نیلم منیر… رانگ نمبر نہیں، رائٹ نمبر ہے

کسی بھی فلم کا اسکرپٹ جاندار اور اس کی کاسٹ شاندا ر ہوتو اسے ہٹ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایساہی جیو فلمز کی پیش کش ”رانگ نمبر 2” کے ساتھ ہوا ہے، جس میں اداکارہ نیلم منیر انگوٹھی میں ” نیلم” کی طرح فٹ نظر آئیں۔ نیلم اس فلم کی کامیابی پر بہت خوش ہیں اور بقول نیلم فلم نے ان کے مستقبل کی سمت کا وہ مزید اچھے کرداروں والی فلمیں کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ نیلم کا کہنا ہے کہ اگر معیاری اسکرپٹ کو معیار بنا کر فلمیں بنائی جائیں تو کو عروج پر پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

فلم اور ڈرامہ انڈسٹری میں جو آپ کو اپنی اداکاری سے رُلادے ، اداکارہ تسلیم کرلیا جاتا ہے اور نیلم منیر اپنی اداکاری دوسروں کو متاثر کرنے میں کامیاب رہی ایسے میں یہ برملا کہا جاسکتاہے کہ انڈسٹری کو ایک باصلاحیت اداکارہ مل گئی ہے جسے آپ آنکھ کرکے اپنی فلم میں کرسکتے ہیں لیکن اس کیلئے جاندار اسکرپٹ کو یقینی بنانا

‘رانگ نمبر 2’ کا اسکرپٹ جب نیلم کو ملا انھیں اپنےکردار میں اداکاری کا بہت اسکوپ نظر آیا، کیونکہ فلم کامیڈی، رومانس ڈانس اور جذبات سے بھر تھی ۔اس میں تعبیر چاہئے تھی اور فلم ایک رانگ نمبر پر ختم ہو جاتی ہے۔

نیلم منیر اس سے قبل سمیع کے میں اور فلم میں بھی ان کی اس فلم کے اور مسالہ مہند ی اور ڈانس والا فلم بینوں کو بہت پسند آیا۔ اگرچہ کہ یہ کوئی آئٹم سونگ نہیں تھا ، لیکن نیلم کے ڈانس نے اسے اسپیشل بنادیا۔ اس فلم میں نیلم اپنی پرفارمنس سے بہت خوش ہیں اور فلم کی کامیابی نے ان کی خوشی کو دو چند کردیا ہے۔

نیلم منیر... رانگ نمبر نہیں، رائٹ نمبر ہے

رانگ نمبر ون میں نیلم منیر نہیں تھیں،لیکن ایک کامیاب فلم کے سیکیول میں کام کرنے کا پریشر نیلم نے نہیں لیا۔ نیلم کا اس بابت کہنا ہے کہ بحیثیت ایک اداکارہ ان کا کام پرفارم کرنا ہے ۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ فلم کا نمبر کیا ہے۔ وہ ایک فلم کے لیے اسی وقت ‘ہاں’ کرتی ہیں جب فلم کا اسکرپٹ جاندار اور کردار مضبوط ہو ۔

نیلم اس سے قبل فلم ”چھپن چھپائی” میں کام کرچکی ہیں اوران کی آنے والی فلم کا نام ” کاف کنگنا” ہے ۔

فلم اور ڈرامہ، دونوں میڈیم میں بیک وقت کام کرنے اور کسی میڈیم کو ترجیح دینے سے نیلم منیر کا کہنا ہے کہ، ‘ تو یہ ہے کہ دونو ں میڈیم ہیں ۔ میں تھیٹر، ٹی وی اور فلم کیلئے دستیاب ہوں ،لیکن شرط یہ ہے کہ اسکرپٹ اچھا ہو۔ ہمارے ملک میں ڈرامہ انڈسٹری مستحکم ہے اور جاتاہے اس لیے یہاں پہچان بنانا قدرے آسان ، جہاں تک فلم کا ہے ، ہم وقت ساتھ بہتر ہے ہوگا”۔

بالی ووڈ کیلئے ہاں یا ناں میں سے نیلم ‘ کہتی ہیں، ‘ وطن میں اور کے سے پیار ملا کر کام کرنے کی نہیں ہوئی۔ میں پاکستان میں پیدا ہوئی اور ہمیشہ یہیں رہنا چاہتی ہوں اور کہیں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ مجھے اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہے ”۔

اس حوالے سے نیلم منیرنے مزیدلب کشائی کی ،” ٹی وی اور فلم کے میڈیم میں کام کرنے والے اداکاروں کے بجائے صرف پاکستانی سمجھا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ ٹی وی کے فنکاروں نے فلم انڈسٹری کو اپنی عمدہ اور شاندار پرفارمنس سے ہمیشہ مقبولیت دلوائی ہے۔ اس وقت بھی ٹی وی فنکا رعمدہ پرفارم کررہے ہیں۔ میری پہچان چونکہ ٹی وی ہے اس لئے فلموں کے ساتھ ساتھ ڈراموں میں بھی اداکاری کا سلسلہ جاری رکھوں گی۔ پاکستان فلم انڈسٹری کے اچھے دن شروع ہوچکے ہیں۔ وہ فنکار جویکسانیت اور ایک جیسے موضوعات پر بننے والی فلموں سے مایوس کر دور چلے گئے تھے وہ واپس لوٹنے لگے ہیں”۔

اداکارہ وماڈل نیلم منیر خان 20. 1992 کو کراچی میں پیدا پیدا اسی شہر میں تعلیم حاصل کی۔ نیلم کو مطالعہ اور ڈرائیونگ کا شوق ہے۔اردو ، سندھی اور انگریزی روانی سے بولتی ہیں۔چائنیز فوڈ غذا ہے۔کھیلوں میں باسکٹ بال اور کرکٹ پسندہیں ۔ فرصت کے لمحات میں پرانے ٹی ڈرامے اور پرانی فلمیں دیکھتی ہیں یا موسیقی سے دل بہلاتی ہیں۔ پسندیدہ اداکارائوں میں ثانیہ سعید اور بشریٰ انصاری کو سرفہرست رکھتی ہیں ، جبکہ اداکاروں میں فیصل ہمایوں سعید اور عدنان صدیقی کی معترف ہیں۔

نیلم نے اپنے کیریئر کا آغاز پی ٹی وی کے ڈرامے ” تھوڑا سا آسمان” سے کیا۔ اس کے بعد 2011ء میں ابتدا ئی ڈراموں میں سے جیو کے ڈرامے ”جل پری ” سے پہچان بنائی۔ اس کے علاوہ میری بہن مایا، (2011)، اشک (2012) میری صبح کا ستارہ (2013) ، کیوں ہے تُو(2014)، دلِ عشق (2015) ، کیسے ہوئے بے نام (2015)، بوجھ (2015)، تیرے (2017)، اُمّ ِ ہانیہ (2018) میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں۔



About admin

Check Also

’میکال ذوالفقار‘ باصلاحیت ماڈل و اداکار

پاکستان شوبز انڈسٹری کے چارمنگ بوائے میکال ذوالفقار نے کیریئر کا آغاز ماڈلنگ سے کیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published.