میدانِ کربلا میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا تاریخ ساز کردار

مولانا حافظ عبد الرحمان سلفی

ہجری سال اور قمری مہینوں میں سال کی ابتداء محرم کے کے سے ہو تی ہے ، مقدس مہینے کی عظمت ابتوم ائے ہے۔م س ابتجہد ا ہے۔م سح سر مر ت اس لئے محرم سمیت چاروں حرمت والے مہینے اﷲ کے نزدیک حرمت اور تعظیم کے لائق ہیں۔ ان میں خصوصیت سے اﷲ تعالیٰ کے احکام کے خلاف کوئی کام نہیں کرنا چاہئے ، ابتدائے سے ماہ محرم الہیر مم کو حل ل رو و کو عظمت و و اسلامی تاریخ میں واقعۂ کربلا سے اس ماہ مقدس کو خاص اہمیت حاصل گئی اور اس واقعے نے اسلام او ما اسلا م ر دور تر سر تر تر تر در تر در تر بادو

تاریخی روایات کے مطابق سیدنا حسین االله تعالی اہل کوفہ کے پر مدینے سے مکہ اور کوفہ کی جانب روانہ ہو کہ حج کا تھا اور آپ نے حج سے تبدیل کر اہل مدینہ و مکہ میں سے صاحب آپ کو کو فہ کی فطری جبلت سے ہوئے باور کرایا کہ لوگ انہوں نے ؓ حسن ؓ کے کی تھی۔ سیدنا عبد االله بن عمر ابن عبد, عبد االله بن جعفر نے آپ کو کے سفر بن عقیل شہید کر دئیے تھے اور اہل کوفہ کے جن ہزاروں لوگوں نے حمایت پر بیعت کی تھی, وہ منحرف ہو تھے, تاہم سیدنا حسین بن علی نے اپنا سفر جاری رکھا۔ سیدنا عبد اﷲ بن عباس ؓ نے آپ کو روکنے سے ناکامی کہ اچھا ، اگر آپ کو جانا ہی خاود ۔لے جائیں ، بور لے ا ،چ ور توا بور تو نور ،، ور توک بور وک ہب مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ کو بھی حضرت عثمان ؓ کی طرح بچوں اور عورتوں کے سامنے شہید کر دیا جائے۔ بعد میں جب کربلا کے میدان آپ کے کو شہید کر آپ کی شہادت کا وقت آپ کے اہل و عیال سے باہر نکل جزع فزع کرنے لآئیت یع کرنے نصیحت ت

بہر کیف سیدنا حسین ؓ عازم کو فہ ہوئے اور متعدد مقامات پر ڈالتے ہوئے ۲ محرمم ۶۱ ہجری ککو مآپ کا قافلہ زوید اا ن ن کربلد ا افلہ ککوید ز سیدنا حسین ؓ نے اپنے تمام ساتھیوں کو جمع کیا اور حسب ذیل خطبہ دیا۔

میں اﷲ کی حمد و ستائش کر تا ہوں اور مصیبت و راحت ، ہر حال میں اس کاشکر گزار ہوں۔ اے اﷲ ، میں تیری ستائش کر تا ہوں کہ تونے ہمارے خاندان کو نبوت کی نعمت سے سر فراز کیا۔ ہمیں کان دیے ، تا کہ ہم تیری باتیں سن سکیں۔ آنکھیں دیں ، تاکہ تیرے انعامات ملاحظہ کر سکیں اور دل دیا تاکہ ہم غور و فکر سے کام لے سکیں۔ تو نے ہمیں قرآن کا علم دیا اور ہمیں دین کی فراست عطا کی۔ اب تو ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرما۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے زیادہ وفادار اور نیک ساتھی کہیں نہیں دیکھے اور اپنے اہل بیتؓ زیادہ یکل۔وکار اادہ کہیںلیکوکار ااود صل ن رحم کل تن ر ہاود صل ن ترحم کلہ تور کلہ تن یر کاود صلہ ترن اے اﷲ ، ان سب کو جزائے خیر دے۔ بعد ازاں ساتھیوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: تم نے ہم سے نیکی کی اور ہماری مدد کی۔ کل کا دن میرے اور دشمنوں کے درمیان آخری فیصلے کا ہے۔ انہیں صرف میری ضرورت ہے ، اس لئے میں تمہیں بخوشی واپسی کی اجازت دیتا ہوں۔ میری طرف سے کوئی شکایت نہ ہو گی۔ رات ہو چکی ہے, تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ادھر چلے جائو اور اپنی جانوں ہلاکت سے بچائو, یہ سن کر کے بھائیوں, بیٹوں, بھتیجوں اور ساتھیوں نے یک زبان ہو کر کہا. ” ہم آپ کے بعد زندہ رہ کر کیا کریں گے ؟ اﷲ ہمیں اس دن کے لیے باقی نہ رکھے۔ ساتھیوں اور رشتے داروں کے جذبۂ جاںنثاری کو دیکھتے ہوئے آپ نے جنگ کی تیاری کا حکم دیا۔ سیدنا زین العابدین علی بن حسین روایت کرتے ہیں کہ ” اس رات جس کی صبح میرے بابا شہید ہوئے, میں بیمار اور میری پھوپھی زینب میری تیمار داری رہی خیمے میں ابو ذر غفاری کے غلام آپ کی تلوار صاف کر رہے تھے اور میرے والد شعر پڑھ رہے تھے۔ اے زمانے! تجھ پر افسوس! تو کیسا بے وفا دوست ہے۔ صبح و شام تیرے ہاتھوں کتنے لوگ مار ے جاتے ہیں! زمانہ کسی کی رعایت نہیں کر تا اور کسی سے کوئی عوض قبول نہیں کر تا۔ اب سارا معاملہ اﷲ کے ہاتھ میں ہے اور ہر موت راہ پر چلا جا رہا ہے ، کر سیدہ زینبؓ ہوئی آپ کے پ اس کہ اور ل آج موت میری زندگی کا خاتمہ کر دیتی۔ میری والدہ فاطمہ ؓ ، والد علیؓ اور بھائی حسنؓ باقی نہ رہے۔ اب آپ ہی ان کے جانشین اور ہمارے محافظ رہ گئے ہیں۔ جزع فزع سن کر سیدنا حسین ؓ نے بہن کی طرف دیکھا اور فرمایا۔ اے بہن ، اپنے حلم اور وقار کوقائم رکھو۔ بہن اﷲ سے ڈرو اور اﷲ سے تسکین حاصل کرو۔ اچھی طرح جان لو کہ تمام اہل زمین مر جائیں گے اور اﷲ کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ اے میری بہن! میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ جب میں مرجائوں تو گریبان چاک نہ کرنا ، اپنا چہرہ نہ نوچنا نہ آہ و بکا کرنا۔ میرے اور ہر مسلمان کے لیے رسول اﷲ ﷺ کی ذات نمونہ ہے۔ تم اسی نمونے سے صبر حاصل کرو۔ بعد ازاں اپنے مختصر لشکر کو جنگی ہدایات دے کر آپ خیمے میں لائے اور ساری رات نماز پڑھنے او جر یعا و یںگزن م دعا یںرن مر در آپ کے تمام ساتھی بھی رات بھر اﷲ کے حضور کھڑے رہے استغفار کر تے رہے ، جب فریق مخالف کے گھوڑے ب

10 محرم الحرام کی خون آلود صبح افق پر نمودار نماز فجر کے بعد سیدنا حسین ؓ نے اپنے ساتھیوں کی صف بندی کی۔ مختصر سپاہ کے ساتھ آپ میدان کربلا میں صف آرا ہوئے۔ اس موقع پر لڑائی شروع ہونے سے پہلے سیدنا حسین ؓ نے مخالف لشکر سے تاریخی خطاب فرمایا۔ نے رب تعالیٰ کی وثناء کے بعد: لوگو! جلدی نہ کرو۔ پہلے میری بات سن لو۔ مجھ پر تمہیں سمجھانے کا جو حق ہے ، اسے پورا کر لینے دو اور میرے آنے کی وجہ بھی سن لو۔ اگر تم میرا عذر قبول کرلو گے اور مجھ سے انصاف کرو گے تم انتہائی خوش بخت انسان ہو گے, لیکن اگر تم کے لیے تیار نہ ہوئے تو تمہاری تم اور تمہارے شریک سب مل کر میرے خلاف زور لگا لو اور مجھ سے جو برتائو کرنا چاہتے ہو کر ڈالو۔ میرا کار ساز ہے وہی اپنے نیک بندوں کی مدد کر تا ہے اور پھر فرمایا ۔لوگو! تم میرے حسب و نسب پر غور کر و اور دیکھو کہ میں کون ہوں۔ اپنے گریبانوں میں منہ ڈالو اور اپنے آپ کو ملامت کرو۔ تم خیال کرو ، کیا تمہیں میرا قتل اور میری توہین زیب دیتی ہے؟ کیا میں تمہارے نبی ﷺ کا نواسہ نہیں؟ کیا سید الشہداء حمزہ ؓ میرے والد کے چچا نہیں تھے؟ کیا جعفر طیار ؓ میرے چچا نہیںتھے؟ کیا تمہیں رسول اﷲﷺ کا وہ قول یاد نہیں جو انہوں نے میرے میرے بھائی (حسن ؓ) کے متعلق ففاا کےجا ن سن ندوں ن یہ سن ند اگر میرا یہ بیان سچا ہے اور ضرور سچا جب سے مجھے یہ معلوم ہوا بولنے والے پر اﷲ ہویتا ہے ، اس تک میں تلوا? اور اگر تم مجھے جھوٹا سمجھتے ہو تو آج بھی تم میں وہ لوگ موجود ہیں۔ جنہوں نے میرے متعلق رسول اﷲﷺکی حدیث سنی ہے۔ تم ان سے دریافت کر سکتے ہو۔ تم مجھے بتائو کہ کیا آپﷺ کی اس حدیث کی موجودگی میں بھی تم میرا خون بہانے سے بازنہیں رہ سکتے۔ آپ کے خطبے پر اثر کے باوجود بعض مائل بہ جنگ افراد نے لڑنے کا فیصلہ کرلیا آپ کی پیشکشوں کو بھی رد کر دیا۔

انہوں نے سمجھا کہ رسول االله ﷺ کے نواسے کو کرنے کا یہ موقع دوبارہ ہاتھ نہ آئے لہذا اسے ہاتھ سے نہیں چاہئے, مخالفین سے حر پر صفوں میں آملا .جس نے آپ کو مکہ واپسی سے روکا تھا اور کربلا کے میدان میں محصور کر دیا تھا۔ اس نے سالار لشکر عمر و بن سعد سے کہا ” اﷲ تمہیں ہدایت دے ، کیا تم اس انسان ۔سے گے گے ”؟ اگ ،وا ڑ ”؟ اگ س نے جو ب ودی س،وا ڑو ب ودی حر نے جواب دیا یہ جنت دوزخ موقع ہے جنت کا انتخاب کر لیا, خواہ مجھے ٹکڑے ٹکڑے جائے, اس نے سیدنا سے کیا, بعد ازاں معرکہ ہوا اور فریقین میں گھمسان ​​کا قافلہ حسینی وفادار یکے بعد دیگرے اپنی جانیں ہوئے راہ وفا میں ہو گئے ، خود نواسہ رسول ﷺتیروں کی بوچھاڑ میں داد شجاعت دیتے ہوئے شہادت کی مےنزل عبشہور ک میںر عے ہود س ب تتر عے ہود سر سر عت بو س ب کسف ب



About admin

Check Also

شہیدِ منبرومحراب سیدناعمربن خطاب رضی اللہ عنہ

محمد عبدالمتعالی نعمان امیر المومنین, خلیفہ دوم, مراد پیمبر, عشرۂ مبشرہ کے بزم فاروق اعظم, …

Leave a Reply

Your email address will not be published.