوئٹہ کے مضافات میں واقع ، نواں کلی سے ملحقہ کلی کوٹوال اور کلی شار میں موھی۔وا با غاف بتکو با غات تکو سغ ندی کے ارد گرد 20 سے 25 آٹے کی چکّیاں بھی موجود تھیں ، جو کوئٹہ کے عوام کی آٹے کی ضروریات پوری ککیی تھیں اچکّیور زیدہ تر کید

ہنّہ جھیل 818 ایکڑ پر محیط اور 49 فٹ گہری ہے اور اس میں کم و بیش 22 کروڑ 20 لاکھ گیلن پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں سیّاحوں کے لیے واٹر اسپورٹس کی سہولتیں اور جھیل کی سیر سے لطف اندوز ہونے کے لیے کشتیاں بھی موجود ہیں۔ ہنّہ جھیل اور وادیٔ اُڑک کے قدرتی نظّاروں کو دیکھنے کے بعد عقلِ انسانی اپنے پروردگار کے جمالیاہےا پر دنگت ج ہ جھیل کی چاروں جانب بلند و بالا پہاڑ واقع ہیں ، جن کے درمیان یہ ایک بہت بڑے پیالے کی مانند دِکھائی دیتی ہے۔ موسمِ سرما میں ہونے والی بارشوں اور برف باری کی بہ دولت یہ سال پانی سے بَھری ہاغاج ، یباا اا ن توکھی پھیبا ن توکھی تر یوں اس جھیل کو سیّاحت کے علاوہ زراعت اور باغ بانی کے لحاظ سے بھی اہمیت حاصل ہے۔ گرچہ ہنّہ جھیل ، مشہور جھیل سیف الملوک سے ملتی جلتی ہے ، لیکن اس کے گرد سبزے سے ڈھکے پہاڑ موجود نہیں۔ تاہم ، اس کمی کو پورا کرنے کے لیے جھیل کی گئی ہے اور یہاں کافی میں کوئٹہ پائن ، چنار اور کے درختہوںد کے عجا ب در.

ہنہ جھیل کے درمیان ایک ٹیلے نما چھوٹا سا مصنوعی بھی بنایا گیا ہے اور اس کی پر نگرانی کے لیے سی عمارت تعمیر کی جس کے نتیجے میں جھیل کی خوب صورتی گیا سڑک اور جھیل کے درمیان ایک جنگلا نصب کیا گیا ہے. اصل جھیل سڑک سے تقریباً 30 فٹ نیچے واقع ہے اور سڑک اور جھیل کے درمیان موجود ڈھلوان سطح پر سیّاحوں پخاہاا سیّاحوں کےایا ن سیڑھیایڑھی ، د ہنّہ جھیل کو ایک قدرتی سیر گاہ اور سیّاحتی مرکز کے طور پر ترقّی دینے کے لیے فوج کی نگرانی میں یہاںااایک اقّید یر تطہ اس ادارے نے سیّاحوں کو سہولتیں فراہم کرنے کے علاوہ جھیل کا بھی خصوصی انتظام صفا ااور اٹیا ل ل کےاد ذرع ٹیلورن یوں غرقابی کا خطرہ ختم ہو گیا اور جھیل ، پیراکی کا شوق رکھنے والوں کی توجّہ کا مرکز بن گئی۔

جھیل میں کشتی رانی کا انتظام کیا نجی جائے ترقّیاتی ادارے ہی کے موٹر بوٹس چلائی ، جو جزیرے کی. سیر. جھیل پر ہر موسم میں سیّاحوں کا ہجوم رہتا ہے۔ موسمِ گرما میں سیّاح یہاں نسبتاً سرد اور خوش گوار سے لطف اندوز ہونے کے لیے آتے ہیں ، کہ ڑھ ب ب

بارشیں معمول سے کم ہونے اور خشک سالی کےباعث تقریباً ایک سال قبل ہنّہ جھیل خشک ہو گئی تھی۔ تاہم, امسال مارچ اور اپریل کے دوران وادی میں بارش سلسلہ شروع ہونے کے بعد جھیل دوبارہ پانی سے گئی ہے, جس پر سیر کےشوقین افراد اور واٹر اسپورٹس کےکھلاڑیوں میں کی لہر دوڑ گئی. ان افراد کا کہنا ہے کہ جھیل میں پانی بَھرنے سے مقامی سیّاحت فروغ ملے گا اور اس کا اثر علاقے کے ماح ر ب ھی ماحول پر ب جھیل میں پانی بَھرنے کے سبب سائبیریا سے پرندوں کی آمد کا سلسلہ دوبارہ شروکع ہو گیا اور جھیل میںاہےا ال مکی ںمب مل یھیوں کی ب واٹر اسپورٹس اکیڈمی سے تعلق رکھنے والے ، حیات اللہ دُرّانی کہتے ‘خشک ہونے سے یہاں وٹٹر اب ا اا ا تاہم, جھیل میں پانی بھرنے سے واٹر اسپورٹس کا سلسلہ ہو جائے گا. ” ہنہ جھیل میں سیاحوں کے ہجوم بنا پر یہاں کی جانے سرمایہ کاری منافع ثابت ہو سکتی ہے, جانب توجہ نہیں دی گئی.

اب ہنہ جھیل پر, آنے والے سیاحوں کے لیے ہوٹل قیام عمل میں آچکا ہے اور بچوں کے نہایت عمدہ تفریحی پارکس قیام کے علاوہ جھولے بھی کے گاہ اور اچھے سیاحتی مرکز کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے, جس کے باعث یہاں سیاحوں آمد میں بھی کئی گُنا اضافہ ہو گیا ہے۔ تاہم ، اسے مزید ترقّی دینے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔ خیال رہے کہ تقریباً ہر فرد ہی اس پُر فضا مقام پر قیام کا خواہش مند نظر آتا ہے۔ لہٰذا ، اگر سیّاحوں کے لیے یہاں ایک بڑا ہوٹل یا چند کاٹیجز تعمیر کر دیے جائیں ، تو جھیل چار چاند لگ جائیں گے۔ یہاں دن رات سیّاحوں کا ہجوم لگا رہے گا اور کوئٹہ کے کو بھی ایک ایسا شان دار پک۔نک پوائنٹ کہ جہاں او اپکت تر ہنّہ جھیل کے ترقّیاتی ادارے نے جس توجّہ اور سرگرمی اس مقام کو ترقّی دی ہے ، کی رشنی میں امید کی فاوکی امب دوکی ب

جھیل کی سیر کے لیے آئے ساجد علی نامی نوجوان نے بتایا کہ ‘ایک طویل عرصے سے بد امنی کا ہار ہے ، قا ہار ہے ، عسکری حُکّام اور حکومت کی جانب سے ولی تنگی ڈیم کی جانب جانے والے راستے کو عام شہریوں لیے کھولنا مثبت قاقد اد مَیں یہ تجویز دینا چاہتا ہوں کہ ولی تنگی کی جانب راستے کو تفریحی پارک میں بدل جائے ، جس سے ن ‘خو تف (عکّاسی: یاسر خان جدون)



About admin

Check Also

سونے ، چاندی اور تانبے کا شہر کھنڈرات میں کیسے تبدیل ہوا؟

فیصل میمن مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے, ٹوٹی لال کے ظروف کر نگاہیں وادی سندھ …

Leave a Reply

Your email address will not be published.