نریش کمار شاد کے لطیفے

نریش کمار شاد

چند اردو ادیب ایک جگہ بیٹھے فکر تونسوی کا ذکر کررہے تھے۔ ایک نے کہا: ” فکر صاحب کے طنزیہ مضامین, کی زندگی کے نہایت سنجیدہ مسائل پر فکر کی دعوت ہیں. ” دوسرے نے تائید کرتے ہوئے کہا: ” یہی وجہ ہے کہ ان کی طنزیہ تحریروں میں بہت زندگی ہوتی. ‘ تیسرا بولا: ”. فکر صاحب, شکل و کے اعتبار سے بھی انسانی زندگی پر ایک کاری طنز ہیں ” نریش کمار نے اس گفتگو میں فکر, زندگی کے الفاظ جب بار بار سنے اس وقت ایک کہہ کر سنادیا:

لوگ جب شرم سار ہوتے ہیں

خود بھی یہ شرم سار ہوتی ہے

زندگی ، فکر تونسوی کی طرح

طنز کرتی ہے اور روتی ہے

**************

ریلوے کلب بٹھنڈہ کے ایک مشاعرے میں درد نکودری اپنا کلام سنا رہے تھے ، جنہیں سامعین نے واجبی سی دا د کے سنا ان کے بعد جب نریش کمار شاد کو دعوت سخن دی گئی تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ شاد جھومتے لہکتے مائیک کی طرف بڑھتے ہوئے درد صاحب کی طرف یوں طعنہ زن ہوئے:

” کیسے کیسے پھیکے شاعروں کو بلالیتے ہیں۔ ”

سامعین میں سے ایک آواز بلند ہوئی ……. ” درد ، تمہارا باپ ہے۔ ”

شاد نے برجستہ جواب دیا:

” جی ہاں! یہی تو میرا درد ہے کہ آپ میرے والد ہیں۔ اسی پہچان سے تو مشاعروں میں بلائے جاتے ہیں۔ ” پورا مجمع بے اختیار ہنس پڑا۔

**************

مودود صدیقی نے امروہہ میں مشاعرے کےسلسلے میں نریش کمار شاد اور چند دوسرے شعرا کو مدعو کیا۔ مقررہ جگہ پر جب شعرا پہنچے تو وہاں کھانے اور رہائش کا مناسب انتظام نہیں تھا۔ کافی دیر تک انتظار کرنے پر بھی منتظمین میں سے کوئی نہ پہنچا۔ شعرا پیچ و تاب کھارے تھے۔ اتنے میں مودود صدیقی کے ہم شکل بھائی ، فہمود علی سامنے سے گزرتے ہوئے دکھائی دئیے۔ نریش کمار شاد نے بڑھ کر انہیں پکڑ لیا اور برا بھلا کہنا کردیا ، حالانکہ وہ مس۔لسل کہتا رہ ا کہ بھائی نہیں مودود

نریش کمار شاد بولے:

” ارے تُو کیا سمجھتا ہے ، میں نے شراب پی رکھی ہے ، جو تجھے پہچاننے میں غلطی کروں گا۔ ”

**************

بسمل شاہجہانپوری اپنی ریشِ مبارک کو کھجاتے ہوئے نریش کمار شاد سے کہنے لگے:

” صاحب! میں اپنا دیوان شائع کرانا چاہتا ہوں ، لیکن پریشانی یہ ہے کہ اس کے لیے مناسب نام نہیں سوجھ رہا۔ اپنے تخلص کی رعایت سے مجموعے کا نام رکھنا چاہتا ہوں ، جیسے فانی کے مجموعے کا نام ” باقیات فانی ” ہے۔ مخمور دہلوی کے مجموعے کا نام ” بادئہ مخمور ” ہے ، جوش ملسیانی کے مجموعے کا نام ” بادۂ سروش ” ہے۔ ”

شاد نے نہایت نیاز مندی سے دریافت کیا:

” اس لحاظ سے آپ کی کتاب کا نام ” مرغِ بسمل ” کیسا رہے گا؟ ”



About admin

Check Also

ادب پارے

سید ضمیر جعفری ایک تقریب میں پاکستان کے فوجی حکمراں ، جنرل ضیاء الحق کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published.